21

ہراسیت کا شکار، پاکستانی امریکن ڈاکٹر… (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

پوری دنیا بالخصوص پاکستان میں عورتوں کی ترقی کا راستہ کیسے روکا جاتا ہے؟ کیا انکے گھروں کے آگے توپ یا ٹینک رکھ دئیے جاتے ہیں؟ کیا انکے دفاتر کے باہر کھائی کھود دی جاتی ہے؟ ہرگز نہیں! بڑا آسان سا طریقہ ہے عورتوں کا راستہ روکنے کا

۱- انکے کردار پر بلاوجہ انگلی اٹھاؤ
۲- انھیں ہراساں کرو
۳- انکے مرد کچھ غلط کریں تو انھیں بھی اسکا ذمہ دار ٹھہرا دو
۴- کام پر بے ایمانی یا کمتر پرفارمنس کا الزام لگا دو

اور بھی بہت سے طریقے جو کہ زیادہ تر مردوں کے گھڑے ہوئے ہیں۔ میری اپنا قول ہے

“عورت کا دشمن مرد ہوتا ہے لیکن ایک کامیاب عورت کا دشمن مرد ہی نہیں ناکام عورت بھی ہوتی ہے”-
آپ کسی بھی کامیاب عورت کے خلاف کوئی سازش دیکھ لیں؛ اسکا کھُرا، مرد کے ساتھ ساتھ ناکام عورت تک جائے گا۔

پاکستان سے خواتین اتنا پڑھ کر امریکہ جیسی جگہوں پر آجاتی ہیں اور سکون ملتا ہے کہ اب تو بیٹیوں کے پاس علم اور عقل ہی نہیں بلکہ مضبوط سول سوسائٹی اور قانون کی مدد بھی ہے تو اب کون ہراساں کرسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے جیسے پاکستان سے جہاز پر چڑھ کر چند کیڑے بھی امریکہ آجاتے ہیں ایسے ہی چند لو لیول لوگ پاکستان سے امریکہ آکر ہماری بہن بیٹیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ کچھ کی یہ عادت خون اور جینز میں ہوتی ہے اور کچھ مال پوا کے لئے کرتے ہیں۔

“اپنا” امریکہ میں پچیس ہزار پاکستانی ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اس تنظیم میں ایسے ایسے گوہر اور ہیرے موجود ہیں کہ بتا نہیں سکتے۔ ہماری موجودہ صدر ڈاکٹر ناہید عثمانی نہ صرف بوسٹن میں بچوں کے کینسر کی ماہر ہیں بلکہ شوکت خانم میں بچوں کے کینسر کے علاج کی بانی ہیں اور عمران خان کی قریبی دوست ہیں۔ ڈاکٹر حمیرہ قمر، بےحد کامیاب ڈاکٹر اور ایک کتاب “ہینڈ بک آف اے پیرنٹ”کی مصنفہ ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ ظفر، پاکستان اور امریکہ میں فلاح و بہبود کے لئے مشہور ہیں اور حال ہی میں کووڈ کے لئے ایک ملین ڈالر سے زائد اکھٹے کئے ہیں۔ لیکن کوئی دو ٹکے کا آدمی آتا ہے اور ان پر کیچڑ اچھال کر چلا جاتا ہے۔ یو ٹیوب پر بدتمیزی کی ویڈیو چلا دیتا ہے۔ آزادی رائے کے نام پر ہماری بہنوں کے سروں سے چادر کھینچ لیتا ہے اور ہم اپنی بےغیرتی کو politically correct کا نام دیکر چُپ چاپ تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چالیس سال میں محض “اپنا” کی پانچ خواتین الیکشنز میں آئیں۔

چانکیہ کا طریقہ تھا کہ بہت سے جھوٹ میں ہلکا سا سچ ملا دو تاکہ کوئی categorically جھٹلا نہ سکے اور اسکا وضاحتی جواب مشکوک ہوجائے یا پھر کوئی ایسا گھٹیا الزام لگاؤ کہ اسکی صفائی بھی نہ دی جاسکے۔ مزے کی بات ہے کہ جو انسان آج ہماری “اپنا” کی بہنوں کو ہراساں کررہا ہے اسکا بلیک میلنگ کا یہی سلسلہ پچیس سال پہلے ملیحہ لودھی کو کھا چکا ہے جب وہ 1994 میں سفیر تھیں اور “یہی بلیک میلر” ان سے بھتہ مانگنے گیا۔ ڈالرز نہیں ملے تو اگلے دن کے اخبار کی ہیڈ لائن تھی
“ملیحہ لودھی کو ایڈز ہوگئی”!!!!
بیچاری نے مجبوراً رقم دی تو اسکی ایڈز “ختم ہوئی”!
اب پچیس چھبیس سال کے بعد وہ ایک خاتون فزیشن کے شوہر کو میڈی کئیر سے کچھ جرمانہ ہونے کے باعث اس خاتون ڈاکٹر کو ہراساں کررہا ہے کہ دونوں میاں بیوی نے جرم کیا، فراڈ کیا۔اب یہ ایسی سچویشن ہے کہ خاتون ڈاکٹر جواب بھی نہیں دے سکتی کہ “میں نہیں میرا شوہر تھا”؛ وہی چانکیہ اسٹائل کہ بہت سے جھوٹ میں تھوڑا سا سچ ملا دو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کتنی خواتین اس وجہ سے گھر بیٹھی ہیں کہ فلاں کے بھائی نے یہ کیا، باپ نے یہ کیا؛ بھئی اگر واقعی کیا بھی تو ان عورتوں کیا قصور؟ تو کیا ظلم اور زیادتی کا یہ سلسلہ یہاں امریکہ میں بھی چلے گا اور ہم دیکھتے رہیں گے؟ ہر گز نہیں!

ایک اور بات جاننے کی ضرورت ہے؛ مثلاً ڈاکٹر بکر کو پریکٹس پر کچھ جرمانہ ہوا؛ اخبار میں خبر آئی؛ تو یہ آپ کا حق ہے کہ وہ خبر کسی کو بھی فارورڈ کردیں یا اس پر تبصرہ کریں۔ لیکن اگر آپ ڈاکٹر بکر کو فون کریں کہ یہ خبر تمھارے گاؤں بھی پہنچ سکتی ہے، تمھارے باپ کی عزت ختم ہوسکتی ہے کہ اسکا بیٹا مجرم ہے اور یہ رؤف کلاسرا تک بھی جاسکتی ہے جو اسکا اسکینڈل بنا دے تو تم مجھے میرے ٹی وی کے لئے پچاس ہزار ڈالر دے دو۔ اب یہ آزادی رائے نہیں رہی، بلیک میلنگ بن گئی ہے جس کی امریکہ میں بے حد کڑی سزا ہے۔

ملیحہ لودھی سے لیکر ہماری “اپنا” کی مایہ ناز خواتین کو ہراساں کرنے کا یہ عمل چوتھائی صدی پر پھیلا ہوا ہے؛ نجانے کتنی ہیں جن کا ہمیں پتا تک نہیں۔ تو اسکا حل کرنا ضروری ہے ورنہ یہ کینسر ہماری اگلی نسل تک پھیل جائے گا۔ آج “اپنا” ایسوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اکھٹی ہے۔ کل Saturday October 24th, 1:00 pm EST, کو “اپنا سوشل فورم” کے تحت پروگرام ہورہا ہے جس میں ہمارے لوگوں کو سکھایا جائے گا کہ ایسے بلیک میلرز سے کیسے نبٹنا ہے۔ڈاکٹر صداقت علی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر، will power کے ساتھ ساتھ skill power سکھائیں گے کہ ایسے لوگوں کو جواب کیسے دینا ہے۔ جمال عبدالحفیظ جن کا ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ کے طور پر ایسے بلیک میلرز اور ہراساں کرنے والوں سے نمٹنے کا ریکارڈ ہے، ہماری رہنمائی کریں گے کہ ایف بی آئی کیسے ہماری مدد کرسکتی ہے اور مشہور وکیل پال کوگنز ہمیں سکھائیں گے کہ کیسے ان ہراساں کرنے والوں کو جیل میں پہنچایا جاسکتا ہے۔ کوئی بھی پاکستانی امریکی اس ویب نار کو اٹینڈ کرسکتا ہے، ڈاکٹر ہونا ضروری نہیں۔ بالخصوص ایسی خواتین کو یہ لنک بھیجیں جو اس یا اس جیسے کسی اور بلیک میکر کی ہراسیت کا شکار ہوئی ہیں۔ رجسٹریشن کے لئے لنک نیچے کمنٹس میں موجود ہے۔
تاریخ کے اس نازک موڑ پر ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم ایک مٹھی ہوکر اپنی بہن بیٹیوں کی حفاظت کریں گے یا تماشائی بنے رہیں گے۔ لیکن یاد رکھیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو آج تماشائی ہے، کل جب اس کی عزت اچھالی جائے، باقی تماشا دیکھیں!
جیکال فلم میں جیکال (بروس ویلز)، رچرڈ گئیر کو کہتا ہے کہ تم اپنی عورتوں کو مجھ سے نہیں بچا سکتے اور وہ بچا کر دکھاتا ہے؛ مزے کی بات ہے جیکال کو اردو میں گیدڑ کہتے ہیں۔ اب یہاں ایک حقیقی گیدڑ ایسا ہی دعویٰ کررہا ہے۔ تو اس گیڈر کو جواب ہے کہ آج “اپنا” کے زیادہ تر ڈاکٹرز اکھٹے ہیں؛ مختلف میٹنگوں میں یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ اپنی قوم کی بالخصوص “اپنا” کی بہنوں کی حرمت کی حفاظت کے لئے ہم یہ لڑائی مل کر لڑیں گے اور جب تک انھیں ہراساں کرنے والے جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں پہنچ جاتے، پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں