24

امریکی الیکشن 2020 … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

اور جو بائیڈن جیت گیا! کیا اسکی جیت سے مجھے کوئی ذاتی فائدہ ہوا؛ جی نہیں! اگر بائیڈن ایڈمنسٹریشن میں کوئی جُگاڑ لگ بھی جائے تو میں ہی کیا کوئی امریکی ڈاکٹر یا بزنس مین اچھی خاصی آمدنی چھوز کر وائٹ ہاؤس نہیں جائے گا!
کیا مجھے کوئی نقصان ہوا؟ جی بالکل ہوا! الحمدللّٰہ ہم ٹیکس کی اس بریکٹ میں ہیں جس میں بائیڈن “رابن ہڈ” بننے کا ارادہ کررہا ہے یعنی ہم جو کووڈ میں بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر مریض دیکھ رہے ہیں، آپریشن کررہے ہیں سے، ان کی کمائی ٹیکس کے نام پر چھین کر، stimulus چیک لیکر، بئیر کی بوتل اور چپس ہاتھ میں لئے بیڈ پر لیٹ کر ٹی وی پر سوپ اوپرا دیکھنے والوں کو دے گا۔ ماں صدقے!!!

لیکن ظاہر ہے کہ یہ “آگاہی” کوئی آج نہیں اتری، پہلے سے تھی پھر بھی کیا کیڑا تھا ہمیں؟ وہ کیڑا تھا بیانئے کا! نفرت کے بیانئے کا!

زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جب آپ ذاتی بزنس یا سو کالڈ اکانومی کا سوچتے ہیں یا آنے والی نسل کا، اس کے بھلے کا؛ وقتی فائدے کا سوچتے ہیں یا دور کے نقصان کا؛ تو اس خوبصورت ملک امریکہ کی بھلائی اسی میں ہے کہ اس میں نفرت نہ پھیلے۔ ٹرمپ نے 2016 میں لوگوں سے جھوٹ بولا کہ باہر کے ملکوں سے آنے والے تمھاری نوکریاں لے گئے ہیں جبکہ ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد نوکریاں خود چین اور انڈیا بھیجی گئیں، مینوفیکچرنگ انڈسٹری تباہ کی گئی۔ باہر سے آنے والے تو وہ کام کرتے ہیں جو گورا نواب نہیں کرتا۔ ہسپانوی گھروں میں کام کرتے ہیں اور ڈاکٹر تک جے ون ویزہ پر ان دیہاتوں میں نوکری کرتے ہیں جہاں گورا نہیں جاتا۔

اسکے بعد ٹرمپ نے رنگ اور نسل کی نفرت پیدا کی۔ یاد رہے ہر انسان میں برتری اور کمتری کا پہلو ہوتا ہے، یہ قانون ہوتا ہے جو اسے باہر نہیں نکلنے دیتا۔ لیکن جب صدر امریکہ ہی نفرت کی بھاشا بولے گا تو عام دیہاتی گورا بھی گالوں اور بھوروں (ہسپانوی،پاکستانی اور انڈین) پر آنکھ نکالے گا، اور آواز بلند کرے گا۔ ٹرمپ کے اگر اگلے چار سال آجاتے تو شاید صورتحال مزید تباہ ہوتی۔ ٹرمپ کی ہار کے بعد سی این پر سیاہ فام میزبان وین جونز پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ اس کا کہنا تھا کہ اب وہ اور اسکے بچے، تمام مسلمان اور امیگرینٹس سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔

پینتیس فیصد سے زائد مسلمانوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ جہاں پینسٹھ فیصد مسلمان انھیں برا بھلا کہہ رہے ہیں، میرے خیال میں ہمیں انکی رائے کی عزت کرنی چاہئیے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں صحافی واجد سید سے گفتگو کرتے ہوئے (اکتوبر 28 کی تاریخ پر یہ انٹرویو میری ٹائم لائن پر موجود ہے) میری رائے تھی کہ جیسے انڈین اور اسرائیلی دونوں سائیڈوں پر انویسٹ کرتے ہیں، ہمیں انکی عزت کرنی چاہئے جو ٹرمپ کو سپورٹ کررہے ہیں تاکہ اگر خدانخواستہ ٹرمپ جیت گیا تو وہ کل کو پاکستان اور امریکہ کے دومیان پل بن سکیں۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے حمایتی ایک تصویر شئیر کررہے ہیں جس میں بش، کلنٹن اور اوبامہ کے ادوار کی جنگیں ہیں جبکہ ٹرمپ کے دور میں کسی اسلامی ملک پر حملہ نہیں ہوا۔ اسکا جواب یہ ہے کہ آپکے گھر کا ایک سربراہ، پڑوسیوں سے لڑائی کرتا ہے تو اسکے بعد ایسا سربراہ آجائے جو پڑوسی سے تو جنگ نہ کرے لیکن باپ کو بیٹے، بھائی کو بھائی سے لڑا دے تو یہ کونسی خوبی ہوئی؟ یقیناً پہلے صدور نے بھی غلط کیا لیکن اس صدر نے تو مہاغلط کیا۔

میرے منہ میں خاک لیکن لکھ لیں کہ آنے والا دور انڈینز کا ہے۔ اس سال ڈھائی لاکھ بھارتی اسٹوڈنٹ کینیڈا گئے جبکہ چار ہزار پاکستانی۔ بیس سے زیادہ کانگریس کی سیٹوں پر انڈیننز آئے۔ IMPACT انڈیا نے دس ملین ڈالر صرف تین کانگریس امیدواروں کے لئے اکھٹے کئے۔ کمالا کے بعد انڈینز میں رجحان بڑھے گا۔ پاکستانی ذہنی طور پر بےحد immature ہیں۔ آپ ایک بندے کے نو کام کردیں اور ایک نہ کریں تو باقی نو پر وہ نفرت کا لینٹر ڈال دیتا ہے۔ حسد اور بغض ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے؛ یہ ذاتی تربیت اور خود پر کام کرنے سے بہتر ہوتا ہے نہ امریکہ آکر امیر بننے سے نہ نماز روزہ حج کرنے سے۔

دیکھتے ہیں کہ اس آنے والی حکومت میں پاکستانی کیسے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ امید ہے سب سے پہلے بائیڈن کی حکومت امیگرنٹس کے زخموں پر مرہم رکھے گی، باقی ہم تو اپنا کام ایسے ہی روز جاری رکھیں گے۔ اس میں چھٹی نہیں ہے کیونکہ سبق یاد ہورہا ہے۔ پچھلے چھ مہینے ان تھک کام کرکے پاک پیک نے چالیس کانگریس مین کی سپورٹ جن میں سے چھتیس کو جتانے کے بعد پاک پیک کا اگلا فنڈ ریزر اگلی کانگریس امیدوار لیزا مکلین اگلے ہفتے ہے۔ سائیکل دوبارہ شروع ہوا چاہتا ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں