52

درندوں سے حفاظت … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

نیویارک دنیا کا سب سے اہم شہر ہے؛ اگر دنیا ایک ملک ہے تو نیویارک اسکا کیپیٹل ہے۔ نیویارک کا سب سے اہم ٹاؤن مین ہیٹن ہے۔ اگر آپ مین ہیٹن سے بفلو کی جانب جائیں تو نیویارک کا ٹاؤن برانکس آتا ہے۔ اگر آپ ایک اکیلی خاتون ہیں اور تین بچوں کی ماں ہیں اور آدھی رات کو گاڑی چلاتے ہوئے بچوں نے کہا کہ ،”ماما بھوک لگی ہے” اور آپ میکڈانلڈ ڈھونڈتے برانکس کی گلیوں میں نکل گئی ہیں تو پچاس فیصد چانس ہے کہ آپ کا پرس اور زیورات چھن جائے گا؛ دس فیصد چانس ہے کہ آپ ریپ ہوجائیں گی؛ پانچ فیصد چانس ہے کہ بچے بھی ریپ ہوجائیں گے اور ایک فیصد چانس ہے کہ آپ سب کی لاشیں بھی نہ ملیں گی۔ پاکستان موٹر وے پر یہ سب ہونے کے امکانات کافی کم ہیں۔

یاد رہے یہ odds ہیں دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سب سے اہم شہر کے۔ چلیں اب امریکہ کی پولیس کا “رنڈی رونا” رو لیتے ہیں۔ پچیس سال پہلے تک جولیانی کے مئیر بننے سے پہلے؛ شہر کی سڑکوں پر کھلے عام طوائفیں؛ ڈرگ مافیا راج کرتا تھا؛ آج سڑکوں پر نہیں ہے لیکن گلی کوچوں میں چھپ کر کام ہورہا ہے۔ نیویارک میں راقم نے چار سال ریذیڈنسی ٹریننگ کی۔ ٹریننگ کا پہلا سال جنرل سرجری کا تھا۔ لیول ون ٹراما سنٹر ہونے کی وجہ سے جکوبی میڈیکل سنٹر کا بڑا نام تھا اور ہمارے کارڈ کا بھی!مونٹی اور جکوبی میڈیکل سنٹر ز نیویارک کے بدنام زمانہ ٹاؤن، برانکس میں ہیں۔ سیاہ فام اکثریت اور گینگز کی آماجکاہ اس ٹاؤن میں ایمرجنسی میں جتنے سیاہ فام پولیس مقابلہ میں زخمی ہوکر آتے اتنے ہی پولیس والے بھی آتے۔ ایک بار برانکس میں ایک پولیس والے نے اوور اسپیڈنگ پر روکا اور اسے جکوبی اسپتال کا کارڈ دکھایا تو اس نے ٹکٹ نہیں کاٹی اور بولا کہ اگر وہ گولی کھا کر ایمرجنسی میں آئے تو اسکا خصوصی خیال رکھوں۔ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا کہ یہاں بھی ایسا ہوتا ہے- پاکستان میں تو مجرم مخصوص پولیس انسپکٹر سے بدلہ لیتا ہے جبکہ نیویارک میں گیکنگز کسی بھی پولیس والے کو مار کر اپنے کسی دوست یا رشتہ دار مجرم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا بدلہ لے لیتے ہیں۔ بچپن میں دوکان سے برف لیتے ہوئے برف کا بڑا سا سوا دیکھا تھا اور اس کے بعد برانکس میں لوگوں کے سروں اور سینوں میں گھونپا ہوا دیکھا۔ ان دنوں بڑی فلمی سی سچوئشن تھی؛ گھر میں ناشتہ کرتے وقت ٹی وی پر خبریں دیکھتے تھے کہ پولیس مقابلے میں دو مجرم ہلاک اور تین پولیس والے زخمی ہوگئے اور ہسپتال پہنچ کر ان تینوں پولیس والوں کا جکوبی میں علاج کررہے ہوتے۔ دسمبر 2005 کو برانکس میں میں چند پولیس والے ہلاک اور زخمی ہوئے؛ رات کے دو بجے ایک سوٹ بوٹ میں ملبوس شخص آیا، زخمی پولیس والوں کی رپورٹ لی۔ رات کو صرف ہم جیسے جونئیر ہی وارڈ میں ہوتے ہیں تو اس سے بات کرنے کا موقع ملا اور وہ بندہ نہایت شائستگی سے میرا شکریہ ادا کرکے چلا گیا؛ بعد میں پتا چلا کہ وہ مائیکل بلومبرگ تھا؛ نیویارک کا اس وقت کا میئر اور مشہور ارب پتی۔ یہ ہے امریکہ کی پولیس؛ پاکستان کی پولیس اس سے بھی گئی گزری ہوسکتی ہے

دنیا میں کہیں بھی پولیس جرم کو روک نہیں سکتی؛ ہاں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا سکتی ہے۔ فرض کریں آسمان سے اتر کر پولیس پاکستان آجائے اور جج بھی ایماندار ہوں! فرض کریں کہ ایک دن میں مجرم پکڑیں جائیں اور دوسرے دن انکے جنسی اعضا کاٹ کر، زندہ جلا دیا جائے (یہ میری رائے نہیں فیس بک پر ہزاروں کی خواہشوں کا حوالہ ہے) پھر بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے پیارے زندہ ہوجائیں گے؟؛ کیا لٹی عزت واپس آجائے گی؟ اگر نہیں تو کیا اپنی اور اپنوں کی ذمہ داری لینا بہتر نہیں؟

اب آجائیں ہمارے جذباتی عوام کی جانب؛ یہ کیسی اسلامی ریاست ہے کہ ایسا ہوگیا؟؛ اگر اسلامی نظام لاگو ہو تو یہ نہ ہوتا! جناب؛ زینب کا قاتل پانچ وقت کا نمازی اور نعت خوان تھا؛ اور زینب کے والدین حج کررہے تھے جب وہ بچی کی تکہ بوٹی کررہا تھا؛ مولوی شمس الدین تین عدد اسلامی مجاہدوں کے ساتھ سو بار بچے کا ریپ مدرسے میں کررہا تھا۔ پانچ سالہ مروہ اکیلے چیز لینے کیوں گئی؟ کیا ان سب کے والدین کی بھی کوئی ذمہ داری ہے کہ نہیں؟ اگر الّلہ پر چھوڑا ہے تو معذرت کے ساتھ الّلہ سے جواب مانگیں اور اگر قانون کی بات ہے تو قانون کی نظر میں بچے minor کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے! بچے کی یا اسکے نگران/بے بی سٹر کی ذمہ داری آپکی ہے ریاست کی نہیں۔ ذمہ داری تو لینی ہی پڑی گی! مزے کی بات ہے کہ آپ کسی عورت کو کہیں کہ اپنا سارا سونا اکھٹا کرو اور اچھالتی ہوئی کسی سڑک پر واک کرو تو “اسی قابل بھروسہ اور ذمہ دار پولیس اور نظام” کی موجودگی میں وہ یہ نہیں کرے گی لیکن سونے سے قیمتی بچوں کے ساتھ جانا ہر کوئی اپنا حق سمجھتا ہے! چلیں پولیس کسی طرح باہر کے مجرموں روک بھی لے؛ چار دیواری میں جو قریبی رشتہ دار ایسا کر رہے ہیں ان سے روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ ایک اور منطق پیش کی جارہی ہے ؛ کہ جی گھر میں گھس کر بھی ریپ کردیتے ہیں؛ تو جواب ہے کہ سیٹ بیلٹ لگا کر اور شراب پئے بغیر گاڑی چلانے والے بھی ایکسیڈنٹ سے مرتے ہیں لیکن اسکے امکانات نشہ کرکے بغیر سیٹ بیلٹ لگانے والوں سے بہت کم ہوتے ہیں!

انتقامی فلمیں بڑی اچھی لگتی ہیں؛ آخر میں جب ہیرو باپ کے قتل یا بہن/محبوبہ کی عزت کا بدلہ لینے کے لئے ولن کو تکلیف دہ موت مارتا ہے تو دل کرتا ہے اسکی جگہ خود ہوتے۔ گجنی فلم نے میری سوچ بدل دی؛ ولن کو مارنے کے بعد ہیرو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ پہلی بار دماغ میں آیا کہ ولن کے مرنے کے بعد بھی نہ تو اسکی یادداشت واپس آئی اور نہ اسکی محبوبہ! تو کیوں نہ تھوڑی سی ذمہ داری لیکر اپنا اور اپنوں کا خیال خود رکھنا سیکھ لیں! آگے آپکی مرضی!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں