65

ساہیوال: پاکستان میں ملک دشمن ایجنڈے کے تحت فقہ وارانہ فضا خراب کرنے کی گھاونی سازش کی گئی. سید سبطین حیدر سبزواری.

ساہیوال (خصوصی رپورٹ) شیعہ علما ء کونسل کے صوبائی صدر سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں ملک دشمن اور بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے فقہ ورانہ فضا خراب کرنے کی گھناؤنی سازش کی گئی ہے جسے پوری قوم کی مدد سے ناکام بنایا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح شیعہ مراجع عظام نے اہلسنت برادران کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح اہلبیتؑ اطہار کی طرف اٹھتی انگلیوں کو بھی فوری طور پر کاٹا جائے تاکہ پوری امت مسلمہ کے جذبات مجروع نہ ہوں اور ملک میں امن کی فضا قائم رہ سکے۔ وہ یہاں ساہیوال میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اس موقع پر صوبائی سینئر نائب صدر سید ساجد نقوی، صوبائی جنرل سیکرٹری سید جعفر نقوی، سیکرٹری اطلاعات مرزا تقی اور ضلعی صدر نثار ابو ذر چوہان ایڈووکیٹ کے علاوہ عہدیداران و کارکنان کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی آپس میں سگے بھائیوں کی طرح ہیں اور محرم کے حالیہ دنوں میں جلوس کے راستوں میں اہلسنت برادران کی طرف سے پانی و شربت کی سبیلیں لگا نا اس بات کی دلیل ہے کہ حسین علیہ السلام کسی مخصوص فرقے کے نہیں بلکہ سب کے رہبر ہیں. لیکن انتظامیہ نے کئی جگہوں پر ان کے خلاف بھی کارروائیاں کیں انہوں نے مشکلات برداشت کر کے اہلبیت اطہار سے محبت و مودت کا اظہار کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ریاستی ادارے کسی مخصوص مسلک کی حمایت کے جانبدارانہ رویے سے گریز کریں کیونکہ یہ ملک ہمارے آباؤ اجداد کی مشترکہ قربانیوں سے معرض وجود میں آیا، جس میں سب کو مذہبی ٓآزادی حاصل ہے۔

سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا کہ چوچک اوکاڑہ اور جہلم کے واقعات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پورے صوبے میں اہل تشیع کے خلاف یکطرفہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں جو کسی طور پر قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ خاندان رسول و اہلبیت اطہار کے خلاف بھونکنے والوں کو کھلا چھوڑا گیا ہے جبکہ اوکاڑہ کے گاؤں چوچک میں جلوسوں پر حملے اورعزاداروں پر تشدد کے بعد الٹا انہی کے خلاف پرچے کاٹے گئے جو متعلقہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے تعصب کے واضح ثبوت ہیں لیکن انتظامیہ ان کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے سے گریزاں ہے۔انہوں نے اس امر پر شدید حیرت و غصے کا اظہار کیا کہ سی ٹی ڈی کو سوشل میڈیا چیک کرنے کا اختیار ملنے کے بعد اہل تشیع کے خلاف کارروائیوں میں اس حد تک شدت آ چکی ہے کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے کو تو کچھ نہیں کہا جاتا لیکن کمنٹ یا شیئر کرنے والے کو دھر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سید علی خامنائی کے فرمان کے مطابق موجودہ حالات میں تفرقہ پھیلانے والا صرف طاغوت کا ایجنٹ ہوگا۔انہوں نے گورنمنٹ سے مطالبہ کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباؤ اجداد،ان کے والدین اورمددگار چچا حضرت ابوطالب کی تکفیر کرنے والے عناصر کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور محرم میں درج کی جانے والی تمام جعلی ایف آئی آرز کا خاتمہ کرکے گرفتار شہریوں کو رہا کیا جائے ورنہ پوری قوم حکومت کے خلاف احتجاج کرے گی جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں