52

حسد کی ”قربانی“ … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

حسد کا مفہوم ہے کہ کسی کے پاس کچھ ہے وہ اس سے چھن جائے بے شک “مجھے ملے یا نہ ملے”!
رشک کا مفہوم ہے کاش میں بھی اس جیسا حسین، کامیاب یا امیر ہوجاؤں۔ رشک والا اس سے بے پرواہ ہوتا ہے کہ دوسرے میں اسکی خوبیاں یا نعمتیں رہیں یا نہ رہیں۔

مذہبی نقطہ نظر سے حسد حرام ہے ایسے ہی نیکیوں کو کھانے والا جیسے آگ سوکھی لکڑی کھاتی ہے۔

منطق کی رو سے حسد غلط ہے کیونکہ اگر “مسٹر حسد شریف” کے شر سے مارک ذکر برگ، جیف بزوس اور مکیش امبانی سڑکوں پر بھیک مانگنے پر بھی آجائیں تو اس سے “مسٹر حسد شریف” کے گھر کے دانوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔

نفسیاتی سائنس کی رو سے حسد غلط ہے کیونکہ آپکے دماغ کے ہارڈ ویر کو پروگرامنگ کی ضرورت ہے؛ سافٹ وئیر رشک اور ترقی کا ہوگا تو آگے بڑھنے کے راستے پراسیس کرے گا؛ اور حسد کا ہوگا تو نئی نئی سازشیں یا بددعائیں ڈھونڈ کرلائے گا لیکن کبھی سوئی دھاگہ تک بنانے کی صلح نہیں دے گا۔

گمان غالب ہے کہ مذہب یا تربیت کا احسان ہے کہ جب چھوٹی عمر میں جب منطق اور نفسیات کا علم نہیں ہوتا تو “نیکیاں جلانے” جیسا خوف ہی حسد سے دور رکھ لیتا ہے۔ کچھ لوگوں میں منطق اور شعور بڑی عمر میں بھی نہیں آتا تو گویا اگر وہ مذہب کی معاشرتی تعلیمات کو “انّے وا” بھی فالو کرلیں توبھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔مثلاً کچھ لوگ نشہ بچپن میں الّلہ کے خوف سے نہیں کرتے جبکہ بڑے ہوکر مذہبی ہی نہیں بہت سے غیر مذہبی بھی منطق اور عقل کے باعث اسکے نقصانات جان کر نشہ نہیں کرتے۔

اس سب “گیان” کے باوجود حسد ایک حقیقت ہے اور شاید ہی کوئی ایسا انسان دنیا میں ہو جس نے کبھی حسد نہ کیا ہو۔ حسد کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے!

مثلاً ایک تربوز والا اپنی ریڑھی پر تربوز لگا رہا ہے اور اسکا بچہ تربوز دھو کر اسے دے رہا ہے۔ سامنے سے چمکتی کرولا پر اسکول کی یونیفارم پہنے ایک بچہ اسکول جارہا ہو تو اسکے دل میں حسد آسکتا ہے کہ اسکا اپنا بچہ نہیں اسکول جاسکتا تو کسی کا بھی نہ جائے۔

ایک بندہ جولائی میں ننگے پیر پھر رہا ہے، سامنے سے کوئی اٹلی کے بنے جوتے پہننے گزرے تو اس کے دل میں حسد آسکتا ہے کہ اس سے بھی جوتے چھن جائیں۔
اسے آپ “منطقی حسد” کہہ سکتے ہیں۔ گو کہ ان دونوں مثالوں میں بھی حسد غلط ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کرولا اور اٹلی کے جوتے والے بھی پہلے تربوز بیچتے ہوں اور اپنی محنت سے آگے آئے ہوں لیکن بہرحال اس حسد کی وجہ سمجھ آتی ہے۔

پھر آتا ہے ہماری منافق سوسائٹی کا “سگنیچر “حسد۔ آپ کو جب بھی پیسوں کی ضرورت پڑے، اپنے امیر رشتہ دار سے مانگیں اور ساتھ ہی حسد بھی ہو کہ اس سے دولت چھن جائے۔

آپ ایک کارڈیالوجسٹ دوست سے مفت علاج کروائیں ساتھ ہی اسکے بھرے ویٹنگ روم کو دیکھ کر ہر مریض کو پانچ ہزار سے ضرب دیکر اسکی کمائی کے اندازے لگا کر حسد کریں کہ اسکی “ہٹی” بند ہوجائے۔

آپ اپنے کسی دوست کے ایم پی اے یا کانگریس مین سے تعلقات کا فائدہ اٹھا کر کام نکلوائیں اور حسد کریں کہ اسکے تعلقات نہ رہیں۔

آپ کسی تنظیمی انتخابات میں اپنے دوست کے “تعلقات” سے فائدہ اٹھا کر اسکے ذریعے ووٹ لیکر جیتنا چاہیں لیکن ساتھ ہی اسے پس منظر میں دھکیلنا چاہیں، اسکی راہ میں روڑے اٹکائیں کہ “بڑا اڑ رہا ہے یہ، پر کاٹو اسکے”۔

یہ حسد ہمیشہ عقل سے بالاتر ہے، جس سے فائدہ اٹھائیں، اسی کا نقصان چاہیں؛ شاید حضرت علی نے اسی غیر منطقی حسد کے بارے میں فرمایا ہوگا کہ “جس پر احسان کرو اس کے شر سے ڈرو”!

اچھی بات یہ ہے کہ ایسے حاسد دور سے پہچانے جاتے ہیں اور اپنی حاسدانہ پروگرامنگ کے باعث آپ دیکھیں گے کہ
یہ اپنے ہم عصروں سے کم کامیاب ہوں گے۔ اگر ہم عصروں کے پاس دو بوری ہے تو انکے پاس ایک بوری ہوگی وہ بھی ہوئی تو۔
عموماً ملازم غیرمنطقی حسد کرتے ہیں۔ کاروباری لوگ بھی حاسد ہوتے ہیں لیکن منطقی۔ جس سے فائدہ ہورہا ہو اسکا برا کم چاہتے ہیں۔
یہ بنجر دماغ کے ہوں گے۔ جب سافٹ وئیر ہی حسد کا ہے تو نئی سوچ نیا آئیڈیا کہاں سے آئے گا۔لیکن دوسروں کے آئیڈیاز چوری کرکے اپنا اسٹیکر لگانے کی کوشش ضرور کریں گے۔
یہ کسی نہ کسی دماغی مرض بالخصوص سٹریس، اینگزائٹی یا ڈپریشن کی دوائی پر ہوں گے۔
یہ عمومی طور پر خوش نہیں ہوں گے اور جس کے زیادہ قریب ہوں گے اس سے زیادہ حسد کریں گے۔
ان کی بیوی/میاں کی زندگی اذیت میں ہوگی کیونکہ کوئی اور نہ ملے تو اسی سے جلنا کڑھنا شروع کردیں گے۔

لیکن خوشخبری یہ ہے کہ حسد کوئی ایسی بیماری نہیں جس کا علاج نہیں۔ ہم اپنے دماغ کی پروگرامنگ کر سکتے ہیں۔ جیسے جیسے ہمارے پاس اپنی مثبت سوچ، اپنی کامیابی کے آئیڈیاز آتے جائیں گے دوسروں کی نعمتوں پر توجہ کم ہوتی جائے گی۔ ہم بتدریج غیر منطقی حسد سے منطقی حسد اور پھر اسے بھی اگر ختم نہیں تو کم سے کم کرسکتے ہیں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی انسان کسی خوبی کے بغیر پیدا ہوا ہو۔ ذرا دوسروں کو چھوڑ کر خود کے دماغ کی “کان” میں کان کنی کریں؛ جسے آپکا حسد جلا ہوا کوئلہ سمجھ رہا ہو اس میں سے ہیرے جیسی سوچ یا آئیڈیا نکل سکتا ہے جو آپکو مارک ذکر برگ بھی بنا سکتا ہے اور ایدھی بھی!
تو چلیں پھر اس عید پر تھوڑا سا حسد بھی ذبح کردیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں