69

حجاب تحفظ اور پاکدامنی کا ضامن … (حافظ امیرحمزہ سانگلوی)

تحریر: حافظ امیرحمزہ سانگلوی.

معاشرے میں پھیلی ہوئی بے راہ روی، بے حیائی اور بے دینی سے کون ہے جو واقف نہیں ۔۔۔۔؟ ذرا سی عقل و شعور رکھنے والے اور اپنے دین اسلام کو دل و جاں سے تسلیم کرنے والے والدین معاشرے میں بے حیائی کا عروج دیکھ کر بہت زیادہ پریشان نظر آتے ہیں۔ بے حیائی کے عروج کا اگر کسی کو یقین نہ آئے تو وہ اپنے قریبی شہر کے کسی بھی مشہور بازار یا دوکان پر چلیں جائیں، وہاں جا کر آپ حیران ہو جائیں گے کہ ہماری عورتیں، بہنیں، بیٹیاں بغیر حجاب اوڑھنی کے خرید و فروخت کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ جو کہ سراسر بےحیائی کو فروغ دینے کے مترادف ہے اور ہم مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔ کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:

دل ہو وفا پسند ، نظر ہو حیا پسند
ماں، بہن، بیٹی ہو پردہ و حجاب پسند
جن جن میں یہ وصف ہوں وہ ہیں خدا پسند

دین اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل وعیال اور محرم عورتوں کے بارے دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ “دیوث” ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت والے دن دیکھے گا بھی نہیں۔ دیوث کیسے کہتے ہیں؟ دیوث اس مرد کو کہتے ہیں جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو دیکھے اور اسے برقرار رکھے۔ بعض شارِحین نے فرمایا کہ جو اپنی بیوی بچّوں کے زِنا یا بے حیائی، بے پردگی، اجنبی مردوں سے اِختلاط، بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حیائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوُجود قدرت کے نہ روکے وہ مرد بے حیاء “دیّوث” ہے۔ حدیث کی کتاب سنن نسائی شریف کی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’دیوث‘‘ شخص پر جنت حرام کر دی گئی ہے۔(اللہ تعالیٰ ہمیں دیوث بننے سےمحفوظ فرمائے)

تو خیر اس بے حیائی و عریانی کے سدباب کے لیے اسلامی سوچ و فکر کے حامل والدین بے بس اور لاچار نظر آتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم پر یہ لازم ہے اور ہمارا یہ حق بھی بنتا ہے کہ ہم بطور مسلمان معاشرے کو مزید بے حیائی کی طرف لے جانے سے بچائیں۔ اس کے لیے ہم سب کے لیے جو ضروری کام ہے وہ یہ کہ ہمیں اپنی ماں، بہن، بیٹی اور اپنی شریک حیات کو حجاب کی پابندی کروانی چاہیے۔ عورت کا حجاب اوڑھنا پردہ ہی نہیں بلکہ عفت و پاکدامنی کا بھی ضامن ہوتا ہے، کہ جس کی بدولت شیطان کے حواریوں کی غلیظ نظروں سے باآسانی بچا جا سکتا ہے۔

اسی ضمن میں حجاب و پردہ کو عام کرنے کے لیے مسلم تنظیموں نے دنیا بھر ‏میں 4 ستمبر کے دن کو عالمی “یوم حجاب” کے طور منانے کا اہتمام کیا ہے۔ جو کہ 2004ء سے ہر سال منایا جاتا ہے اس کے منانے کا مقصد پردہ، حجاب کا فروغ اور اس کا اہتمام کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی اور اس کے اہتمام کی وجہ سے امتیازی سلوک یا تعصب کا نشانہ بننے والی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے‎۔

آو عالمی “یوم حجاب” پر عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی ماوں ، بہنوں ، بیٹیوں کو اس پردے اور حجاب کا اہتمام کروائیں گے اور بے حیائی و عریانی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔ ان شاء اللہ العزیز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں