23

ڈپریشن کا قبرستان … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

سوشانت سنگھ راجپوت ایک خوبرو جوان، محنتی فنکار اور کامیاب اداکار تھا جو اپنی ہمت سے بالی ووڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ سوائے “دھونی” اور “کائے پو چے” کے کوئی خاص کارکردگی نہیں تھی لیکن ایشوریہ رائے کے پیچھے پچاس لڑکوں میں ناچتے ہوئے، پہلے دس کامیاب ترین اداکاروں میں جگہ بنانے کے لئے خوش قسمتی کے ساتھ محنت بھی چاہئیے اور اس نے کی! بدقسمتی سے گزشتہ روز اس نے پھندا لگا کر خود کشی کرلی؛ کوئی نوٹ تک نہیں لکھا اور قرین قیاس ہے کہ اس نے ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کی!

سوشانت سنگھ اہم ہو یا نہ ہو مگر ڈپریشن “کرونا” سے بھی بڑی حقیقت ہے اور یہ تحریر اس بارے ہے؛ تاہم جو “مومنین” کل سے سوشانت پر افسوس کرنے والوں کو یہ یاد کروا رہے ہیں کہ وہ کافر تھا تو مرنے پر دکھ نہ کرو، ان سے سوال ہے کہ اگر اتنے اچھے مسلمان ہو تو انکی فلمیں کیوں دیکھتے ہو؟ فلم دیکھ کر انٹرٹینمنٹ حاصل کرنا اور مرنے پر افسوس تک نہ کرنا، منافقت اور بےحسی کا آخری درجہ ہے اور منافقین جہنم میں کافروں سے نچلے درجے پر ہوں گے۔ میرے نزدیک ہر وہ فلم یا کتاب یا کہانی جو علم، عقل یا خوشی دے، اس میں کام کرنے والا یا اسکا لکھاری زندگی میں عزت اور محبت اور مرنے کے بعد تعزیت کا حقدار ہے خواہ اسکا عقیدہ کچھ بھی ہو!

سوشانت سنگھ اور دیپیکا پڈکون جیسے ستاروں کے ڈپریشن پر بات کرنا ضروری ہے، تاکہ اپنے ملک کے ڈیپریس لوگ اس سے کچھ سیکھ سکیں!
“تیز ہے نوک قلم” پر آنے والے نوے فیصد لڑکیوں اور پچاس فیصد لڑکوں کے میسیج ڈیپریشن سے لبریز ہوتے ہیں؛ ہوسکتا ہے ان میں سے کچھ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے “رنگ بازی” کررہے ہوں لیکن زیادہ تر کا مسئلہ حقیقی ہے۔ ڈیٹا کے حساب سے دنیا میں سب سے زیادہ ڈپریشن افغانستان میں ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ اگر پردوں کے پیچھے سے نکال کر ریسرچ کی جائے تو پاکستان یا انڈیا پہلے نمبر پر ہوں گے۔

ڈپریشن کا شکار ہر عمر کے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ مرد عورت دونوں ہیں۔ غیر شادی شدہ عورت کا ڈپریشن شادی میں دیر اور بڑی یا چھوٹی بہنوں کی لائن جبکہ شادی شدہ کا عموماً سسرال یا میاں کی بدسلوکی ہوتا ہے؛ غیر شادی شدہ مرد کا مسئلہ محبت میں ناکامی، بہن کی شادی یا روزگار کا مسئلہ جبکہ شادی شدہ مرد کا مسئلہ مالی تنگی یا جنسی مسائل ہوتے ہیں۔ جنسی مسائل بھی زیادہ ترحقیقی نہیں ہوتے بس بالغانہ فلمیں دیکھ کر خود ہی مفروضے اور “اسٹینڈرڈ” سیٹ کرلیتے ہیں؛ حالانکہ یہ “ہرکولیس” محض فلموں میں ہوتے ہیں؛ عام زندگی میں ہر مرد ان جیسا ہی ہوتا ہے؛ اچھے حالات میں اچھی کارکردگی اور اگر حالات سخت ہوں، وقت سخت ہو تو کسی اور سختی کی گنجائش دماغ نہیں دیتا۔

مردوں کو اگر لگتا ہے کہ شکل اچھی نہ ہونے سے “محبت” نہیں مل رہی یا دولت کی کمی ہے تو سوشانت کے پاس یہ سب کچھ تھا؛ عورتوں کے اگر حسن، دولت یا ناں چاہے جانے کے مسائل سے ذپریشن ہو تو دیپیکا پڈکون کے پاس یہ سب کچھ ہے؛ ان لوگوں کو ڈپریشن کیسا؟

ڈپریشن کے اوپر اردو اور انگلش میں بہت کچھ لکھا ہے؛ آپ گوگل کرسکتے ہیں! ڈپریشن کی وجوہات طبی، جنیاتی یا ماحول کے مطابق ہوتی ہیں لیکن میرے نزدیک ڈپریشن خواہش اور حصول کے درمیان فاصلے سے جڑا ہے۔ ایک روٹی کھانے والے کی دو روٹی کا حصول؛ ایک فیکٹری کے مالک کی دو فیکٹری بنانے کے برابر ہے؛ ایک عام آدمی، ہیرو کے پیچھے پچاس لوگوں میں ناچ کر ہی خوش ہوجاتا ہے جبکہ سوشانت کے مرنے سے پہلے ایک ٹویٹ کے مطابق اگر اسکی فلم فلاپ ہوئی تو بالی ووڈ اسے نکال دے گی; ہیرو کے پیچھے ناچتے ہوئے اتنا اوپر پہنچا اور پھر بھی اتنا ڈر؟ اتنا خوف؟ ناکامی کا خوف ناکامی سے پہلے جان لے گیا!

ڈپریشن کے علاج کے لئے سب سے پہلے تو ماہر نفسیات سے رابطہ کریں؛ عورت کو لیڈی ڈاکٹر دیکھے تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ کئی خواتین کے مطابق کھلے دل کے مرد ماہر نفسیات بہت ساری “سروسز” بلا مانگے پیش کر دیتے ہیں ایسے ہی جیسے کئی مولوی صاحبان حلالہ کا مشورہ کرنے آئی طلاق یافتہ خاتون کو فوراً “ذاتی خدمات” پیش کردیتے ہیں! تاہم زیادہ تر مرد ماہر نفسیات اور عالم حضرات اچھے اور پروفیشنل ہوتے ہیں مزید برآں مرد ماہر نفسیات کو کسی خاتون دوست کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔

اسکے بعد ہے زندگی کا حقیقی جائزہ؛ پانچ لاکھ مرد و خواتین ہر سال بی اے کرکے کیا جاب ڈھونڈیں گے؟ ان میں سے دو تین سو سی ایس ایس بھی کرلیں تو باقی؟ ناں جاب نہ شادی اور بس ڈپریشن! اس لیے وہ علم حاصل کریں جس سے آمدنی بھی ہو مثلاً ٹیکنیکل، نرسنگ، کمپیوٹر، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن، انگلش اسپیکنگ، چائینیز اسپیکنگ، ویب ڈیزائننگ اینڈ مارکینٹنگ؛ ان سب میں زیادہ ترکے کورسز ہارورڈ جیسے ادارے بھی مفت کروا رہے ہیں۔ شادی کو آسان لیا جائے؛ جب تک ہر ماں بیٹی کو “تین کپڑوں میں کوئی لے جائے” اور “بہو کرولا لے آئے” سے نہیں نکلے گی، معاشرتی ڈپریشن بڑھے گا۔ کسی زمانے میں وٹہ سٹہ دونوں اطراف کی اونچ نیچ کا اسکور سیٹ کرنے کے لئے ہوتا تھا؛ آج بھی یہ حل کارگر ہے! آخر میں لڑکوں سے گزارش ہے اگر ماڈرن ہونے اور “ڈیٹ” کرنے کا شوق ہے تو لڑکیوں سے کیریکٹر سرٹیفیکیٹ کی ضرورت کیوں؟ ضمیر زندہ ہے تو لڑکی کے اس حق کو بھی تسلیم کریں؛ تاکہ دونوں طرف زندگی آسان ہو۔ ایک ہی زندگی کی ایک جیسی خواہشات کو متضاد سوچ کے ساتھ دیکھنا ڈیپریشن کی جنم بھومی ہے۔ کھلا دل، کھلا دماغ ، زندہ ضمیر ڈیپریشن کا قبرستان ہے؛ دفنا دیں اسے!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں