64

جینیاتی تبدیلی اور مستقل غلامی FATF … میاں جی کے قلم سے

✍️ میاں جی کے قلم سے

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

✍️ جينياتي تبديلی انتہائی طويل مدتی عمل ہے. جينياتي بدلاؤ کے سوا طبیعت اور مزاج میں تبدیلی ناممکن نہ بھی ہو تو پھر بھی انتہائی مشکل ضرور ہے .

✍️ یہ جو جانور دیکھ رہے ہیں جن کو ہم گھریلو جانور یا پالتو جانور بھی کہتے ہیں جیسے ، بکریاں ، بھینسیں ، گائے ، مرغیاں ، گھوڑے ، گدھے ، بلیاں اور کتے وغیرہ وغیرہ وہ سب پہلے آزاد تھے اور خود مختاری کے ساتھ وہ اپنے اپنے علاقوں میں زندگی بسر کرتے تھے .

✍️ جب انسانوں نے اپنی ضروریاتِ زندگی کہ لیے ان کو اپنے قبضے میں قید اور غلامی میں رکھنا شروع کیا تو شروع شروع میں انہوں نے مزاحمت کی ہوگی پھر آہستہ تقاضائے وقت کے مطابقت ان میں جینیاتی تبدیلییاں ہوتی رہیں اور وہ دھیرے دھیرے اس غلامی و قید کے عادی بنتے گئے ، اور یوں اب وہ مکمل انسان پر انحصار کرنے لگ گئے ہیں ، ان کی آزادی و خود مختاری کی حِس ختم ہوگئی ہے.

✍️ اب آزادی ان کو کسی بھی حالت میں نہیں چاھیے اگر آزاد ہوئے تو پریشان ہوجائیں گے ، بیمار پڑ جائیں گے اپنا دفاع نہیں کر سکیں گے کیوں کہ وہ اپنا فطری ڈھانچہ بھول بیٹھے ہیں جو ان کی آزاد والی زندگی گذارنے میں مدد کرتا تھا .

✍️ اس ساری بات سمجھانے کا مقصد ہے کہ آج کل بڑی طاقتیں ماتحت قوموں کو بھی ایسے تباھ کر رہی ہیں ،…. F. A. T. F اور One World اور Global World کے نعرے دعوے ، قانون ہی ترقی پذیر اور غریب و مقروض
ملکوں کو غلام بنانے کی یہودیوں اور کفار کی مشترکہ سازشیں ہیں .

✍️ اور یہ جو قوموں میں فرسٹریشن ہے وہ بھی اسی عمل کا نتیجہ ہے کہ ہم میں جینیاتی تبدیلی آ نہی رہی بلکہ ایک سازش و مکمل منصوبہ بندی سے مختلف ادویات و ویکسینیشن کے نام پر یہ جینیاتی تبدیلی لائ جا رہی ہے.

✍️ ہم مستقل طور پر غلامی والی قید میں بخوشی جا رہے ہیں پھر ہم اشاروں کے پابند ہوں گے ، کہ ہم نے اپنی خودی کا سودا کر لیا ہے ، مزاحمت کو ہی نہی اپنے مذہبی نظریات ، عقائد اور تعلیماتِ اسلامی کو چھوڑ کر اغیار کی رنگینیوں اور جینیاتی تبدیلی و ذہنی غلامی کو آزادی کے مختلف دلفریب ناموں و حوبصورت اشکال میں دیکھ کر ہی ہم نے اسے اپنی نجات کا ذریعہ سمجھ لیا ہے ……… !!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں