113

پاکپتن: حکیم محمد سعید کی شہادت کو 22 برس بیت گئے مگر ان کی طبی، علمی اور ادبی خدمات سے آج بھی ہزاروں لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں. حکیم لطف اللہ۔

پاکپتن (بریلینٹ فورم) حکیم صاحب پاکستان کے ذرے ذرے سے محبت کرنے والے ایک ایماندار اور وضع دار انسان تھے وہ انسانیت کی خدمت کیلئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ سابق گورنر سندھ، مایہ ناز طبیب، معالج، معلم ، سماجی رہنما ،سکالر ،مقرر مدیر، سیاح، سیاسی قائد اور صنعت کار حکیم محمد سعید کی شہادت کو 22 برس بیت گئے مگر ان کی طبی، علمی اور ادبی خدمات سے آج بھی ہزاروں لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں. ان خیالات کا اظہار حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے بریلینٹ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا.
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ معالج، سماجی کارکن اور مصنف حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920 کو بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے، دو سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، وہ بچپن سے ہی غیر معمولی ذہانت اور حیران کن یادداشت کے مالک تھے یہی وجہ ہے کہ وہ 9 برس کی عمر میں حافظ قرآن بھی بن گئے تھے۔

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

تقسیمِ برصغیر کے بعد حکیم محمد سعید نے بھارت میں موجود تمام کاروبار ، عیش و عشرت چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ 9جنوری 1948 کو کراچی پہنچے، یہاں انہوں نے زندگی کے آخری روز تک قیام کیا۔

شہید حکیم محمد سعید نے مذہب اور طب و حکمت پر 200 سے زائد کتابیں تحریر کیں جبکہ حکمت کے حوالے سے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنی کاوشوں سے عالمی ادارہ صحت (WHO) سے طب یونانی کو سائنس تسلیم کروایا اور طب یونانی ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی کو ایک صفحے پر لانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کراچی میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر 1953میں مدینة الحکمہ کی بنیاد رکھی جس میں طالب علم دین سائنس اور اسپورٹس کے شعبہ قائم کیے انہوں نے ہمدرد یونیورسٹی کے علاوہ ہمدرد پبلک اسکول، ہمدرد کالج آف سائنس، ہمدرد کالج آف کامرس، ہمدرد پبلک اسکول، ہمدرد لائبریری، ہمدرد کالج آف میڈیسن اینڈ ڈسپنسری، ہمدرد المجید کالج آف ایسٹرن میڈیسن اور ہمدرد انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی قائم کروائیں۔ ان کے جرائد میں ہمدرد نونہال، خبرنامہ ہمدرد،ہمدرد صحت، ہمدرد اسلامکس، ہمدرد میڈکس اور ہمدرد ہسٹاریکس شامل ہیں۔ ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان نہایت اہم اور باوقار ادارے ہیں۔

بچوں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ حکیم صاحب نے نونہال ادب کا شعبہ قائم کیا خبرنامہ اور نونہال کے نام سے باقاعدہ رسالہ جاری کیا، وہ اپنی آخری لمحات تک ہمدرد نونہال سے وابستہ رہے۔ بچوں کے ادب پر سو سے زائد کتابیں اور سفرنامے لکھے ۔ حکیم صاحب نے 1993 سے 1994 تک بطور گورنر سندھ امور انجام دیے، حکومت پاکستان نے خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔

وہ 17 اکتوبر 1998 کو جب گھر سے مطب جانے کے لیے نکلے تو دہشت گردوں نے انہیں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا جس وقت انہیں آرام باغ میں ان کے دواخانہ کے باہر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا وہ روزے کی حالت میں تھے، یوں انہوں نے روزہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔

حکیم سعید کا معمول تھا کہ وہ جس روز مریضوں کو دیکھنے جاتے روزہ رکھتے تھے چونکہ ان کا ایمان تھا کہ صرف دوا وجہ شفا نہیں ہوتی، شہید حکیم محمد سعید پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی ان کے علاوہ ڈھاکہ اور لندن میں بھی ہفتہ وار مریضوں کو دیکھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ حکیم صاحب نے جتنے مریضوں کا فری علاج کیا ہے یہ اعزاز شاید ہی کسی کو نصیب ہو ا ہو۔

ان کا ادارہ ہمدرد بھی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے 1953 میں ہمدرد کو وقف پاکستان کر دیا جس کی تمام تر آمدنی طبی تحقیق اور دیگر فلاحی خدمات پر صرف ہوتی ہیں ۔تین صاحب نے اپنی پوری زندگی تمام معنی بامقصد اور مثبت گزاری ۔ وہ کہتے تھے کہ میرا ملک سورة رحمٰن کی زندہ تصویر ہے ہمیں اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں سے استفادہ کرنا چاہیے سنجیدگی، حساسیت، ہوش و خرد ،عقل و شعور، فہم و ادراک، تحمل و بردباری ،قناعت و صبر، ہمت و جراءت اور جوش و ولولہ جیسی خوبیاں اس ایک شخص میں اللہ نے سمو دی تھیں۔ وہ ایک ایسے شجر سایہ دار تھے جس کی چھاؤں میں خوشی تھی آسودگی تھی اور اطمینان تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں