25

سستی نتھ اتروائی … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

مہناز بیگم عرف مینا جی ٹھسے دار خاتون تھیں۔ علاقے کے رؤسا دل بہلانے کے لئے مینا جی کے عشرت کدے کا رخ کرتے تھے۔ شنید ہے کہ شوہر کے مرنے کے بعد خوبصورت مہناز بیگم نے لوگوں کے گھروں میں کام شروع کیا تو گھر کے مردوں نے “انکا کام” کرنے کی ٹھان لی؛ کپڑے سینے شروع کئے تو گاہک “انکا ناپ”لینے لگے تو سوچا جب انکا ہر روزگار؛ ایک ہی “منزل” کی طرف لے کر جارہا ہے تو کیوں نہ منزل کو ہی “روزگار” بنا لیا جائے۔ اور اس کے بعد سے راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔مینا جی کی ایک ہی بیٹی تھی ریشم؛ جسے پڑھا لکھا کر فر فر انگریزی بولتی، اداؤں سے پرمزین ماڈل بنانا چاہتی تھیں۔

شبانہ، حاجی تمیز الدین کی اکلوتی اولاد تھی؛ شریف گھرانہ، مذہبی ماحول اور مشرقی اقدار کی پابندی۔ حسین اور چنخچل شبانہ، شوخی اور شرارتوں سے محلے کی جان تھی۔ ریشم اور شبانہ کلاس فیلوز تھے۔ شبانہ سہیلیوں کے درمیاں ہر دم لڑکوں کی خود پر مر مٹنے کی گپیں ہانکتی؛ “آج شکیل نے مجھے ان باکس میں ہارٹ بھیجا”، “آج سہیل نے پانچویں بار فیس بک پر ریکویسٹ بھیجی”؛ جبکہ ریشم اپنے کام سے کام رکھتی تھی ، اپنے گھر کے آنگن میں محبتوں کی اجڑی ہوئی شکلیں دیکھتی پلی تھی تو لڑکیوں کی توجہ اور لڑکوں کے پینتروں سے وہ بے پرواہ تھی۔

شبانہ کی دوستی بابر نامی لڑکے سے ہوگئی جو کہ بدھو سا لگتا تھا۔ چالاکی اور ہوشیاری سے شبانہ نے بابر سے ایزی لوڈ کروانا شروع کردیا؛ وہ بیچارہ اسکے ڈراموں میں آجاتا؛ پھر کچھ دن کے بعد اس نے نئے سوٹ اور پرفیوم کی فرمائش کردی جو بابر نے پوری کی۔ بابر کی سادگی اور اچھا رویہ شبانہ کے دل میں اترنے لگا اور اب بات مذاق سے پیار محبت میں بدلنے لگی یہ جانتے ہوئے بھی کہ بابر کی منگنی ہوچکی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ریشم کی جوانی؛ مینا جی کے ٹھکانے پر آنے والے عیاشوں کی آنکھیں گرمانے لگی اور جب بیری پر پتھر آنے لگے تو چھٹی ہوئی مینا جی “سونے کے پتھر “کی متقاضی نظر آئیں۔ نتھ اتروائی کی باقاعدہ بولی لگی اور ستر سالہ سیٹھ، بیس لاکھ روپے دے کر یہ بازی لے گیا۔

ادھر شبانہ نے ایزی لوڈ اور تحائف کے بعد پچیس ہزار کے نئے فون کی فرمائش کردی؛ بابر نے کہا کہ مشکل سے اتنے پیسے اکھٹے ہوں گے لیکن وہ جان لڑا دے گا؛ اور پھر وہ فون لے آیا لیکن اسکے ساتھ ہی رات کو اکیلے ملنے کو کہا۔ شبانہ کو بابر پر پورا بھروسہ تھا۔ وہ اسے آزما چکی تھی اور دل ہی دل میں محسوس کرتی تھی کہ اتنے خیال اور تحفوں کے بدلے اسے بھی تھوڑا بہت تو کرنا چاہئے۔ مزید یہ کہ اسکی سہیلیوں کے مطابق “اوپر اوپر سے پیار” میں کوئی حرج نہیں تھا۔

یہ ہفتے کی اندھیری رات تھی؛ سجی سنوری ریشم کے کمرے میں ستر سالہ سیٹھ داخل ہورہا تھا جبکہ شبانہ چپکے سے اپنے گھر سے نکل کر بابر سے ملنے جارہی تھی۔ سیٹھ، پورے شہر کے کشتے کھا کر بیس لاکھ کی وصولی کر رہا تھا جبکہ شبانہ کو پتا چل رہا تھا کہ بابر وہ نہیں ہے جو آج تک ظاہر کرتا رہا۔بڑی بے رحمی سے اسکے “اوپر اوپر کے پیار” کی حدوں کی دھجیاں اڑا رہا تھا اور وہ بدنامی کے ڈر سے شور بھی نہیں مچا سکتی تھی۔

بالآخر اس اندھیری رات کی صبح ہوئی؛ گیلے بال سُکھاتی ریشم آن لائن بینکنگ سے بیس لاکھ کا ٹرانسفر کنفرم کرکے مینا جی کی طرف پرغرور نظروں سے دیکھتی ہوئی مسکرا رہی تھی اور شبانہ اپنے سامنے پانچ ہزار کا ایزی لوڈ؛ دس ہزار کے تحفے اور پچیس ہزار کا فون رکھے رو رہی تھی! معلوم نہیں یہ پچھتاوے کے آنسو تھے یا خسارے سے بھرپور لین دین کے کاروبار کے!!! بڑی ہی سستی نتھ اتروائی تھی یہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں