34

بھارتیوں کا کمال؛ کمالا … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

کل رات انڈین امریکن کمیلا دیوی ہیرس امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے نائب صدر نامزد ہوگئی؛ ایک نئی تاریخ لکھی گئی۔

ڈاکٹر آصف محمود کیلیفورنیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رکن ہیں۔ تین سال پہلے وہ کیلیفورنیا میں لیفٹیننٹ گورنر کے لئے الیکشن لڑ رہے تھے تو راقم نے انکے لئے اوہائیو کمیونٹی کے ساتھ فنڈ ریزر کا اہتمام کیا جبکہ دیگر شہروں میں بھی انکی سپورٹ کی۔ جولائی 2019 میں انھوں نے رابطہ کیا کہ وہ صدارتی امیدوار انڈین امریکی کمیلا دیوی ہیرس کی کمپین کے “کو چئیرمین” منتخب ہو گئے ہیں اور تیرہ ستمبر 2019 کو ہیوسٹن میں اسکے فنڈ ریزر میں میری سپورٹ درکار ہے جبکہ ڈیلاس کے فنڈ ریزر کی پلاننگ بھی کرنی تھی؛ لیکن پھر پانچ اگست آگیا اور کشمیریوں پر ہوئے ظلم سے وہ آگ بھڑکی کہ مجھ سمیت بہت سے پاکستانیوں نے کمیلا کی مدد سے معذرت کرلی۔ کمیلا کی مقبولیت کم ہورہی تھی اور وہ الیکشن سے باہر ہوگئی لیکن تقدیر نے پلٹا کھایا اور آج وہ امریکہ کی نائب صدر بننے جارہی ہے۔ رواں سال 29 جون کو لکھے گئے کالم ( “اپنا” عروج، “اپنا” زوال) میں راقم نے پاکستانیوں کی پولیٹیکل اپروچ اور انڈین کی پولیٹیکل اپروچ کے حوالے سے لکھا تھا کہ ہماری سوچ ایک تنظیم کا صدر بننے تک ہے اور انڈین کمیلا دیوی امریکہ کی نائب صدر بننے جارہی ہے اور وہی ہوا۔

ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف “ہودی مودی” جلسے میں مودی کے ساتھ کھڑے ہوکر بدزبانی کی، یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کھول دیا اور امریکہ میں نسل پرستی کو ہوا دی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کمیلا دیوی ہیرس پاکستان کے لئے ٹرمپ سے بہتر ثابت ہوگی؟ جواب ہے ہاں بھی اور نہیں بھی۔ کمیلا دیوی ہیرس کا کشمیر بارے گول مول بیان؛ کھل کر اسرائیل کی حمایت اور یہودی شوہر بہت سے شکوک کو جنم دے رہا ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے، پاکستانی امریکن کہاں جائیں؟ جواب پھر وہی ہے کہ اپنی شناخت بنائیں۔

کیسے ایک یا دو لوگ اپنے ملک کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ کمیلا اور سندر کو ہی دیکھ لیں۔ کمیلا دیوی ہیرس اور سندر پچائی (گوگل سی ای او) کے “سی وی” میں کوئی ایک خاص بتادیں؟ سندر آئی آئی ٹی سے پڑھا جیسا کہ ہماری LUMS جبکہ کمیلا نے درمیانی سی یونیورسسٹیوں سے تعلیم حاصل کی- لیکن ان میں ایک خوبی تھی اور وہ تھی “گول سیٹنگ”, مرکز کا تعین؛ جوش اور جذبہ لیکن اسکے پیچھے عملی محنت نہ کہ کھوکھلے نعروں، ملی نغموں، ترانوں، فیصل آبادی جگتوں اور الطافی تڑیوں پر زندگی گزار دی۔

کیا مشکل ہے کہ جس امریکہ میں بیس ہزار سے زائد ڈاکٹر، کمیلا اور سندر سے زیادہ بہتر اور competitive یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں سے اسپیشلائزیشن کرکے نکلیں لیکن آج تک ایک کانگریس مین بھی نہ بن سکے، سینیٹر تو بعد کی بات ہے جبکہ چار انڈین کانگریس مین اور ایک سینیٹر جو اب نائب صدر بننے جارہی ہے۔ جو بائیڈن کی اس نے جو چھترول کی ہے اسکے بعد صاف ظاہر ہے کہ وہ ڈک چینی سے بھی تگڑی نائب صدر ہوگی۔

پاکستانی امریکن کمیونٹی اموشنلی امیچور ہے؛ ہمیں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کی ego پر دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ کسی کی ہاں میں ہاں نہ ملی، کسی کی تصویر فیس بک پر نہ لگی اور شکریہ ادا کرنا بھول گئے تو گئے کام سے۔ مثال کے طور پر راقم اور اسکی ٹیم چار سال سے نوجوان فزیشن کو قرضہ دیکر امریکہ میں آگے پڑھنے میں مدد دے رہی تھی کہ ایک یا دو لوگوں کی ego نے پورا نظام تباہ کردیا اور اب یہ نوجوان روز
روتے سسکتے رابطہ کرتے ہیں۔

ششی تھرور لکھتا ہے کہ کمیلا ہیرس کے بعد انڈین امریکیوں کا عملی سیاست کے بارے کلچر تبدیل ہونے والا ہے۔ جیسے پہلے مشہور تھا ہر انڈین امریکی گھر سے بچہ ڈاکٹر، وکیل، آئی ٹی یا ناسا میں جاتا تھا اب انڈین ماں باپ بچوں کو طعنے ماریں گے کہ “شرم کرو کمیلا کو دیکھو؛ تم ابھی تک مئیر بھی نہیں بنے”! اور اس ٹرینڈ کے بعد پاکستانیوں کی امریکہ میں اس سے بری حالت ہوگی جتنی جنوبی ایشیا میں ہے کیونکہ نہ تو یہاں ایٹم بم کی تڑی چلے گی نہ “ٹی از فنٹاسٹک” کا شغل؛ یہاں جو سیاسی عمل میں بچوں کو لیکر آئے گا وہ ہی آگے نکلے گا۔ اب یہ کیسے ہوگا، اسکے اوپر تفصیل سے لکھا جائے گا؛ فی الحال آپکا ایک بچہ جو وکالت میں دلچسپی رکھتا ہو اسکی سیاست میں دلچسپی پیدا کریں؛ سوال جوابات کو، دلیل کو، منطق کو فروغ دیں۔ بچے کو بتائیں کہ اگر وہ سیاسی نظام کا حصہ نہیں ہوگا تو محض ایک لیمبرگینی چلاتا غلام ہوگا۔ ہمارے دوست کانگریس مین مائیک ٹرنر نے ایک بار مجھے کہا تھا if you don’t have a voice, someone else will; یعنی اگر تم آواز بلند نہیں کروگے تو وہ دب جائے گی۔تو چلیں پھر اس پر کام شروع کریں! فی الحال تو انڈین کے کمال اور کمیلا پر انھیں مبارک باد بنتی ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں