48

وکلا اور نظام انصاف …(راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

پینٹاگون، واشنگٹن ڈی سی سے ملحقہ شہر آرلنگٹن میں ہے بالکل اتنے ہی فاصلے پر جیسے اسلام آباد سے جی ایچ کیو ہے۔ جون 2009 سے لیکر جون 2010 تک راقم نے آرلنگٹن میں انٹروینشل پین مینجمنٹ (درد کا سرجری سے علاج) ڈاکٹر کے طور پر کام کیا۔ ان دنوں فوجی عراق اور افغانستان سے کچھ واپس آنا شروع ہوگئے تھے اور جنگوں میں لگی ضربوں کے درد کا علاج کرواتے تھے۔ پاک فوج میں کئی عزیز رشتہ دار بھی ہیں تو اس ایک سال میں امریکی فوجی سے لیکر جنرل تک سے تال میل سے یہ پتا چلا کہ ملٹری پرفیشنلزم، مہارت اور قابلیت میں ہمارے فوجی جوان اور افسران امریکہ کی فوج کے ہم پلہ ہیں۔ یاد رہے بات قابلیت کی ہورہی ہے، کرپشن، عہدوں کی بندر بانٹ اور مارشل لا کی نحوست کی تعریف نہیں کی جارہی!

کئی دوست اور میڈیکل کالج کے کلاس فیلوز سی ایس ایس کرگئے؛ امریکہ میں پاکستانی فارن سروس کے سفیروں اور کونسل جنرلز سے قریبی وابستگی ہے جبکہ امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ جو کہ فارن سروس کو کنٹرول کرتا ہے کے عہدیداروں سے بھی کافی ملنا جلنا ہے۔ ہمارے افسران ان سے زیادہ نہیں تو کم قابل نہیں؛ جتنا وسیع مطالعہ اور تجربہ ہمارے کیرئیر ڈپلومیٹس کا ہے، شاید امریکیوں کا بھی نہیں۔ یاد رہے بات قابلیت کی ہورہی ہے، کرپشن، قیمتی پلاٹ کوڑیوں کے دام لینے، سیاستدانوں کی کٹھ پتلی بننے اور اقربا پروی کی نہیں۔

امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹر اپنی مثال آپ ہیں۔ ہو نہیں سکتا کہ کسی اسپتال میں پاکستانی ڈاکٹر ہو اور آپ اس اسپتال کے سی ای او سے ٹاپ تھری فزیشنز کا پوچھیں اور ان میں پاکستانی ڈاکٹر کا نام نہ ہو۔ یاد رہے بات قابلیت کی ہورہی ہے، ایک دوسرے کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے یا میڈیکل فراڈ کی نہیں۔

آئی ٹی اور انجنئیرنگ کے ماہرین اپنی مثال آپ ہیں۔ اپنا کے سینکڑوں ڈاکٹروں نے مل کر کرونا کے لئے چھ لاکھ ڈالر اکھٹا کیا اور ایک آئی ٹی کے بندے نے اسکا آدھ یعنی تین لاکھ ڈالر اکیلے ہی پکڑا دیا؛ یاد رہے بات قابلیت کی ہورہی ہے، انسائیڈ ٹریڈنگ، ہیکنگ، کاپنگ کے الزامات میں جیل جانے والوں کی نہیں!

مزے کی بات ہے پاکستان کے ہر شعبے کا بندہ باہر جا کر جھنڈے گاڑ دیتا ہے اور “ہم کسی سے کم نہیں” کا عملی ثبوت بن جاتا ہے سوائے ایک فیلڈ کے اور وہ ہے وکالت! امریکہ میں سترہ سال میں شاید ہی کوئی ایک وکیل دیکھا ہو جو یہاں آکر پریکٹس کرے ورنہ %99.99اسٹور یا ٹیکسی چلاتے ہیں کیونکہ آگے پڑھنے کی قابلیت ہی نہیں؛ یہی حال پاکستانی وکلا کا یورپ میں ہے! میرے کئی وکیل دوست تنقید پر ناراض ہوجاتے ہیں لیکن جس ملک کو بنایا ہی دو عظیم وکیلوں نے ہو وہاں وکلا کی یہ حالت کیا قابل تشویش نہیں؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور اسکا جواب ہے میرٹ اور فلٹریشن پراسیس! میڈیکل کالج اور انجنئیرنگ کا میرٹ دیکھ لیں؛ کیسے چن کر لاکھوں میں سے سینکڑوں آتے ہیں؛ چلیں مان لیا کچھ سفارشی چھان بورا بھی آگیا؛ مسلسل امتحانات کی چھلنی سے گزر کر یا تو “چھان بُورا” بھی قابل بنتا ہے یا سسٹم اسے نکال باہر کرتا ہے اور کچھ سفارشی ٹک بھی جائیں تو اپنی کلائیاں کاٹتے پھرتے ہیں یا احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں۔ یہی حال سول اور ملٹری سروسز کا ہے؛ لاکھوں میں سے چن کر آتے ہیں اور مسلسل امتحانات اور آزمائشوں سے گزر کر آگے آتے ہیں۔ آپ کو آس پاس کتنے ہی ایسے ملیں گے جو کہیں گے کہ وہ ڈاکٹر انجنئیر ڈپٹی کمشنر اور فوجی افسر نہ بن سکے لیکن کیا آج تک کوئی ایسا ملا جو کہے کہ وکیل نہیں بن سکا؟ یقیناً نہیں؛ اگر مناسب لا کالج میں داخلہ نہ ملے تو کسی گلی کے کونے یا مکان کی دوسری منزل پر بنے “روح افزا لا کالج”، “جگنو لا کالج” یا “شبنم لا کالج” میں داخلہ مل جائے گا؛ یہ ہے زوال کا آغاز؛ جس فیلڈ میں جانے کے لئے کوئی مقابلہ ہی نہیں رہا، اس میں گدھے گھوڑے ناصرف ایک ہوں گے بلکہ گھوڑے بھی گدھے ہی بن جائیں گے۔
نشتر میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں ہمارے پاس چھوٹے شہروں کے لا کالجز کے اسٹوڈنٹ زکریا یونیورسٹی میں امتحان کے لئے رکتے تھے۔ ایک دن میں کمرے میں آیا تو دو “زیر تعمیر” وکلا “بُوٹیاں” بنا رہے تھے۔ پتا چلا کہ جس ایڈیشنل سیشن جج کا لا کالج ہے اور اس نے پیپر سیٹ کیا ہے؛ دس سوال لیک کردیئے ہیں جن میں سے پانچ پیپر میں آئیں گے اور وہ جوان دس سوالوں کی تیاری کرنے پر بھی آمادہ نہیں سو “تیاری” کررہے تھے؛ یاد رہے کہ لا کا پیپر تھا بھی اردو میں۔ کبھی کبھی ذہن میں آتا ہے کہ ہم ہی ارسطو تو نہیں؛ لا کالجز میں میرٹ کی یہ بات بہت قابل وکلا مثلاً اعتزاز احسن، پیرزادہ جیسوں کے دماغ میں بھی تو آتی ہوگی تو کبھی ریفارمز کا کیوں نہیں سوچا، اسکا جواب ہے، انھیں بھاڑے کے ٹٹو چاہیں اور بھاڑے کے ٹٹو ہمیشہ نالائق یا لو آئی کیو کے ہوتے ہیں۔ انھیں لڑوایا اور قربان کیا جاسکتا ہے۔ پورے پاکستان میں دو قسم کے احتجاج اور جلوس کامیاب ہوتے ہیں ؛ ایک مدرسے والوں کا اور دوسرا وکلا کا؛ کبھی کسی اور شعبے کے لوگوں کو لمبا احتجاج کرتے دیکھا ہے؟ کبھی نہیں کیونکہ انکا وقت قیمتی ہوتا ہے؛ پوری بیوروکریسی، احد چیمہ کی گرفتاری پر آدھ دن بھی احتجاج جاری نہ رکھ پائی۔ ظاہر ہے وہ ویلے جو نہیں! اگر میرٹ پر محض قابل لوگ وکیل بنیں گے تو ان سے نہ غنڈوں والا کام لیا جاسکے گا نہ ہی ریوڑ کی طرح ہانکا جاسکے گا۔

اب ہمارے “عظیم ترین” ججز کہاں سے آئیں گے؟ ظاہر ہے انھی وکلا میں سے ججز نکل کر آئیں گے! عدلیہ میں کیسے کیسے نمونے آچکے ہیں اسکا ذکر اگلے کالم میں!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں