21

موٹر وے ریپ … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں ہر سولہ منٹ کے بعد ریپ ہوتا ہے۔ اس میں ڈیٹ ریپ شامل نہیں اور نہ ہی وہ کیس کو کبھی رپورٹ نہیں ہوتے۔ پاکستان میں بھی صحیح تحقیق ہو اور متاثرہ لڑکیاں بدنامی کے ڈر سے خاموش نہ رہیں یا “الّلہ پوچھے گا” کی بجائے رپورٹ کریں تو اعداد و شمار اس سے بھی بُرے ہوں گے تاہم موٹر وے حادثے نے حقیقی معنوں میں ہلا کر رکھ دیا۔ جتنی تفصیل سامنے آرہی ہے اتنے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

دو جانور نما انسان ایک کار کا شیشہ توڑتے ہیں؛ خاتون کے ساتھ زبردستی کرتے ہیں، وہ مزاحمت کرتی ہے تو بچوں کو مارنے کی دھمکی دیتے ہیں اور وہ بے بس ماں خود کو ان کے سپرد کردیتی ہے؛ کیا عظمت ہے ماں کی؛ بچوں کی جان بچانے کے لئے لٹ گئی۔ دونوں باری باری بچوں پر پستول تان کر ایک ماں کو درندگی کا نشانہ بناتے ہیں۔ انسان تصور کرے تو دل پھٹ جاتا ہے، ایک ماں اذیت سے گزری، اسے دیکھتے بچے اذیت سے گزرے۔ ماں کو اس پوری تکلیف میں بچوں کی پڑی رہی اور وہ عصمت قربان کرکے بچوں کو بچا لائی۔ ہمارے ہاں ایسے عمل کو “عزت لٹنا” کہتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ وہ خاتون، عورت ذات کی عزت میں اضافے کا باعث بنی ہے، خدا کے بعد ماں کے رشتے کی مضبوطی کا جیتا جاگتا ثبوت بنی ہے۔

اب آتے ہیں عابد اور شفقت نام کے جانوروں کی طرف۔ واقعی جاہل انسان، حیوان سے کچھ زیادہ دور نہیں ہوتا۔ چند منٹوں کی بے لگام ہوس کے لئے ایک پورے گھرانے کی خوشیاں اور چین چھین لیا اور اپنی اور اپنے خاندان کی بربادی کرلی۔ سوچیں یہ عابد جاہل ہونے کے باوجود اتنا تیز اور مکار تھا کہ پورا مہینہ پولیس سے بچتا بھی رہا اور پیسے کمانے کی جگاڑیں بھی کرتا رہا تو کیا اسکے پاس جنسی تسکین کے لئے صرف ریپ ہی رہ گیا تھا؟ جس ملک اور معاشرے میں جنسی تسکین کی بات کرنا گناہ، بے شرمی یا ممنوع بنا دیا جائے وہاں سڑکوں سے لیکر مدرسوں تک میں ریپ ہی ہوں گے؛ لیکن یہ بات اس وقت موضوع بحث نہیں ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عابد اور شفقت کا کیا کرنا ہے؟ پورا پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے پاکستانی غصے کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سرعام پھانسی اور جنسی اعضا کاٹ دینے کی تجاویز پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ لیکن میری رائے میں انھیں زندہ رہنا چاہیے اور جیل میں ہونا چاہئے جہاں ان سے بھی بڑے ریپ کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ دونوں پچاس پچاس سال کی قید کاٹیں اور پوری زندگی ایسی جیل میں رہیں اور روز ریپ ہوں؛ تاکہ روز ایک ماں کی تکلیف کا احساس ہو اسکے بچوں کی اذیت کی یاد دہانی ہو۔ یہ موت کی بھیک مانگیں اور انھیں آسان موت نہ آئے۔ جیسے وہ ماں اور بچے اب روز جئیں اور روز مریں گے ایسے ہی یہ جیل میں روز جئیں اور روز مریں۔ ہر ایک سال کے بعد انکا لائیو انٹرویو نشر ہو جس میں یہ اپنی “آپ بیتی” سنائیں اور ہاتھ جوڑ کر اپنے جیسے حیوانوں سے التجا کریں کہ کبھی ریپ نہ کرنا۔ پھانسی سے کیا ہوگا؟ زینب کا قاتل ڈھٹائی سے جھول گیا اور بقول زینب کے باپ کے، پھانسی کے پھندے کی طرف جاتے ہوئے گھور کر اسے دیکھا اور معافی تک نہیں مانگی۔ انھیں زندہ رکھنا زیادہ سبق آموز ہوگا؛ مجسم عبرت ہوگا!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں