24

مصطفے کمال پاشا; ایک عہد ساز ڈاکٹر … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

چودہ فروری 1995؛ نشتر میڈیکل کالج کے پروقار اور تاریخی کیمپس میں ہمارا پہلا دن؛ بہت سے بڑے بڑے ناموں والے پروفیسر اپنا تعارف زور شور سے کروا رہے تھے؛ کچھ “پروفیشنل تڑیاں” بھی لگا رہے تھے اور کچھ ڈرا رہے تھے۔ اتنے میں ایک دراز قد، ہلکی مونچھوں والا ایک جواں سال دھیمے سے انداز میں چلتا ہوا اندر آیا، عاجزی سے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ اسی سال ایف آر سی ایس کرکے واپس آیا ہے؛ بہت آفرز تھیں انگلینڈ رکنے کی لیکن ملتان کی مٹی واپس کھینچ لائی۔ یہ مصطفے کمال پاشا تھے؛ بعد میں پتا چلا کہ نشتر میڈیکل کالج کی تاریخ میں سب سے زیادہ گولڈ میڈل انکے پاس تھے! خوبصورتی، قابلیت اور عاجزی کا ایسا نمونہ اس سے پہلے صرف ڈائجسٹوں میں پڑھا تھا۔

سرجن عموماً بدتمیز اور غصیلے ہوتے ہیں؛ لیکن ان میں ہیرے بھی ہوتے ہیں۔ ہم نے آج تک کبھی دو سرجنز کو غصے میں نہیں دیکھا اور میڈیکل اسٹوڈنٹس جنھیں وارڈ کا چپڑاسی بھی گھاس نہیں ڈالتا، تک سے عزت سے بات کرتے دیکھا ہے؛ ایک ہیں پروفیسر بابر علی (الّلہ انھیں زندگی دے) دوسرے مصطفے کمال پاشا مرحوم (مرحوم لکھتے دل کانپ گیا)! مزے کی بات ہے کہ دونوں ایک ہی وارڈ میں تھے اور اس وارڈ میں ہاؤس آفیسر اور ٹرینی پی جی آرز (جن میں سے تقریباً اسی فیصد بغیر تنخواہ کے تھے)، مریضوں سے بھی زیادہ تھے۔ جس ڈاکٹر نے ان کے ساتھ کام کرلیا وہ انھیں کبھی بھول نہ پایا۔

پاشا صاحب سے دوبارہ تعلق؛ 2014 میں جڑا جب راقم نشتر ایلومنائی کا صدر تھا اور اس سال ونٹر میٹنگ نشتر میں تھی اور پھر کبھی کم نہ ہوا! دسمبر 2018 میں ڈاکٹر پاشا نے پوری دنیا سے نشتیرین کو ملتان بلایا؛ اتنی زبردست تقریب؛ کام بھی، ہلہ گلہ بھی؛ ایسے لگا جیسے کبھی نشتر سے گئے ہی نہیں تھے!

کرونا وائرس کی ابتدا میں جب بڑے بڑے جغادری بشمول وزیراعظم اسے فلُو سے تشبیہ دے رہے تھے، پاشا صاحب نے بھی لوگوں کو تسلی دینے کے لئے ایک ویڈیو میں اسے فلُو سے تشبیہ دیا۔ یہ ویڈیو ایسے وائرل کی گئی اور اتنا پریشر ان پر پڑا کہ وہ پریشان ہوکر رہ گئے۔ اس کے بعد انکی وضاحتی ویڈیوز بھی آئیں جو کہ وہ راقم سے شئیر کرتے تھے تاکہ پہلی ویڈیو کے حوالے سے وضاحت کی جائے اور لوگوں کو تعلیم دی جائے لیکن ہر ہفتے بعد وہی پہلی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی اور کمنٹس میں ان سے استعفی مانگا جاتا۔ اگر یہ واقعی کوئی سازش تھی تو بے حد غلیظ اور بھیانک سازش تھی۔ پاشا صاحب باکمال سرجن تھے اور اس پر وائس چانسلر بھی۔ انکا کرونا کے مریضوں کو خود دیکھنا بنتا نہیں تھا لیکن انھوں نے جونئیر ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کے لئے اور کسی حد تک (یہ میری اپنی رائے ہے) پہلی ویڈیو کے سازشانہ پھیلاؤ کے اثر کو کم کرنے کے لئے خود مریضوں کا علاج کیا۔ ان کے دست راست ڈاکٹر سکھیرا نے انکا بے حد ساتھ دیا۔ اسی دوران وہ کرونا کا شکار ہوگئے۔ کرونا کے بعد ایک دو بار رابطہ ہوا اور راقم کو خوش قسمتی سے ڈاکٹروں کے اس جرنیل کو جو خود فرنٹ لائن پر جوانوں کے ساتھ لڑنے گیا؛ سلیوٹ کرنے کا موقع مل گیا!

چند ینگ ڈاکٹروں کے مطابق انکا شروع سے ایسا علاج نہ ہوا جس کے وہ حقدار تھے۔ جس پرائیویٹ ہسپتال میں وہ پریکٹس کرتے رہے وہاں داخل ہوئے تو جونئیر پی جی آر نے رات کو intubate کیا۔ حالت خراب ہونے تک شاید ہی کوئی سینیر پروفیسر انھیں دیکھنے آیا۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ چند ینگ ڈاکٹروں کو ہی انکی ویڈیو کے خلاف زہر اگلتے بھی دیکھا گیا؛ سوال پھر وہی کہ کیا وہ ینگ ڈاکٹرز خود اتنا “تماشہ” کررہے تھے یا کسی کے ایما پر؟ ایم آئی سی میں داخل کرکے ڈاکٹر رانا الطاف نے ان کا بے حد خیال رکھا لیکن جب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر اعجاز مسعود جو آج بھی خود پر ہوئے حملے کے باعث شدید درد کا شکار ہیں پاشا صاحب کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

ایک قیمتی انسان کرونا کی نظر ہوگیا۔ یہ سب مقدر کی بات ہے؛ زیادہ تر کرونا پازیٹو خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں اور جو پکڑ میں آگیا اسے کوئی کاوش نہ بچا سکی۔ تو سوائے احتیاط کے کرونا کا کوئی علاج نہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ اداروں اور رجسٹرڈ تنظیموں میں سازشوں کو کم کرنے کے لئے بہتر ماحول اور سخت قوانین کی ضرورت ہے تاکہ انسان کام پر توجہ دے نہ کہ اپنی پیٹھ کو خنجروں سے بچانے کی فکر میں لگا رہے! میں اپیل کرتا ہوں کہ نشتر میں کسی وارڈ یا پراجیکٹ کو ڈاکٹر پاشا کے نام سے منسوب کیا جائے! حکومت انکی خدمات کو سرکاری طور پر (ٹوئٹر نہیں) تسلیم کرے! ڈاکٹر پاشا الّلہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے! آمین

نوٹ! امریکہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید کی خدمت میں یہ گزارشات پیش کردی گئی ہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں