148

کیا امریکہ کا زور ختم ہونے والا …. (تنویرساحر)

تحریر: تنویر ساحر

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

جس چیز کی طلب میں اضافہ ہو ہمیشہ اسکی قیمت بڑھتی ہے لیکن یہ بات گولڈ پہ صادق نہیں آ رہی ۔ سونے کا بظاہر مصرف تو زیورات تھے جو عمومإ خوشحالی میں خریدے جاتے ہیں اور گزشتہ چھ ماہ سے دنیا کوڈو 19 کی جس کفیت سے دوچار ہے اس سے دنیا بھر میں لوگوں کی شرح آمدن اتنی متاثر ہوٸی ہے کہ انسان صرف ضرورت کی بنیادی چیزیں خوراک اور ادویات ہی بمشکل پوری کر پا رہے ہیں اشیاٸے زیباٸش کی خرید قوت خرید سے باہر نکل چکی ہے ایسے میں جب سونے کا خریدار ہی موجود نہیں پھر بھی سونے کی قیمتوں کا مسلسل بڑھنا کسی اور طرف ہی اشارہ کرتا ہے جس کو سمجھنے کی کوشش کریں تو دنیا تیسری بڑی عالمی جنگ سے قبل ہی ویسے حالات سے دوچار ہوتی نظر آ رہی ہے اور سپر پاور کا بنا کسی جنگ کے عنقریب زوال ممکن ہے اگر سونے کی پرواز اسی طرح سے جاری رہتی ہے ۔۔۔
سوویت یونین کے زوال کے بعد دنیا میں طاقت کا توازن امریکہ تک محدود ہو گیا تھا جس نے اپنی صدیوں پر مشتمل پالیسیوں کے باعث اپنی کرنسی ڈالر کو اتنا استحکام دیا کہ ڈالر انٹرنیشنل کرنسی بن گٸی متعدد ممالک اپنی امپورٹ ایکسپورٹ میں ڈالر بطور کرنسی استعمال کرتے ہیں اور ملکوں کو طاقت یا کرپشن سے مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا لین دین ڈالر کی کرنسی میں کریں ۔
12 سال پہلے بھی اچانک سونے کی قیمتیں 70 سے 80 ہزار روپے فی تولہ تک جا پہنچی تھیں جب کہا یہ جا رہا تھا کہ چین اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے دنیا بھر سے سونا خرید کر اپنے سونے کے سٹاک کو بڑھا رہا ہے اس لیے سونا مہنگا ہوا ہے اور موجودہ کچھ دنوں میں بھی سونا اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا ہے جو تین دن پہلے تک ایک لاکھ تیس ہزار روپے فی تولہ پر خرید وفروخت ہوتا رہا دنیا بھر میں موجود سونے کی جو بھی قیمت ہو پاکستانی روپے میں اسکی یہی قیمت بنتی ہے ۔
اس بار بڑھتی قیمت پر یہ سننے میں آیا کہ کیونکہ ترکی اپنے سو سالہ معاہدے سے باہر آ رہا ہے لہذا اپنی معاشی طاقت کو بڑھانے کے لیے ترکی نے سونے کی خرید شروع کر دی ہے اس لیے سونے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ۔۔۔ جبکہ درحقیقت یہ کیسے ممکن ہے کہ کوٸی ایک ملک دنیا بھر کی یا آدھی دنیا کی کرنسی خریدنے کی استطاعت رکھتا ہو یا ایسا سوچے یہ ممکن ہی نہیں فقط مفروضات ہیں سونے کی قیمت بڑھنے کے ۔
سونے اور کرنسی کا آپس میں گہرا تعلق ہے کوٸی بھی ملک اتنی مالیت کی کرنسی ہی چھاپ سکتا ہے جتنا اس کے پاس سونا ہو یہ اصول صدیوں پرانا ہے ۔۔۔ پہلے پہل جب کرنسی کا وجود نہیں تھا تو لوگ سونے کو بطور کرنسی استعمال کرتے تھے یا جنس کے تبادلے سے لین دین ہوتا تھا جو موجودہ دور تک بھی جاری ہے جس کے لیے دنیا بھر میں (سویپ ) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے لیکن کرنسی آنے کے بعد سونا بطور کرنسی استعمال ہونا بند ہو گیا تھا ۔ البتہ امریکہ نے کچھ عرصہ پہلے سونے اور کرنسی کے بنیادی اور انٹرنیشنل اصول کو ٹوڑتے ہوٸے اپنی کرنسی کو ہی گولڈ قرار دے دیا تھا کہ ضروری نہیں جتنی وہ کرنسی چھاپ رہا ہے اتنا اس کے پاس سونا بھی ہو اس کی کرنسی ہی گولڈ ہے جبکہ درحقیقت سونے کے وجود کے بغیر کاغذ کا نوٹ سواٸے ردی کے ٹکڑے کے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔
کرنسی بھی اسی طرح وجود میں آٸی تھی کہ جب بنک بنے تو انہوں نے سونا رکھ کر لوگوں کو اس کی رسیدیں دینی شروع کر دیں اور لوگوں نے بار بار بنک جانے کی بجاہے بنک کی وہی رسید لین دین میں استعمال کرنی شروع کر دی کیونکہ وہ بنک کا لکھا ہوتا تھا کہ اس رسید کے حامل کا اتنا سونا ہمارے پاس موجود ہے اسی فارمولے نے بعد میں کرنسی کا روپ دھار لیا لہذا کوٸی بھی ملک یا بنک اتنی ہی رسید جاری کر سکتا ہے جتنا اس کے پاس سونا موجود ہو اگر وہ سونے کے بغیر کرنسی یا رسیدیں جاری کرتا ہے تو وہ سارا نظام حقیت سے دور ہوا میں کھڑا ہو گا جو کسی وقت بھی دیوالیہ ہوکر زمین بوس ہو سکتا ہے ۔
امریکہ ہر لمحے دنیا بھر میں اپنا تسلط اور ڈالر کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کرتا رہتا ہے جن میں کٸی ممالک پر حملے اور کٸی ممالک پر اقتصادی پابندیاں عاید کرنا شامل ہے تاکہ دنیا بھر میں ہونے والے کاروبار پر بھی پٹرول کے ذریعے اس کا اثر قایم رہے اور امریکہ کا کاروبار اس کی معیشت کو مضبوط کرتا رہے اگر امریکہ کے علاوہ کوٸی اور ملک جنگی جہاز یا اسلحہ بناتا ہے یا پٹرول کے بزنس میں آتا ہے تو امریکہ ہر طریقہ اختیار کرتے ہوٸے اس کا راستہ روکتا ہے کیونکہ اسکی اپنی معیشت انہی کاروبار پر کھڑی ہے وہ کسی اور کو ان میں مضبوط نہیں ہونے دیتا یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے دنیا میں جنگ و جدل کی اور مختلف ممالک پر عاید ہونے والی اقتصادی پابندیوں کی ۔
جب کوٸی ملک اقتصادی پابندیوں کی زد میں آتا ہے تو اس کا سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ امپورٹ ایکسپورٹ نہیں کر سکتا دیگر ممالک نہ اسے کوٸی چیز فروخت کرتے ہیں نہ اس سے خرید سکتے ہیں تب اس کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اور اپنی معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے خفیہ طور پر اپنی امپورٹ ایکسپورٹ کرٸے اور سونے کو بطور کرنسی استعمال کرٸے جیسے کہ کچھ ماہ پہلے خبر ملی کہ وینزویلا نے اپنی ڈوبتی ہوٸی آیل ریفاینری کو بچانے کے لیے ایران سے معاہدہ کیا دونوں ملک اقتصادی پابندیوں میں ہیں لہذا ایرانی ایر کمپنی ماہان کے جو طیارے وینزویلا کی آیل ریفاینرری کے لیے سامان لیکر جاتے تھے واپسی میں ان پر سونا بھر کر تہران آیا ہے جسکی مالیت پچاس کڑوڑ ڈالر کے لگ بھگ بتاٸی جاتی ہے جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ کو بیان دینا پڑا کہ دنیا پر لازم ہے وہ ماہان ایر کے طیاروں کو اپنی فضاوں میں پرواز سے روک دیں ۔۔۔۔
سونے کی دن بدن مسلسل بڑھتی ہوٸی قیمتوں پر غالب امکان یہی ہے کہ پابندیوں میں جکڑے ملک سونے کو بطور کرنسی استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سونے کا عوامی خریدار انتہاٸی کم ہونے کے باوجود سونے کی قیمتیں روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہیں اور سونا عام آدمی کی قوت خرید یا خواہش سے بھی باہر ہونے کے باوجود جیولرز کے کاروبار ٹھپ ہونے کی بجاٸے رواں دواں ہیں تو اسکا یہی مطلب ہے کہ سونا اب بطور زیباٸش نہیں بطور کاروبار استعمال ہورہا لوگ اسکی کاروبار کے طور پر خرید و فروخت کررہے ہیں کیونکہ کرنسی ہمیشہ سونے کے مقابل غیر مستحکم ہوتی ہے لہذا کاروباری طبقے بھی ڈالر فروخت کر کے سونا خرید رہے ہیں اور پابندیوں میں جکڑے ملک سونے کو بطور کرنسی استعمال کر رہے ہیں جس سے سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
اگر سونا اسی طرح اتنی تیزی سے بطور کرنسی استعمال ہوتا ہے تو ڈالر کی انٹر نیشنل کرنسی جس کا زوال پچاس سال بعد توقع کیا جا رہا تھا موجودہ حالات میں اسکی ابتدا بہت جلدی ہو چکی ہے اور امریکہ جو بظاہر سپر پاور اور خود کو بہت مضبوط معیشت تصور کرتا یے کہ دنیا میں پہلے اس کے 800 اڈے تھے اب 1300 ہیں یہ سب ہواٸی قلعے ثابت ہوں گے اور دنیا پر تسلط کی یہ اسکی اپنی پالیسیاں ہی جلد اسے کھنڈرات میں تبدیل کرنے کا باعث بن جاہیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں