254

چاند کی تسخیر ۔۔۔ (رانا احمد رضاخان)

تحریر: رانا احمد رضا خاں

دفاعی مقاصد چاند اور خلا کی تسخیر کا صرف ایک پہلو ہے عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہےکہ شائد چاند پر جانے کا مقصد مستقبل میں ایک متبادل کے طور پر وہاں پر انسانی بستیاں بسانا ہے یہ خیال مکمل طور پر ایک غلط فہمی پر مشتمل ہے۔ دن کے وقت چاند کا درجہ حرارت 130 ڈگری اور رات کے وقت منفی 153 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے چاند پر آکسیجن موجود نہیں۔ ان حالات میں معمول کی انسانی بستیاں بنا کر وہاں رہنا قطعی طور پر ناممکن ہے

اس وقت چاند پر جانے کا سب سے بڑا مقصد ہیلیئم تھری گیس کا حصول ہے 1985 میں یہ دریافت ہوا کہ چاند کی سطح سے صرف دس فٹ نیچے والی مٹی میں یہ گیس بارہ لاکھ ملین ٹن سے زیادہ مقدار میں موجود ہے چاند کی مٹی کو چھ سو ڈگری تک گرم کر کے ہیلیئم تھری گیس حاصل کی جا سکے گی ۔ یہ گیس زمین پر تقریبا ناں ہونے کے برابر ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کی دیکھ بھال کے دوران ایک اضافی پیداور کے طور پر صرف پندرہ کلو سالانہ حاصل ہوتی ہے جو کہ اسے حاصل کرنے کا ایک انتہائی مہنگا اور نا قابل عمل طریقہ ہے۔

ہیلیئم تھری گیس سورج سے خارج ہوتی ہے اور اربوں سالوں سے چاند کی سطح اسے جزب کر رہی ہے لیکن یہ گیس قدرتی طور پرسورج سے زمین پر نہیں پہنچ پاتی۔

ہیلیئم تھری گیس تابکار مادوں کی اضافی پیداوار کے بغیر صاف ایٹمی بجلی پیدا کرنے کے لیے ایٹمی ری ایکٹر میں بطور ایندھن استعمال ہوگی ۔ موجودہ رائج طریقوں سے ایٹمی بجلی پیدا کرنے کے دوران خطرناک تابکار مادے بھی اضافی پیداوار کے طور پر حاصل ہوتے ہیں جنہیں انتہائی احتیاط سے زیر زمین بنائے گئے سٹور ہاؤسز میں رکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔

صرف 25 ٹن ہیلیئم تھری گیس اتنی بجلی پیدا کرے گی کہ اس سے پورے امریکہ کی ایک سال کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ چاند پر موجود ہیلیئم تھری گیس سے دس ہزار سال تک پوری دنیا کی انرجی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق دس لاکھ ٹن چاند کی مٹی کو نکال کر اسے پراسس کرنے کے بعد 70 ٹن ہیلیئم تھری گیس حاصل ہوگی۔ جو کہ بہر حال ایک کٹھن کام ہے۔ ہیلیئم تھری گیس استعمال کرنے والے ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر شروع ہو چکی ہے جو کہ 2035 تک مکمل ہو جائے گی۔۔

خلائی ادارے ناسا کے مطابق چاند کے شمالی قطب پر چھ سو میٹرک ٹن سے زیادہ برف موجود ہے۔
موجودہ وقت میں راکٹ کو خلا میں بھیجتے وقت سب سے بڑا مسئلہ اس میں استعمال ہو نے والے ایندھن کا ہوتا ہے اور راکٹ کا نوے فیصد حصہ ایندھن پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور راکٹ کو واپسی کا ایندھن بھی ساتھ لے کر جانا پڑتا ہے۔

چاند پر موجود برف کو پانی میں تبدیل کر کے اسے توڑ کر مائع ہائیڈروجن اور مائع آکسیجن حاصل ہو گی یہ گیسیں راکٹ کے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہیں ۔۔چاند پر راکٹ کا ایندھن موجود ہونے سے زمین سے چاند پر جانے والے راکٹ کو واپسی کا ایندھن ساتھ نہیں لے جانا پڑے گا۔۔اور اگر کوئی مشن چاند سے آگے جانا چاہے گا تو چاند سے مزید ایندھن لے کر آگے روانہ ہو سکے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ چاند پر ایک گیس سٹیشن بنایا جا سکتا ہے اور جو ملک اس میں پہلے کامیاب ہو گیا اس ملک کی نظام شمسی میں اجارہ داری ہوگی۔

چاند پر موجود برف سے وہاں پر موجود افراد کو آکسیجن فراہم کرنا بھی ممکن ہو گا۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا 2025 تک چاند کی زمین پر بیس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔۔چاند پر بیس قائم کرنے کے لیے زمین سے میٹیرئل لے کر جانا انتہائی مہنگا ، مشکل اور مضحکہ خیز ہے۔اس مقصد کے لئیے وہاں پر ایک خاص قسم کا تھری ڈی پرنٹر لے جایا جائے گا جو کہ سورج کی روشنی کی مدد سے چاند کی مٹی کا استعمال کر تے ہوئے ایک مکمل طور پر خود کار نظام کے ذریعے بیس قائم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انسان چاند کی حقیقی تسخیر اور اس سے معدنیات نکالنے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ اور آنے والا وقت ایک نئی صبح کی نوید سنا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں