88

امریکی سیاست اور بھارتی اثرورسوخ … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

امریکہ میں کانگریس میں بہت سے گروپ موجود ہیں جنھیں کاکس کہتے ہیں مثلاً ہسپانوی کاکس، سیاہ فام کاکس۔ امریکہ میں ڈیموکریٹ رہنما طاہر جاوید نے سینئر ڈیموکریٹ کانگریس وومین شیلا جیکسن لی کو چئیر پرسن بننے پر آمادہ کیا جبکہ پاک پیک کے بورڈ ممبر ڈاکٹر ادھامی نے انڈیانا سے ریپلکن کانگریس مین جم بینکس کو پاکستانی کاکس میں شامل ہونے کے لئے رضامند کرلیا اور اسطرح پاکستانی کاکس معرض وجود میں آیا۔

پھر آتا ہے اگست 2019 جس میں مقبوضہ کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کرکے کشمیریوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور اسکے فوراً بعد ستمبر 2019 اور ہیوسٹن میں ہوتا ہے “ہاؤڈی مودی” جس میں مودی اور ٹرمپ نے دوستی کا اعادہ کیا اور پچاس ہزار سے زائد انڈیننز نے شرکت کی۔ اس ایونٹ میں ڈیموکریٹ کانگریس وومین شیلا جیکسن لی نے بھی شرکت کی کیونکہ ہیوسٹن اسکا حلقہ ہے۔ اب اس شرکت کے بعد پاکستانی کمیونٹی نے پاک پیک پر طعن و تشیع کی برسات کردی اور طاہر جاوید سے بھی رنج کا اظہار کیا کہ شیلا جیکسن لی نمک حرام ہے اور اس نے پاکستانی کاکس کی سربراہ ہوکر “ہاؤڈی مودی” میں شرکت کرکے پاکستانیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شیلا جیکسن لی سے تعلقات ختم کردیں؛ آہ!!!“ہمارے پیارے جذباتی لوگ”؛ لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ شیلا جیکسن لی سے بات کرتے ہیں۔ طاہر جاوید نے شیلا کو ڈیلس دعوت دی؛ راقم نے شیلا کو ائرپورٹ سے پک کیا اور ائرپورٹ سے فنڈ ریزر کی جگہ تک اسکے موقف سے آگاہی حاصل کی؛ ہماری کمیونٹی بالخصوص ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر صبا شبنم، ڈینٹسٹ فیصل، ندیم زمان، ڈاکٹر جلیل خان، مونا کاظم شاہ، عامر قریشی، حفیظ خان، ڈاکٹر حئی (اور چند اور جنکے نام یاد نہیں آرہے)نے طاہر جاوید کے ساتھ مل کر فنڈ ریزنگ کی اور ہاؤڈی مودی کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس میٹنگ سے چند ہفتوں بعد کانگریس میں کشمیر کے اوپر ایک ہیرنگ میں شیلا نے انڈین وفد کی کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر وہ درگت بنائی کہ ان کا حال دیکھنے والا تھا۔ ہماری کمیونٹی نے بھی کچھ سکون محسوس کیا۔یو ٹیوب پر آپ یہ ہیرنگ دیکھ سکتے ہیں۔ اور آج ہماری ہی کمیونٹی کے لوگ ہمیں بائیڈن نے جو بیس انڈینز کو بڑے بڑے عہدے دئیے ہیں، کی رپورٹ وٹس ایپ پر بھیج کر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں گویا کمیونٹی لیڈروں نے بائیڈن کا ساتھ دیکر غلطی کی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم اس پر مزید ڈسکس کریں، چند سوال بہت اہم ہیں
۱- کیا کسی کانگریس مین یا وومین کو ہماری ضرورت ہے یا ہمیں انکی؟
۲- پاکستانی امریکن کب عملی سیاست میں شامل ہوئے؟ اور انڈین کب سے شامل ہیں؟
۳-آگے کیا کرنا ہے؟

قومی عملی سیاست میں یا دوست بنائے جاتے ہیں یا دشمن کو کم دشمن اور کم دشمن کو نیوٹرل بنایا جاتا ہے؛ کبھی بھی دشمن نہیں بنائے جاتے۔ یہ سیاست گلی محلہ یا کسی تنظیم کی اجڑی سیاست سے مختکف ہوتی ہے جہاں محض ناک اور دم اونچی رکھنے کے لئے لوگ پوری تنظیم کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں اور نہ ہی یہ کہ “فلانے نے یہ کیا تو میں نے بھی لعنت بھیج دی”! کئی بار سیاستدان دوسرے کیمپ میں جاکر کوئی پیغام دے رہا ہوتا ہے اور اسے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کانگریس مین کو ہماری ضرورت نہیں ہمیں ان کی ہے۔ انشاالّلہ وہ وقت آئے گا جب انھیں ہماری ضرورت ہوگی لیکن بہرحال ابھی وہ وقت نہیں آیا۔
دوسرا سوال انڈیننز کی اہم عہدوں پر تعیناتی! یہ تو نوشتہ دیوار تھا; گزشتہ کالم پڑھ لیں، اسکی پیشن گوئی کی گئی تھی؛۔ دہائیوں سے انڈیننز امریکہ کی عملی سیاست میں سرگرم ہیں؛ ہمیں تو ٹرمپ گالیاں، طعنے اور نام لے لے کر سیاست میں گھسیٹ کر لایا ہے۔ ورنہ ہم کہاں آنے والے تھے۔ اور محض چار سال ہوئے ہیں ہمیں متحرک ہوئے؛ تو کیا آخری چار دنوں میں رٹا مارنے والا طالبعلم پورا سال پڑھنے والے کے آگے نکلنے پر حیران ہوگا؟ بالکل نہیں! بلکہ اس حیرانی پر حیرانی بنتی ہے۔

آگے کیا کرنا ہے؟ تو اس سے پہلے، چلیں شکریہ ادا کرلیں ہر اس انسان اور تنظیم کا جس نے ان چار سالوں میں انتھک کام کیا۔ شکریہ ادا کرلیں پاک پیک کا، اسکے پیٹرنز، چودہ نیشنل بورڈ ممبرز اور چیپٹرز کے ساتھ ساتھ عام ممبران کا؛ شکریہ ادا کرلیں طاہر جاوید کا جس نے بلاشبہ بڑی فنڈ ریزنگ کی اور جو بائیڈن سے جتنا ہوسکا تعلقات بنانے کی کوشش کی؛ شکریہ ادا کرلیں ڈاکٹر اعجاز احمد اور انکی ٹیم کا کہ بے انتہا کام کیا اور فنڈ ریزنگ بھی کی؛ شکریہ ادا کرلیں علی راشد اور اے پی اے جی کا، اشرف قاضی کا، شاہد احمد خان کا، ڈاکٹر آصف محمود کا اور ہر اس بندے کا جو پاکستانی امریکیوں کی آواز کے لئے کام چھوڑ کر گھر سے نکلا۔

آگے کرنے کا کام ہے ہر پاکستانی امریکن کو متحرک کرنا ہے۔ پاک پیک پورے امریکہ میں چیپٹرز بنا رہی ہے تاکہ سیاسی طور پر متحرک لوگوں کو اپنے پلیٹ فارم اور ساکھ سے مقامی کانگریس مین اور سینیٹرز سے ملوایا جائے ان سے تعلق بنایا جائے۔ اگر ہوسکے تو سیاسی طور پر متحرک تنظیموں کو ماہانہ چندہ دیں؛ زیادہ نہیں تو بیس پچاس ڈالر ماہانہ۔ پاک پیک واحد پاکستانی bipartisan تنظیم ہے ایسے ہی جیسے انڈین ٹرمپ اور بائیڈن دونوں سے تعلقات رکھتے ہیں۔ نہیں تو کسی بھی پاکستانی امریکن تنظیم یا لیڈر کا جوائن کریں یا پھر خود لیڈر بنیں۔
اگلے چار سال بہت اہم ہیں؛ اگر ان چار سالوں میں پاکستانی امریکن نے سیاست میں آپکا مقام نہ بنایا تو ہم میں اور انڈیننز میں وہی فرق ہوگا جو عرب ممالک اور اسرائیل میں ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں