50

امام علی پبلک افیئرز کمیٹی IAPAC … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

ہر سال کی طرح غم اور دکھ کا مہینہ, حضرت امام حسین اور آل کی یاد لئے آگیا ہے۔ اسلامی سال کا عیسوی سال سے تقریباً دس دن کے فرق کے باعث چھتیس سال میں ہر مہینہ ہر موسم سے گزرتا ہے اور یہ موسم تو ویسے ہی غم اور دکھ کا ہے؛ پہلے Covid, پھر پورے ملک میں بارشیں بالخصوص کراچی میں سیلاب اور اب امریکہ میں لوزیانا اور ٹیکساس میں لورا نام کا طوفان; گویا یہ مہینہ مسلمانوں کے لئے ہی نہیں زیادہ تر دنیا کے لئے تکلیف اور دکھ میں ڈوبا آیا ہے۔

ہر تکلیف اور دکھ اپنے ساتھ ایک سبق لیکر آتی ہے۔ آپ دنیا کے ننانوے فیصد کامیاب انسانوں کی زندگی کا تجزیہ کرلیں؛ وہ کسی دکھ یا تکلیف سے گزرے اور انھوں نے تہیہ کرلیا کہ آئندہ نہ خود کے ساتھ ایسا ہونے دیں گے نہ کسی دوسرے کے ساتھ۔ تو اہل بیت کی قربانی کیا رنگ لائی؟ اس سے پوری دنیا کے مسلمان کیا سیکھ پائے اور اسکا عملی زندگی میں مظاہرہ کیسے کر پائے؟

رسومات یا rituals کسی بھی وجہ سے شروع ہوں لیکن آہستہ آہستہ انسانی زندگی کا لازمی جزو بن جاتے ہیں؛ مثلاً شادی پر مہندی کی رسم ہندو سے شروع ہوئی یا مسلمان سے، یہ اب ایک خوبصورت اور خوشیوں سے بھرپور رسم ہے تو جس کا دل چاہے کرے جس کا چاہے نہ کرے؛ دربار پر ناچنے یا چومنے یا مانگنے سے کسی کو سکون ملتا ہے تو کفر کے فتوے دینے کا کیا فائدہ؟ اگر غریب کے لئے کلب نہیں ہیں تو ایسی ہی مزاروں یا عرس پر ناچ لے جب تک یہ قانون اور اخلاقیات کی حد میں ہو۔ ایسے ہی جو محرم میں ہاتھ سے عزاداری کرنا چاہے یا زنجیر زنی، یہ اسکا حق ہے اگر یہ اس ملک کے قانون کے منافی نہ ہو۔ لیکن سوال پھر وہی کہ ماتم کے بعد کیا؟

محرم میں کئی بار مجالس میں شرکت کا موقع ملا؛ معذرت کے ساتھ لیکن ذاکرین کا کوئی “ٹی ٹونٹی”چل رہا ہوتا ہے کہ کون سامعین کی زیادہ چیخیں نکلوائے گا کون رلائے گا؛ یہ بھی ٹھیک ہے کیونکہ نفسیات کا علم بھی ایسے کھل کر رونے اور جذبات کے بھرپور اظہار کی توثیق کرتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی پھوڑے abscess کو چیرا دے کر، مواد کو باہر نکالنا؛ لیکن پھر رلانے کے بعد کیا؟ جمع حاصل کیا؟

راقم نے رائے ونڈ کے لاکھوں کے تبلیغی اجتماع میں بھی شرکت کی ہے، سنتوں بھرے اجتماع میں بھی اور جہادی جلسے بھی دیکھے ہیں لیکن پوری دنیا میں محرم جیسے بڑے، موثر اور منظم اجتماعات کی بے پناہ اہمیت ہے؛ تاہم ایک ہی وقت میں پوری دنیا میں اتنی بڑی “ایکٹویٹی” کی “پروڈکٹیویٹی” کیا ہے؟ رونا، آنسو، چیخیں، خون! میرا ماننا ہے کہ اگر مسلمانوں میں کوئی گروپ (فرقہ لفظ بہتر نہیں) یہود کا بہتر طریقے سے مقابلہ کرسکتا ہے تو وہ اہل تشیع ہیں۔ اسکی وجہ دونوں میں غصہ اور (اپنوں پر) ظلم سے نفرت ہے؛ تھوڑا فرق یہ ہے کہ یہودیوں میں احساس عدم تحفظ اور ڈر پایا جاتا ہے جبکہ اہل تشیع میں نہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ حضرت امام حسین اور اہل بیت اپنی مرضی سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے جبکہ یہودیوں کو ہولوکاسٹ میں زبردستی مارا گیا جلایا گیا۔

ایک مسلمان بچے کے اس آگاہی سے پہلے کہ وہ بچہ شیعہ بنے گا یا سنی؛ پہلے ہیرو عمومی طور پر حضرت علی رضی الّلہ عنہ ہوتے ہیں؛؛ کیونکہ ہم انھیں حضور کے کزن اور جانثار اور بہادر ساتھی کے نام سے جانتے ہیں۔ راقم کا بھی یہی عالم تھا؛ ہمیشہ حضرت علی کی طرح شجاع بننے کی آرزو رکھتا تھا بلکہ خواہش تھی کہ علی کے نام سے پکارا جاؤں لیکن کسی نے اس خواہش پر کان نہیں دھرے؛ شکر ہے امریکہ میں آخری نام کی وجہ سے سارا دن کلینک میں “ڈاکٹر علی” ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن حضرت علی کی شجاعت اور امام حسین کی قربانیوں کے وارث اتنے وسائل ہونے کے باوجود حق ادا نہیں کررہے۔ محض رونا دھونا کررہے ہیں۔

یہودی لابی کی ریڑھ کی ہڈی AIPAC یعنی American Israel Public Affairs Committee ہے- انکا سال میں ایک بار واشنگٹن ڈی سی میں اجتماع ہوتا ہے جس میں پوری دنیا پر اپنی پالیسیوں کے اطلاق کے لئے پلاننگ ہوتی ہے۔ اس سال راقم کو ایک یہودی دوست کی مدد سے شرکت کا موقع ملا۔ بیس ہزار بہترین دماغ یہودیوں کے اجتماع کی طاقت دیکھ لیں کہ امریکی نائب صدر پینس؛ امریکہ کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن؛ اسرائیل کے وزیراعظم سمیت بڑی شخصیات نے شرکت کی اور سارے سیشنز میں ایران کو اسکے “دائرے” میں رکھنا اہم ایجنڈا تھا۔ شیعان علی ہر سال لاکھوں ڈالر چیخیں نکلوا دینے والے ذاکرین کو امریکہ بلانے میں لگا دیتے ہیں تو کیوں نہیں حضرت علی کی ذہانت اور بہادری کی پیروی کرتے IAPAC یعنی IMAM ALI Public Affairs Committee بناتے اور لابنگ کرتے؟ محرم کے جوش اور ولولے کو مثبت انرجی میں تبدیل کرکے کچھ نتائج حاصل کرتے؟ محرم کی دس گیارہ اور بارہ تاریخ کو اجتماع واشنگٹن ڈی سی میں کرتے جس میں ایک دن سوگ اور باقی دو دن اسی جوش اور جیت کے جذبے سے کام۔ تاریخ میں بہت کم جنگجو گزرے ہیں جو بہادر بھی تھے اور دانشور بھی؛ حضرت علی ان میں سب سے پہلے نمبر پر ہیں؛ شجاع بھی اور علم کا دروازہ بھی! یہودیوں نے 1945 میں ہولوکاسٹ کے بعد 1951 میں AIPAC بنائی اور خود سے وعدہ کیا کہ اب ظلم دوبارہ نہیں ہونے دیں گے اور ایسا ہی ہوا؛ امریکہ نے 9/11 کے بعد عوام سے وعدہ کیا کہ اب ایسا نہیں ہونے دیں گے اور ایسا ہی ہوا؛ اور ہم ساڑھے تیرہ سو سال سے ماتم ہی کررہے ہیں؛ آج غم کی کیفیت سے گزر کر تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ آج حضرت علی رضی الّلہ عنہ زندہ ہوتے تو کیا کرتے اور اگر بات سمجھ میں آئے تو ابھی دیر نہیں ہوئی! “یزید تھا حسین ہے” جزوی طور پر درست ہے؛ یزید ہر دور میں رہے گا شکل بدل بدل کر؛ اسکا مقابلہ کرنا ہی وہ سبق ہے جسے دینے کے لئے آل رسول قربان ہوئی! اگر اس سبق کی پیروی نہ کی تو ہم نے حق ادا نہ کیا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں