54

تھیلسیمیا…ایک حقیقت …(محمد تنویر اسلم)

تحریر: محمد تنویر اسلم

کچھ دن پہلے ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک باپ اپنے بیٹے کی کربناک موت کا ذکر کر رہا تھا تھا جو کہ تھیلیسیمیا کا مریض تھا کہ کیسے اس نے اپنے بیٹے کی بیماری کے خلاف تگ ودو کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا. تعویذ گنڈوں والے عاملوں سے لے کر لندن کے ڈاکٹرز تک اس کا علاج نہ کر سکے. تو سوچا کیوں نہ تھیلیسیمیا کے بارے میں لکھا جائے. عام لوگوں کو شعور دیا جائے اور ضروری پہلو کو اجاگر کیا جائے.

تھیلیسیمیا ایک جینیاتی بیماری ہے جو کہ والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے. تھیلیسیمیا کی بنیادی وجہ جینز میں تبدیلی ہے جس کی وجہ سے خون کے پروٹین ہیموگلوبن نہیں بنتی. ہیموگلوبن ایک ایسی پروٹین ہے ہے جو خون اور جسم کے مختلف خلیوں کو آکسیجن مہیا کرتی ہے. آکسیجن کی وجہ سے خلیے زندہ رہتے ہیں اور زندگی کا وجود قائم رہتا ہے. ہیموگلوبن نہ ہونے کی وجہ سے خون کے سرخ خلیوں کو آکسیجن فراہم نہیں ہو پاتی جس کی وجہ سے وہ مرنے لگتے ہیں اور جسم میں خون کی کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے. خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مصنوعی خون لگایا جاتا ہے. تھیلسیمیا کے بچے کو باقاعدگی کے ساتھ خون کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس مقدار میں اضافہ ہوتا رہتا ہے. تھیلیسیمیا کے بچے زیادہ تر 20 سال کی عمر تک مر جاتے ہیں.

تھیلیسیمیا کے دو بڑے گروپ ہیں. تھلیسیمیا مائنر اور تھیلیسیمیا میجر. تھیلسیمیا مائنر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو کو تھیلیسیمیا تو ہوتا ہے لیکن ان میں علامات نہیں ہوتی اور وہ اپنی نارمل زندگی گزار رہے ہوتے ہیں. یہ لوگ اگلی نسل میں تھیلیسیمیا منتقل کرتے ہیں. تھیلیسیمیا میجر کے مریض مکمل طور پر پر تھیلیسیمیا کے مریض ہوتے ہیں اور ان کو باقاعدگی کے ساتھ خون کی ضرورت ہوتی ہے.

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 8 سے 9 ملین لوگ تھیلیسیمیا مائینر ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے. تقریبا ہر سال 5 ہزار سے نو ہزار بچے تھیلیسیمیا کے پیدا ہو رہے ہیں. پاکستان میں اس کی بنیادی وجہ کزن میرج یا خاندان کے اندر شادیاں کرنا ہے. کیونکہ اگر خاوند اور بیوی دونوں تھیلسیمیا مائنر ہیں تو لازمی طور پر ان کے بچے کو تھیلیسیمیا ہوگا. اس کا واحد حل کزن میرج یا خاندان کے اندر شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے یا شادی سے پہلے تھیلسیمیا کا ٹیسٹ لازمی کروا لیں تاکہ کہ اس بیماری کا پتہ لگایا جا سکے. ملکی سطح پر تھیلیسیمیا کے خلاف شعوری مہم کی ضرورت ہے اور ٹیسٹ کی فری سہولت بھی مہیا کی جانی چاہیے اور کزن میرج کے لیے تھیلسیمیا کا ٹیسٹ لازمی شرط ہونا چاہیے. یہ ہمارا معاشرتی فرض بنتا ہے کہ ایک پڑھے لکھے انسان ہونے کے ناطے ہم اپنے اردگرد کے معاشرے اور خاندان میں لوگوں کو کزن میرج کے نقصانات اور تھیلیسیمیا کے بارے میں شعور دیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں