87

پنجاب کی جیلوں میں موجود کرپٹ افسران اور ملازمین کا احتساب کون کرے گا؟؟ …. (رانا غلام حیدر)

تحریر: رانا غلام حیدر

پاکستان کو بنے 73سال ہوچکے ہیں لیکن ہر دور میں کرپٹ مافیا اور انکے چہیتے افسران بااثر نظر آتے ہیں ان سب کو کہیں نا کہیں سیاسی پشت پناہی حاصل رہی ہے
ہماری عوام کے چنے ہوئے یہ وہی سیاست دان ہیں جو ان کرپٹ سرکاری بہروپیوں کا ساتھ دیتے ہیں اور اگر ان میں سے کسی افسر کا تبادلہ ہوتا ہے تو یہ سیاست دان اپنے مفادات کی خاطر انکے تبادلے رکوا دیتے ہیں اور اس کے عوض ان سے اپنے جائز ناجائز کام کرواتے ہیں کتنی معصوم ہے میرے ملک کی عوام جو ان سے اچھے امید لگائے بیٹھی ہے۔ پنجاب میں جو بھی حکومت آتی ہے پولیس ریفامز کی بات کرتی ہیں کیا کوئی پنجاب کی جیلوں میں بھی کوئی ریفامز کریگا یا وہاں چور بازاری ایسے ہی لگی رہے گی پنجاب کی جیلوں میں قید انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہےجیل کے اندر ایک علیحدہ ریاست قائم ہے جس کا بادشاہ سپرینٹنڈنٹ جیل ہوتا ہے اس کے بعد ڈپٹی اور دیگر افسران بھی اس ریاست کے بادشاہوں میں شامل ہوتے ہیں ۔جہاں وہ جو مرضی کرتے پھریں انہیں کوئی روکنے والا نہیں۔اگر کوئی حوالاتی یا قیدی اندر کے حالات باہر منتقل کرے یا شکایت لگائیں تو ان افسران کو تو وارننگ کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا لیکن اس قیدی یا حوالاتی پر بلاوجہ انتہائی ظالمانہ قوانین لاگو ہونا شروع ہوجاتے ہیں جس کے بعد وہ دوسری شکایت کے قابل ہی نہیں رہتا اور نا ہی کوئی شکایت کی جرات کرتا ہے ہمارے ہاں جیلوں کی چیکنگ کا نظام تو موجود ہے مگر سزا جزاء کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔کبھی کہیں سے ایسی خبر سننے کو نہیں ملی کہ غیر قانونی سرگرمیوں پر فلاں جج صاحب یا آئی صاحب یا دیگر کسی جیل چیکر نے جیل حکام کے لیے سخت سزا تجویز کی ہو۔ہمارے ہاں جرم پر فوری سزا نہیں ملتی بلکہ انکوائریاں لگتی ہیں تب تک شکایت کرنے والے کا برا حال کردیا جاتا ہے اس لیے کوئی قیدی یا حوالاتی جیل حکام کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا چاہے وہ کتنا ہی نڈر کیوں نا ہو کرپشن کی شروعات نیچے سے لیکر اوپر تک اور من پسند ملازمین کو مختلف بیرکس میں لگایا جاتا ہے جو افسران کو قیدیوں سے چٹی وصول کرکے دیتے ہیں اور افسران کی جیبیں گرم کرتے ہیں ایک قیدی جب سزا ہونے کے بعد جیل میں آتا ہے تو اس گھر والے اس کو جیل میں کھانے پینے کے لیے کچھ پیسے دیتےہیں اندازہ لگائیں کہ کرپشن کا جنازہ جیل کے گیٹ سے شروع ہوکر بیرک تک نکلتا ہے ہر ملازم تلاشی کے دوران قیدی کی جیب سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتا ہے اور ظلم کی انتہا یہ کہ اگر کوئی بندہ اپنے عزیز کے لیے کھانے پیسے کی کوئی چیز لے آئے تو یہ کرپٹ عملہ اس میں سے آدھی چیزیں نکال لیتے ہیں۔ گھروں سے بھیجا گیا سامان قیدی کو تو کم ملتا ہے لیکن افسران کے گھروں میں زیادہ جاتا ہے جیل میں لگا جدید سکیورٹی نظام کہاں ہے کیا وہ ان کرپٹ افسران اور ملازمین کو چیک نہیں کرتا یا اس سکیورٹی نظام کو مانیٹرنگ کرنے والا عملہ بھی اس کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے۔ہمارے ملک کی جیلیں امیر کے لیے اس کے گھر کی لونڈی کے برابر ہیں جو کہ پیسے کے بلبوتے پر جیل میں بھی عیش و آرام کی زندگی بسر کرتا ہے اور کرپٹ ملازمین بھی ان کے آگے پیچھے دم ہلاتے پھرتے ہیں۔ اور غریب کے لیے یہی ملازمین جیل کو عقوبت خانہ بنا دیتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ کرپٹ نظام کبھی ٹھیک ہو پائے؟ یا پھر یہی مافیا اسی طرح ملک کو کھوکھلا کرکے ابھی جیبیں بھرتے رہیں گے؟-ساہیوال جیل کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے جس میں آج کل ماضی کے کرپٹ ڈپٹی کی یاد تازہ کی جارہی ہیں افسران اور ملازمین بہتی گنگا میں خوب نہا رہے ہیں نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اپنے من پسند ملازمین کی ڈیوٹیاں لگ کر قیدیوں سے خوب مال بٹورا جارہا ہے کینٹین ٹھیکدار کی ملی بھگت سے قیدیوں کے گھروں سے کھانے پینے کی اشیاء پر کرونا وباء کا بہانہ بنا کر تو پابندی لگوا دی گئی سپریٹنڈنٹ جیل کی ملی بھگت سے جیل کے اندر قیدیوں کو دگنے دام پر اشیاء بیچی جارہی ہیں جس سے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ اپنا پورا حصہ وصول کر رہے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے اس کرپشن اور چور بازاری پر آئی پنجاب اور آئی جیل خانہ جات کو ایکشن لیکر ان کرپٹ افسران کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے تاکہ آئندہ کو بھی افسران ایسی جرات نہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں