21

امریکی انتخابات اور کرونا … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

امریکہ کے صدر کو بھی کرونا ہوگیا؛ خس کم جہاں پاک؛ دیکھ لیتے ہیں کرونا کیا کرلیتا ہے! بقول برنی سینڈرز; ٹرمپ نے علاج تو والٹر ریڈ اسپتال سے کروایا ہے جو کہ سرکاری ہے لیکن لوگوں کے لئے سوشل میڈیسن یا “علاج سب کے لئے” کی مخالفت کرتا ہے۔ ضد ہے، حد سے بڑھ کر خود اعتمادی ہے یا پھر ٹرمپ انگریزوں کا “جٹ” ہے کہ کرونا کو نیچا دکھانے کے لئے ناصرف اپنی جان پر کھیل رہا ہے بلکہ دوسروں میں بھی پھیلا رہا ہے۔

ہمارے کتنے ہی پیارے کرونا کو سنجیدگی سے نہ لینے کے باعث موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ بطور ڈاکٹر روز میرا خود اتنے مریضوں سے آمنا سامنا ہوتا ہے کہ پتا نہیں کب کوئی یہ سوغات ہمیں ٹرانسفر کر جائے اور ہم گھر لے آئیں تو تمام تر احتیاط کے باوجود بات قسمت اور تقدیر کی بھی ہے۔ ایک ہی اسپتال میں ایک ہی طرح کام کرتے کتنے ڈاکٹر محفوظ رہے اور کتنے ہی کرونا کا شکار ہوئے؛ شکار ہونے والے ایک جیسے صحتمند جوانوں میں سے کسی کو بخار تک نہ ہوا؛ کوئی آئی سی یو سے واپس آیا اور کوئی کبھی واپس نہ آیا؛ احتیاط کے بعد تقدیر کے علاوہ اور عوامل زیادہ اہم نہیں ہیں۔ اس لئے تمام تر احتیاط کے ساتھ نصیحت کرنا بہتر ہے مذاق اڑانا نہیں۔

میری دعا ہے کہ ٹرمپ صحت یاب رہے؛ اسکی کرونا کو سنجیدگی سے نہ لینے اور دو لاکھ سے زائد امریکیوں کو موت کے منہ میں پہنچانے کی سزا اسکی الیکشن میں شکست ہے اور اسکے ہر عمل کے ساتھ ہار اس سے قریب تر ہوتی جارہی ہے۔ امریکی الیکشنز میں فنڈ ریزر بہت اہم ہوتے ہیں؛ ارب اور کھرب پتیوں کو بھی پیسے کی ضرورت پڑتی ہے۔ صدارتی لیول پر فنڈ ریزر بڑے لوگوں کا کھیل ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسکے اسٹاف میں ہپ ہاپس کا کرونا پازیٹو نکلا ہے، فنڈ ریزر کے لئے نیوجرسی چلا گیا اور جن سے پیسے لئے انھی میں کرونا پھیلا دیا۔ نیوجرسی کے گورنر فل مرفی نے اس پر سخت احتجاج کیا لیکن “جیسی دیگ ویسے چمچے” کے مصداق نیوجرسی میں سینیٹ کا ریپبلیکن امیدوار رک مہتا بھی ٹرمپ کے نقش قدم پر چودہ دن قرنطینہ سے انکار کررہا ہے۔ ٹرمپ اور اسکے ساتھی موت سے کھیل ہی نہیں رہے بلکہ پھیلا رہے ہیں۔ بھلا ہو آرمی نیوی اور فضائیہ کے سربراہان کا کہ وہ تو کم از کم قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

امریکہ میں سیاسی اور صحت کی صورتحال کچھ دو دہائی سے اسطرح سے ایک دوسرے سے جڑ گئی ہے کہ اوبامہ دونوں الیکشنز “اوبامہ کئیر” یعنی ہیلتھ انشورنس کے آسان حصول پر جیتا؛ برنی سینڈرز “علاج سب کے لئے” سے پاپولر ہوا اور اب کرونا نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ محض سیاسی ہتھکنڈے نہیں رہ گئے ہیں؛ اب جو صحت کا نظام دے گا وہ راج کرے گا۔ جو بائیڈن کے پاس صحت کا کوئی خاص پلان نہیں لیکن “اوبامہ کئیر” میں ہی بہتری لا سکتا ہے یا جاری رکھ سکتا ہے۔ ٹرمپ کی بیوقوفی، ضد اور ہار خودبخود جو بائیڈن کی جیت بن جائے گی لیکن کیا یہ امریکی عوام کی جیت ہوگی؟ کیا ہزاروں ارب ڈالر چھاپ چھاپ کر معیشت میں ڈال کر معیشت کو مصنوعی طور پر کھڑا کرنے کے اثرات سامنے نہیں آئیں گے؟ ایسے ہی جیسے فراڈئیے، لٹکے ہوئے کان اور ٹیڑھی دم کے کتے پر ایلفی لگا کر کان کھڑے اور دم سیدھی کرکے مہنگا بیچ دیتے ہیں اور کچھ دن کے بعد اصلیت سامنے آتی ہے۔ مارکیٹ بالخصوص رئیل اسٹیٹ کی ایڈجسٹ منٹ کا سائیکل شروع ہونے والا ہے۔ کرونا کی ویکسین آج بھی اسٹور پر آجائے تو تین سو ملین میں سے کتنے عرصے میں کتنے لیں گے؟ گویا اگلا سال بھی کاروباری ہل چل کے بغیر ہی گزرے گا؛ ائیر لائنز، سیاحت، ہوٹل، بسیں، ٹرینیں، شادی ہال، کیٹرنگ، آؤٹ پیشنٹ سرجری سنٹرزاور اور اسپتال بند ہوں گے اور اکانومی مزید گرے گی۔آنے والے دن امریکی عوام پر سختی کے ہیں تاہم یہ بہت ضروری ہے کہ ہم سب ووٹ ڈالنے نکلیں یا پھر ڈاک کے ذریعے ووٹ بھیجیں۔ جمہوری ملک میں بدترین صدر کو بدترین شکست ووٹ سے ہی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں