25

سنتھیا، یہ تو نے کیا کیا!!! … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

کرونا اور نسلی امتیاز کے ہنگاموں میں ایک ہنگامہ ان دونوں بیماریوں کے شکار دونوں ملکوں میں ہڑبڑا کر اٹھا ہے اور وہ ہے نو سال پرانے ریپ اور ہراسیت کا؛ سنتھیا رچی نے طاقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سنتھیا رچی سے پہلا تعارف ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نور نغمی اور کیمرہ میں عمر جان کی فلم “اینجلز ودن” کی شوٹنگ کے دوران ہوا کیونکہ اس میں وہ نغی صاحب کی بیگم کا کردار ادا کررہی تھی اور راقم بھی کئی دیگر فزیشنز کی طرح فلم کا حصہ تھا۔ سنتھیا سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی لیکن ہمارے بہت سے مشترکہ دوست ہیں تو غائبانہ تعارف ہے۔

سنتھیا کے بیان کے مطابق 2011 میں ایوان صدر میں رحمان ملک نے اسکے ساتھ زیادتی کی جبکہ یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین نے دست درازی کی۔ گویا کہ “مقامی زبان” کے مطابق تین ساٹھ سے ستر سالہ لونڈے ایک لڑکی لیکر آئے جن میں سے ایک کا وہ “مال” تھی اور باقیوں نے مفت میں “ہاتھ پھیرا”!
یہاں تین ممکنہ نتائج نکلتے ہیں

۱- سنتھیا جو کہہ رہی ہے سچ کہہ رہی ہے
۲- سنتھیا سفید جھوٹ بول رہی ہے
۳- سیکس ہوا ہے، چھوا گیا ہے؛ لیکن مرضی سے ہوا ہے، یا نیم رضامندی سے یا کچھ لے دیکر اور سودا ٹھیک طرح انجام کو نہیں پہنچا۔

چلیں انھیں باری باری ڈسکس کرتے ہیں!

۱- سنتھیا جو کہہ رہی ہے سچ کہہ رہی ہے

رحمان ملک وہ آدمی ہے جو اپنی محسن اور اس ملک کی وزیراعظم کی بطور سیکیورٹی انچارج حفاظت نہ کرسکا۔ بہت نچلی حیثیت سے محض چرب زبانی سے بہت اوپر آنے والا عین ممکن ہے گوری چمڑی دیکھ کر اپنی اصل میں آگیا ہو اور ایسا بھیانک کام کردیا ہو۔ گیلانی صاحب جو ترکی کی فرسٹ لیڈی کا ہار تک گھر لے گئے، اینجلینا جولی سے بے عزتی کروائی، کو گوری چمڑی چھونے کا بڑا شوق ہے لیکن یہ بھی نہ جان پائے کہ رضامندی ضروری ہے۔ مخدوم شہاب الدین اس عمر میں بقول خوشونت سنگھ؛ سوائے چھونے کے شاید ویسے بھی کچھ اور نہ کر سکتے ہوں۔ کرپشن میں لتھڑے یہ سیاستدان بھی کسی سنکھیا یا زہر سے کم نہیں۔

۲- سنتھیا سفید جھوٹ بول رہی ہے

لیکن وہ ایسا کیوں کرے گی؟ مشہوری کے لیے؟ لیکن کیا ایسی مشہوری زیادہ دیر تک چلتی ہے؟
بقول سوشل میڈیا دانشواران؛ پاکستانی “مارخور” کروا رہے ہیں؟ لیکن کیا وہ اتنے نالائق ہوگئے ہیں کہ پہلے فوجی افسران کے ساتھ اسکی تصویریں ایسی کچھوائیں جیسی وہ راکھی بندھ بہن ہو اور پھر “استعمال” کرکے اپنا تماشہ بنوائیں؟ دنیا میں کتنی ایجنسیاں اپنے “وچولوں” کے ساتھ فوٹو سیشن کرواتی ہیں؟ ایک اور عظیم “بیگم نوازش” کی لاجک سن لیں جسے سن کر “او مجھے مارو” کہہ کر سر پیٹنے کو دل کرتا ہے کہ سنتھیا بی بی نے ان سے شئیر کیا کہ عمران خان بھی ان سے سیکس کرنا چاہتا ہے اور اتنی اہم بات شئیر کی ہے تو رحمان ملک والی کیوں نہیں کی؟ پس وہ جھوٹی ہے! بھائی صاحب؛ اسکا مطلب ہے کہ اس نے آپ کو لمبی لمبی چھوڑنے کے لئے رکھا ہے؛ اعتماد کے قابل نہیں سمجھا! تاہم اگر یہ واقعی سفید جھوٹ ہے تو یہ ظلم ہے بچوں کے داداؤں اور ناناؤں پر۔ اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ اس سے بھی خطرناک بات ہے کہ اگر وہ جھوٹی ہے تو ایسی جھوٹی خاتون اپنی مرضی سے جنسی تعلق قائم کرکے “میڈیکل” کروا کر پارٹنر پر ریپ کا الزام لگا دے تو اسکا کیا بنے گا؟

اب آتا ہے تیسرا امکان اور اس پر پی پی پی کا بینڈ بجنے والا ہے
سیکس مرضی سے ہوا یا زبردستی؟
ایک گوری ایوان صدر میں کیسے پہنچی؟
وزیر داخلہ جو ساری ایجنسیوں کا انچارج ہوتا ہے؛ اسکے بستر میں کیسے آئی؟
وزیراعظم نے اس تک یا اس نے وزیراعظم تک کیسے رسائی حاصل کی؟
گیلانی صاحب اسامہ بن لادن کے ویزے کا پوچھتے ہیں، ایوان صدر میں سنتھیا کا “ویزہ” کس نے لگوایا؟ کیا اسامہ بن لادن کا راز کسی ایجنسی نے لیک کیا یا شراب میں ڈوبے ہوس زدہ، ایجنسیوں کے وفاقی وزیر اور وزیراعظم نے؟
کیا واقعی ہی اسکی شراب میں نشہ ملایا گیا تھا یا اصل میں ٹُن باقی تینوں تھے اور وہ ہوش میں تھی؟
کیا گارنٹی ہے کہ ملکی سلامتی کے مزید راز لیک نہیں ہوئے؟
کیا وزیراعظم ہاؤس کی بجائے یہ “فعل” ایوان صدر میں ہونے کا اور بار بار “ایوان صدر” پر زور دینے کا مطلب زرداری اور بلاول کو کوئی پیغام دینا ہے اور اس “breaking bad” کا نیا سیزن بھی متوقع ہے؟

اگر اس پورے واقعہ میں دس فیصد بھی سچائی ہے تو یہ شرم اور اس سے زیادہ فکر کا مقام ہے۔ سیاست، دولت اور طاقت؛ جنسی بے راہروی سے دور نہیں ہوتی لیکن اسکا بھی سلیقہ ہوتا ہے؛ چاہے پیپلز پارٹی کے ڈر ٹی اولڈ مین ہوں، چاہے نواز شریف آئی فون دیکر ادھیڑ عمر گوری کو پھانس رہا ہو چاہے مشرف کا شوکت عزیز، کونڈا لیزا رائس سے فلرٹ کرکے بے عزتی کروائے؛ یہ فکر انگیز بات ہے کہ ان میں یہ سلیقہ بھی نہیں کہ اتنی دولت اور اختیارات ہوتے ہوئے بھی خوار ہوئے بغیر “من کی مراد” پوری کرلیں ، ملک کیا سلیقے سے چلائیں گے!
سنتھیا رچی واشنگٹن ڈی سی میں آتی جاتی ہے؛ ڈی سی کی ہواؤں میں شنید ہے کہ یہ بات یہاں ختم نہیں ہوگی; پکچر ابھی باقی ہے; اس فلم میں مزید (بد)کردار آئیں گے۔ ہر پارٹی کے! آخر قومی ٹھرکیوں کو بھی پتا چلے کہ قُوم کی بیچاری مجبور لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور کسی “ڈاڈی” گوری کو ہراساں کرنے میں کیا فرق ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں