131

حضرت بابافرید علیہ رحمت کا عرس مبارک قبل از وقت ختم…! (محمد جمیل فریدی)

تحریر: محمد جمیل فریدی

بس اِک ہماری پیاس پہ پہرے تھے اس کے بعد
دریا پہ آج تک کوئی پہرہ لگا نہیں

بالآخر زُہدالانبیاء شیخِ بحر و بر چشتیہ سلسلہ کی عظیم روحانی شخصیت حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجشکر رحمتہ اللّٰہ علیہ کا روحانی، نورانی، وجدانی، تاریخی، تقافتی عُرس مبارک قبل از وقت ختم کر دیا گیا. جبکہ ابھی عرسِ مقدس کے تین دن باقی تھے. صدیوں سے منعقد ہونے والا عُرسِ مبارک محدود ایام، محدود انتظامات، محدود عقیدتمندان کے ساتھ اختتام پزیر تو ہوگیا. لیکن اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا. ہر سال بابا حضور کے آستانے پر حاضری دینے والے لاکھوں زائرین جو تصوف کے فیوض و برکات کے حصول کے لیئے اس مقدس آستانہ پر حاضر ہوتے تھے کی روحانی تشفی و تسکین کیسے ہوگی؟ پاکپتن کے ہزاروں دوکاندار مزدور ریہڑی بان جِن کے سالانہ روزگار اس عُرس سے وابسطہ تھے ان کے ہونے والے مالی نقصانات کا ازالہ کیسے ہوگا؟ بابا صاحب کے دربار کے لنگر سے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے والے ہزاروں غریب، نادار، مستحقین کے احساسِ غربت اور احساسِ محرومی کے خاتمے کا کیا تدارک ہوگا؟ اندرون و بیرونِ ملک سے آنے والے قوال، گائیک جو اس آستانہ پر حصولِ روزگار کے لیئے آتے تھے اُن کی روزی چِھن جانے کا جواب کون دے گا؟ یقیناً ان اور ان جیسے کئی سوالات کے جوابات کبھی نہ مِل سکیں گے.

آج مُجھے محترم المقام سجادہ نشین آستانہ عالیہ بابا فریدالدین رحمتہ اللّٰہ علیہ حضور دیوان مودود مسعود فاروقی چشتی صاحب ُ کو خِراجِ عقیدت پیش کرنا ہے جو کہ ایک نفیس الطبع اور کم گو شخصیت کے حامل سجادہ نشین ہیں آپ اپنے مزاج سے ہٹ کر سامنےتشریف لائے صدیوں سے انعقاد پزیر ہونے والی سلسلہ چشتیہ کی روحانی رسومات، محافلِ سماع اور اوقاتِ بہشتی دروازہ کو دو گھنٹے تک محدود کرنے کے خلاف آواز بلند کی جِس کے نتیجے میں رسومات بھی ہوئیں آپ کی سرپرستی میں محافلِ سماع کا انعقاد بھی ہوا اور بہشتی دوازہ دودِن نمازِ عشاء سے نماز فجر تک بِلا تعطل کُھلا رہا. سجادہ نشین فیملی کے تمام افراد بلخصوص نوجوانوں کو بھی خِراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے آپس میں مکمل اتفاق و اتحاد اور محبت کا عملی مُظاہرہ کیا اور اپنے جدِ امجد بابا صاحب کے روایتی عُرس مبارک کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے، عرس مبارک کے تاریخی حیثیت کو قائم و دائم رکھنے کے لیئے آگے بڑھے اور انھیں باباجی کی اولاد ہونے کاجو شرف حاصل ہے اُس کا عملی مظاہرہ کیا آج مُجھے خود سمیت شہرِ فرید کے باسیوں سے سوال کرنا ہے کہ کیا ہم نے اس روحانی شہر کے شہری ہونے کا حق ادا کیا؟ کیا ہم سجادہ نشین فیملی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے؟ جب ہر طرف سے عرس مبارک کو محدود سے محدود تر کیا جارہا تھا، ہم آگے بڑھے؟ ہم نے اپنے گھروں میں محافلِ سماع کا انعقاد کیا؟ کیا ہم نے اپنے گھروں میں مساکین، غُرباء اور زائرین کے لیئے لنگرِ فریدی کا انتظام کیا؟ جب ہماری دوکانوں رہائش گاہوں کے آگے بلا وجہ عرس سے کئی دِن پہلے دیواریں کھڑی کر دی گئیں ہم نے آواز اُٹھائی؟

عزیز بھائیو: بابا فرید کی جائے مسکن پاکپتن شریف کا شہری ہونا ہمارے لیئے باعثِ سعادت ہے بابا فرید علیہ رحمت کی زاتِ اقدس کی نسبت سے پاکپتن ہماری شناخت ہے، ہمیں اپنے شہر کو ایک اسلامی، روحانی شہر کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیئے اپنی زمہ داریوں اور فرائض کا احساس کرنا ہوگا. تاکہ آئیندہ کبھی کوئی بھی بھی ہمارے شہر کے حتق تاریخی، روحانی، وجدانی و ثقافتی عرسِ مقدس کو محدود کرنے کی جرآت نہ کرسکے اور بابا فریدالدین رحمتہ اللّٰہ علیہ کا روحانی فیضان ہمیشہ جاری و ساری رہے.

دُنیا میں فریدی نہیں کُچھ اور چاہئیے
قسمت سے مِل گئی ہے گدائی فرید کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں