57

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی اہلیہ نے منی ٹریل دکھا دی، جسٹس عمر عطا بندیال کا جج ارشد ملک کیس کا حوالہ


اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) کورٹ روم نمبر ون میں وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم، خالد رانجھا، بیرسٹر شہزاد اکبر اور تحریک انصاف کی پارلیمانی سیکرٹری ملیکا بخاری کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ جب کہ حکومتی ریفرنس کی اپوزیشن کرنے والے رضا ربانی اور حامد خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک ایڈووکیٹ ابھی تک نہیں آئے تھے۔ کمرہ عدالت میں نوجوان اور سینیئر وکلا کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جس میں سے خصوصاً نوجوان وکلا کارروائی کے دوران نوٹس بھی لیتے ہیں۔ آج بھی ایسا ہی ماحول تھا۔ 9 بج کر 37 منٹ پر آواز لگی کہ کورٹ آ گئی تو ججز کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔ دربان ججز کی نشستوں کو پشت سے تھام کر کھڑے ہو گئے اور جب ججز بیٹھنے لگے تو دربانوں نے نشستیں کھسکا کر ججز کے قریب کر دیں اور ججز بیٹھ گئے۔

بیٹھتے ہی دس رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کے لا ایسوسی ایٹ کاظم کو روسٹرم پر بلایا اورہدایت دی کہ مسٹر کاظم ہم آج بیگم صاحبہ (اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کو سنیں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں منیر اے ملک ہمیں پوچھ کر بتا دیں کہ بیگم صاحبہ اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر بات کریں گی یا اپنی جائیدادوں پر؟َ فل کورٹ کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ بیگم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بہت خوددار خاتون ہیں اور ہم ان کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن ان کو کہیے کہ وہ مختصر بات کریں اور گفتگو میں عدالتی احترام ملحوظ خاطر رکھیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس کیس میں فریق نہیں ہیں لیکن اس کیس سے جڑی ضرور ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے سب کو آگاہ کیا کہ ویسے تو ہمارے گھروں پر وڈیو لنک کی سہولت نہیں لیکن ہمارے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے وہ یہ سہولت دیں گے۔

اس کے بعد بیرسٹر فروغ نسیم روسٹرم پر آئے، دلائل کا آغاز کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل فوجداری یا سول نوعیت کی کارروائی نہیں کر سکتی صرف فائنڈنگ دے سکتی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پاکستانی عدالتوں میں چیک اینڈ بیلنس ہے لیکن اگر قانون کے ساتھ بدنیتی دکھائی تو پاکستانی عدلیہ بااختیار ہے اس کو دیکھنے کے لئے اور ہم اپنے اس اختیار پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل جج کی بدنیتی دیکھ سکتی ہے تو قانون اس کو صدر یا ایگزیکٹو کی بدنیتی دیکھنے سے بھی نہیں روکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ جج اپنے خلاف ریفرنس میں بدنیتی کی بات سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی کر سکتا ہے، اس کے لئے اسے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کی ضرورت نہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا جی بالکل ایسا ہی ہے۔

اس گفتگو کے دوران بینچ کے سامنے بیٹھی ہوئی ججز کی انٹرن خاتون نے اٹھ کر جسٹس عمر عطا بندیال کو ایک کتاب پیش کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے بیرسٹر فروغ نسیم سے سوال کیا کہ آپ نے آرمی چیف کیس کی مثال کس لئے دی ہے؟ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کیونکہ اس میں درخواستگزار اپنی درخواست واپس لینا چاہتا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس کو آرٹیکل 184 میں بدل کر پیٹیشن بنا دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ یہ تو قانون کہتا ہے کہ یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ پیٹشنر اپنی پیٹیشن واپس لے سکتا ہے یا نہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال پوچھا کہ قانون کیا کہتا ہے کہ اگر کم سے کم معیار کی معلومات ہوں تو مقدمہ چلایا جائے گا، چاہے معاملہ سپریم کورٹ کے جج کا ہو اور اس میں بدنیتی بھی شامل ہو؟ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ کیس چلانے کے لئے کم معیار کی معلومات بھی کافی ہوں گی۔ جسٹس قاضی محمد امین احمد نے نکتہ اٹھایا کہ قانون کہتا ہے کہ اگر کیس میں بدنیتی ہو تو وہ کیس پہلے بھی ختم ہو سکتا ہے  تو کیا جج کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا؟

بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ پہلے سپریم جوڈیشل کونسل اپنا ذہن ریفرنس آنے پر استعمال کرتی ہے اور پھر جب وہ شوکاز نوٹس جاری کرتی ہے تو دوبارہ ذہن استعمال کرتی ہے اور آخر میں سماعت کے دوران استعمال کرتی ہے اور وہ کسی بھی وقت ریفرنس مسترد کر سکتی ہے۔ اسی دوران 10 بج کر 40 منٹ پر ایک شخص بڑا اٹیچی سوٹ کیس لیے کمرہ عدالت میں داخل ہوا تو ہم سب سمجھ گئے کہ منیر اے ملک ایڈووکیٹ پہنچ گئے ہیں اور چند لمحوں بعد بعد منیر اے ملک ایڈووکیٹ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو قریباً ایک درجن وکلا نے احترام میں ان کے لئے اپنی نشست خالی کر دی لیکن منیر اے ملک سب کا شکریہ ادا کرتے حامد خان اور سینیٹر رضا ربانی کے ساتھ جا کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد منیر اے ملک کے معاون صلاح الدین احمد بھی کمرہ عدالت میں آ کر بیٹھ گئے۔

اب وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے غیر قانونی طریقے سے معلومات اکٹھی کرنے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صرف تشدد کر کے نکلوائی گئی معلومات بطور ثبوت استعمال نہیں ہو سکتیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ وہ تو قانون کہتا ہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے بھارتی عدالت کا فیصلہ سنایا کہ اگر معلومات قابل استعمال ہیں تو یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کیسے حاصل کی گئی ہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ صرف یہ دیکھا جائے گا کہ معلومات سے چھیڑ چھاڑ نہ کی گئی ہو۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ امریکہ میں اس پر مختلف قانون ہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ وہ سرچ سے متعلق ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے منیر ایک ملک ایڈووکیٹ کی طرف دیکھ کر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر منیر اے ملک آپ کو کمرہ عدالت میں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا ایک سوال ہے جو آپ کو کاظم سمجھا دیں گے اور پھر جلد ہی آپ کو سنیں گے۔ اس کے بعد عدالت نے سماعت میں آدھے گھنٹے کے وقفے کا اعلان کر دیا۔

11:33 پر منیر اے ملک کمرہ عدالت میں داخل ہوئے اور سیدھے حکومتی نشستوں کی طرف گئے۔ منیر اے ملک نے بیرسٹر فروغ نسیم اور خالد رانجھا کو سلام کیا اور دونوں کی خیریت دریافت کی۔ 11:35 پر دوبارہ آواز لگی کہ کورٹ آ گئی، اور ججز آ گئے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جاسوسی پر پوزیشن لی کہ اگر کسی شخص کی اس کی گھر کی چار دیواری سے باہر جاسوسی کی جائے تو پرائیویسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ میرا ملک پاکستان ہے اور جس پاکستان سے میرا تعلق ہے وہ مجھے شخصی آزادی سمیت بہت سے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ جو تحقیقات میرے سے کرنے کے لئے ایف بی آر، سی ای سی پی اور ایف آئی اے بنی ہوئی ہیں ان کو چھوڑ کے دیگر ایجنسیاں میری جاسوسی کریں گی، میری تصویریں بنائیں گی تو کیا ہم اس ملک کو ایک فاشسٹ ریاست بنا رہے ہیں؟

بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ نہیں سر، ہم اس ملک کو بالکل فاشزم کی طرف نہیں لے کر جا رہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ جائیدادیں پبلک ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہیں اور صرف ان سے متعلق معلومات لی گئی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ دوبارہ بولے کہ اس کا مطلب ہے کوئی میرے متعلق سونگھتا پھر رہا تھا تو اس کو پتہ چلا کہ میری جائیدادیں کہاں کہاں ہیں۔ وہ کون سی قوت تھی جس نے یہ فیصلہ کیا کہ میری جائیدادیں ڈھونڈی جائیں؟

بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ہمارے پاس صحافی معلومات لے کر آیا تھا۔ جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایا کہ یہ ڈوگر صاحب کون تھے؟ یہ محترم کس اخبار میں خبریں لکھتے تھے کیونکہ اس کی سٹوریز کہیں موجود نہیں؟ جسٹس مقبول باقر نے مزید ریمارکس دیے کہ محترم ڈوگر خبر نہیں دے رہے تھے، شکایت جمع کروا رہے تھے۔ آپ نے کیوں نہیں پوچھا کہ معلومات کا سورس کیا ہے؟ جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ بطور جج میرے کچھ حقوق ہوں گے، وہ کہاں گئے؟ ایک ایسے ادارے کو استعمال کیا گیا جس کا پتہ نہیں وہ کیسے وجود میں آیا اور وہ معلومات اکٹھا کرتا رہا۔ جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایا کہ ایک جج کے بچوں کی جاسوسی کے لئے پرائیویٹ سراغ رساں کی خدمات لی گئیں یہ سب اجازت آپ نے کس سے لی؟

بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ یہ سب ویب سائٹ سے لیا گیا جو عام عوام کے لئے دستیاب ہے۔ پیٹیشنر کہتا ہے کہ آپ نے ایک نجی فرم کی خدمات لیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ سر میں کر کے دکھا سکتا ہوں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال پوچھا کہ آپ تو کہتے تھے کہ صرف نام ڈالیں ویب سائٹ پر تو تفصیلات آ جائیں گی۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ سر میں وضاحت کر دیتا ہوں۔ 192 پر آپ نام ڈالیں گے تو وہ بتا دے گی کہ فلاں بندہ کہاں رہتا ہے اور جب آپ اس ایڈریس 123 پر ڈالیں گے تو وہ بتا دے گی اس جائیداد کا مالک کون ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال کیا کہ آپ کو نام کا کیسے پتہ چلا؟ وہ تو ہمیں بھی نہیں پتہ تھا۔ پھر آپ نے یقیناً پاسپورٹ سے نام نکالے ہوں گے ایف آئی اے کے ذریعے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ آپ کے پاس اختیار کہاں سے آیا نظام میں کہ کوئی ڈوگر نامی شخص شکایت لے کر آتا ہے اور آپ پوری ریاستی مشینری اس شخص کی شکایت کی تحقیقات کے لئے متحرک کر دیتے ہیں، تمام ریاستی ذرائع استعمال کرتے ہیں اور برطانیہ میں نجی سراغ رساں ادارے کی خدمات لیتے ہیں یہ سب کیسے ہوا؟

جسٹس مقبول باقر نے جسٹس منصور علی شاہ کے سوال میں اپنا سوال شامل کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ ڈوگر کو ایف بی آر کے ریکارڈ تک کیسے رسائی ملی کہ اس کو معلوم تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے جائیدادیں ظاہر نہیں کیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ سر یہ ہم ڈوگر سے نہیں پوچھ سکتے تھے۔ اس موقع پر دس رکنی فل کورٹ کے سربراہ اور اگلے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے انتہائی اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک جج ہوں اور عوامی نظر میں رہتا ہوں اور جو بات جچتی بھی ہے کہ اگر میرے سے متعلق کوئی معلومات آتی ہیں تو آپ ان کو دراز میں رکھ لیتے ہیں کہ جب یہ پچ سے ہٹ کر کوئی شاٹ کھیلے گا تو ہم اس کو ہراس کرنے کے لئے یا شرمندہ کرنے کے لئے استعمال کریں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومتی احتساب کے بیانیے کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک سپریم کورٹ کے جج کے متعلق تو فوراً تحقیقات کر لیں لیکن آپ کی اپنی ماتحت ڈسٹرکٹ کورٹس میں کیا ہوتا رہا کبھی اس کا بھی جائزہ لیا تھا؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں مزید واضح کر دیتا ہوں میں احتساب عدالت کے جج کی بات کر رہا ہوں جس کو آپ کی وزارت قانون نے تعینات کیا تھا اور جو انجینئرنگ ہوئی اس میں افسوس سے ہمارا ادارہ استعمال کیا گیا۔ دس رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس کو درست کریں گے اور ہو سکتا ہے اس فیصلہ میں ہی درست کریں۔

بیرسٹر فروغ نسیم ابھی ان ریمارکس کی حدت محسوس کر ہی رہے تھے کہ سنیارٹی لسٹ نمبر میں چوتھے نمبر پر موجود اردو سپیکنگ جج جسٹس مقبول باقر نے اس سے بھی مہلک وار کیا اور آبزرویشن دی کہ پاکستان میں احتساب کے نام پر جو ہو رہا ہے اس نے ملک کو جس طرح تباہ اور نظام کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اس پر ہم مناسب وقت پر لکھیں گے۔ اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ان کی جاسوسی کر کے سب کچھ جمع کر لیا گیا تھا اور جب سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا تو انکوائری کے آرڈر کے بغیر سب کچھ سامنے رکھ دیا گیا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ ٹی او آرز کیا کہتے ہیں؟َ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ رولز آف بزنس کہتے ہیں کہ جج کے خلاف ریفرنس کی سمری بھیجی جائے گی۔ جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ جو بھی آپ کریں گے وہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کریں گے۔ جسٹس یحییٰ نے اب ایسٹ ریکوری یونٹ پر سوال اٹھایا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ آپ کے ماتحت ہے یا کابینہ ڈویژن کے؟َ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ کابینہ ڈویژن کے ماتحت۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال پوچھا کہ کیا ایسٹ ریکوری یونٹ کو کابینہ ڈویژن نے اجازت دی کہ وہ ایف بی آر سے پوچھ سکتا ہے؟ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ٹی او آرز ایسٹ ریکوری کو ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ایسٹ ریکوری یونٹ بھی اگر کچھ کرے گا تو قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کرے گا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے اس موقع پر پرائیویسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک بارہ سالہ بچی نے امریکہ میں بچے کو جنم دے دیا تو اخبار نویس نے برتھ سرٹیفکیٹ لے کر خبر لگانی چاہی اور بچی نے وہ خبر رکوانی چاہی تو عدالت نے قرار دیا کہ بچہ برتھ سرٹیفکیٹ کی صورت میں رجسٹر ہو چکا، اس لئے اب وہ پبلک ریکارڈ کا حصہ ہے اور رپورٹ ہو سکتی ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اسی طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہلخانہ کی جائیدادیں پبلک ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس موقع پر بیرسٹر فروغ نسیم نے حضرت علیؓ کا لکھا ایک خط پڑھ کر سنایا جس میں حضرت علیؓ نے کس طرح قاضی وقت پر نظر رکھنے کا کہا تھا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے حامد میر اور ریاست کے فیصلہ سے حضرت عمرؓ کا واقعہ بھی سنایا کہ کیسے ان سے سوال پوچھا گیا کہ انہوں نے کرتے کے لئے کپڑا لیا۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سر ہم میں سے کوئی بھی حضرت علیؓ اور عمرؓ جیسے خلیفہ وقت سے بڑا تو نہیں ہو سکتا۔ جب بیرسٹر فروغ نسیم یہ دلیل دے رہے تو میں دل میں سوچ رہا تھا اگر موجودہ دور میں ان مقدس ہستیوں کی مثال دینی ہیں تو پھر ہمارا حکمران بھی حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ کے معیار پر پورا اترتا ہو۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا فیض آباد دھرنہ پر کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں فیض آباد دھرنے کی وجہ سے یہ سب ہوا تو اس بینچ کے رکن ایک اور جج بھی تھے، ان کے خلاف تو کچھ نہیں کیا اور ویسے بھی وہ فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نہیں، کورٹ کا آرڈر کہلائے گا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے اس موقع پر جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ جو کچھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی درخواستوں میں لکھا ہے وہ پڑھ کر تو شاید کوئی زندہ بھی نہ رہ سکے۔

جسٹس مقبول باقر نے جواب دیا کہ آپ نے جو کچھ فیض آباد دھرنا کی نظر ثانی اپیل میں جج کے متعلق لکھا وہ کیا تھا؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال پوچھا کہ اگر آپ کی فیض آباد دھرنا فیصلہ کی اپیل خارج ہو جائے تو کیا آسمان گر جائے گا؟ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ بالکل ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ ہماری ذہنیت ہے، جو ہمارے کلچر کا حصہ ہے کہ ہمارے سامنے کوئی منہ نہ کھولے۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ الزام لگایا گیا کہ فیض آباد دھرنے میں ایک دوسرے کی اپیلیں کاپی کی گئیں تو یہ ایک نارمل پریکٹس ہے کہ وکلا ایک دوسرے کی پیٹیشن کی کاپی دفتر سے لے لیتے ہیں اور اس میں سے مواد کاپی بھی کر لیتے ہیں یا ترمیم کے ساتھ حصہ بنا لیتے ہیں اپنی پیٹیشن کا جب کہ ان کا پورا دفاع فیض آباد دھرنا فیصلہ اور فروغ نسیم جمہوری آدمی نہیں ہے پر مشتمل ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اب اگلے نکتے یعنی بدنیتی پر سوال پوچھا کہ آپ نے بدنیتی کی کوئی تعریف تلاش کی ہے؟ بیرسٹر فروغ نسیم کی طرف سے نفی میں جواب ملنے پر جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ جسٹس عظمت سعید شیخ نے فیصلے میں لکھا تھا کہ جو بھی قانون کے دائرے سے باہر ہوگا وہ بدنیتی شمار ہوگا۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ حارث زمان کیس میں جسٹس عظمت سعید شیخ نے لکھا تھا کہ ہتک عزت اور ضمانت قبل از گرفتاری کی گنجائش بھی بدنیتی کے اصول کو مد نظر رکھ کر دی گئی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک بار پھر دہرایا کہ اگر آپ قانون سے باہر جائیں گے اور مواد دراز میں مناسب وقت پر استعمال کے لئے رکھیں گے تو آپ قانون کے دائرے سے باہر جائیں گے اور یہ بات جچتی بھی ہے۔

اب بیرسٹر فروغ نسیم نے صدر کو مواد بھیجنے سے متعلق دلائل دینے شروع کیے اور دلیل دی کہ صدر کو سب کچھ کابینہ نہیں بلکہ وزیراعظم براہ راست بھی بھجوا سکتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ سیکرٹری کی ٹرانسفر کی علاوہ سب معملات پہلے کابینہ میں جائیں گے۔ اس دوران بیرسٹر فروغ نسیم کھانسنا شروع ہوگئے تو جسٹس منظور ملک نے ان کو ٹشو کا ڈبہ بھجوایا۔ 1:40 پر جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعت میں ایک اور وقفے کا اعلان کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم کو ہدایت دی کہ آپ اڑھائی بجے سے ساڑھے تین بجے تک اپنے دلائل مکمل کر لیں۔ اس کے بعد ہم نے بیگم صاحبہ کو سننا ہے۔

2:38 پر دوبارہ عدالت لگی کی آواز کے ساتھ ہی ججز کمرہ عدالت میں داخل ہو کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ سمری منظور کروانے کا طریقہ کار مختلف ہوگا لیکن اگر کوئی ایسی سمری ہوگی جس پر صدر نے اپنی رائے قائم کرنی ہوگی تو اس کا طریقہ کار مختلف ہوگا۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ نہیں آئین کی تمام شقیں ایک ہی اصول پر کھڑی ہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ بھارتی عدالت کہتی ہے کہ جلد بازی پر کوئی عدالتی نظر ثانی نہیں ہو سکتی۔ اس موقع پر بیرسٹر فروغ نسیم نے فل کورٹ کے رکن جسٹس فیصل عرب کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس فیصل عرب نے ریاست پر بہت مہربانی کی اور خود سے یہ وضاحت کر دی کہ ریاست نے تین دن سمری پر کام کیا ہے، اس لئے کوئی جلد بازی نہیں کی گئی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال پوچھا کہ کیا صدر سمری سے اختلاف کر سکتا ہے؟ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ نہیں وہ زیادہ سے زیادہ ایک دفعہ سمری واپس بھیج سکتے ہیں۔

اس کے بعد بیرسٹر فروغ نسیم نے جاسوسی پر دلائل دینے شروع کیے اور ان کا کہنا تھا کہ جائیدادوں کا جائزہ لینا یا انسپیکشن جاسوسی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا بینظیر کی حکومت جن جاسوسی چارجز پر برطرف کی گئی اس میں تو ججز کے ٹیلی فون سنے جا رہے تھے کہ کون جج کیا فیصلہ دے گا جب کہ یہاں ایسی کوئی جاسوسی نہ آپ کی کبھی کی گئی نہ پیٹشنر جج کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے آبزرویشن دی کہ جب 2010 تک فارن کرنسی بینکنگ چینل کے ذریعے بیرون ملک بھیجنا جرم ہی نہیں تھا تو آپ نے کیسے منی لانڈرنگ قرار دے دی؟ آپ نے اتنا پیچیدہ کیس بنا دیا۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ہم منی لانڈرنگ ریجیم کی بار کر رہے ہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے سوال پوچھا کہ یہ منی لانڈرنگ ریجیم کیا ہے؟ کیا کوئی میجک وانڈ ہے؟ جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ آپ ایک جاسوسی کر کے کسی پر الزام نہیں لگا سکتے۔ جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے کوئی بینک ٹرانزیکشن یا ایف بی آر ریکارڈ نہیں جس سے منی لانڈرنگ ثابت ہوتی ہو۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ سر ہم اس لئے ہی تو سپریم جوڈیشل کونسل سے انکوائری کی درخواست کر رہے ہیں۔

اب میڈیا میں پراپیگنڈا اور کردار کشی پر بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ 20 مئی کو ہم نے ریفرنس بھیجا اور 8 جون کو میڈیا میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط لیک کر کے بحث شروع کروائی۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ریفرنس پڑھنے کے لئے دیا لیکن جسٹس عیسیٰ نے صدر کو خط میں لکھا کہ وہ ریفرنس کے الزامات سے آگاہ نہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ہاتھ اس معاملے میں صاف نہیں ہیں۔ اس کے بعد 2 بجکر 43 منٹ پر بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل مکمل کیے تو جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا وڈیو بیان ریکارڈ بھی کرے گی۔

کمرہ عدالت میں موجود دونوں بڑی سکرینز پر اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نظر آنے لگ گئیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے آسمانی رنگ کی قمیض پر کریم کلر کا دوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا اور وہ بظاہر گھر کے داخلی لاؤنج میں بیٹھی تھیں۔ ان کے پیچھے گھر کی سرخ اینٹین نمایاں تھیں جب کہ سفید کھڑکی سے ججز کالونی کے گھر کے لان کی جھلک بھی نظر آ رہی تھی اور ان کے سر کے بالکل اوپر دیوار میں ایک پلیٹ لٹک رہی تھی جس میں خوشخطی سے لکھا ہوا درود پاک پڑھا جا سکتا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو ویلکم کہا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے دو سے تین دفعہ فل کورٹ کو سننے کا موقع دیے جانے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ کوشش کریں گی کہ بات اختصار سے کریں اور کوئی غلطی کر دوں تو پیشگی معذرت کرتی ہوں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے یہ سب کچھ چلتا دیکھ رہی ہیں اور وہ اپنے شوہر سے پوچھتی بھی تھیں لیکن انہوں نے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، مجھے اس کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں۔

بیگم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میرے بچے اور پوتے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم نے کچھ غلط کیا ہے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا ضبط جواب دے گیا اور انہوں نے ایک ایسی بات کہی جس کا درد کوئی بیٹی محسوس کر سکتی ہے یا بیٹی کا باپ۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کینسر کے مریض اپنے والد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرا باپ مر رہا ہے اور انہوں نے بستر مرگ پر مجھے کہا کہ جاؤ بیٹا اپنا اور میرا نام صاف کروا کر آؤ۔ یہ کہتے ہوئے بیگم جسٹس عیسیٰ کی آواز آنسوؤں کی وجہ سے ڈوبنے لگی۔ انہوں نے پانی کا گلاس اٹھا کر پیا اور دوبارہ بولیں تو انہوں نے کیمرے کے سامنے ایک دستاویز کر دی جو پوری سکرین پر نظر آنے لگی۔

مسز جسٹس عیسیٰ نے کہا یہ میرا برتھ سرٹیفکیٹ ہے۔ آپ میرا نام دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سرینہ کھوسو ہے اور یہ میرا 1980 کا شناختی کارڈ ہے۔ اس پر بھی نام سرینہ کھوسو ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ میری 1982 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے شادی ہوئی تو میں اپنے والد کے گھر سے ان کے گھر منتقل ہو گئی اور میں نے اپنے شناختی کارڈ پر 1983 میں نام سرینہ عیسیٰ کروا لیا۔ اس موقع پر انہوں نے نام تبدیلی والا شناختی کارڈ بھی سکرین پر دکھایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا مزید کہنا تھا کہ میری والدہ ہسپانوی ہیں جن پر مجھے فخر ہے اور والدہ کی وجہ سے مجھے سپین کا پاسپورٹ ملا۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے سکرین پر اپنے سپینش پاسپورٹ دکھاتے ہوئے فل کورٹ کو بتایا کہ ہسپانوی زبان میں زیڈ دراصل ایس کو ساؤنڈ کرتا ہے اور انہوں نے مجھ پر الزام لگا دیا کہ میں دو نام دھوکہ دیہی کے لئے استعمال کر رہی ہوں۔ بیگم جسٹس عیسیٰ یہ کہتے ہوئے ایک بار پھر آبدیدہ ہو گئیں۔

اس کے بعد جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنا پاکستانی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ دکھایا جو انہیں 2003 میں جاری ہوا اور 2010 میں مدت پوری ہونے پر ختم ہوا تو نیا آئی ڈی کارڈ جاری ہوا جو آج تک چل رہا ہے اور اب سکرین پر اس نئے شناختی کارڈ کی کاپی بھی دکھا دی۔ بیگم جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کی دستاویزات بھی اسی طرز پر بنی ہوئی ہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے ایک بار پھر آنسوؤں میں ڈوبی آواز میں کہا کہ یہ کہتے ہیں میں نے پاکستانی ویزا کے لئے اپنے شوہر جج کے دفتر کو استعمال کیا جب کہ یہ میرا پہلا پانچ سالہ ویزا دیکھیے، یہ 2002 میں جاری ہوا جب میرے شوہرجج نہیں تھے۔

پاسپورٹ کا اگلا صفحہ پلٹتے ہوئے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اگلا ویزا دکھایا کہ یہ ویزا جب 2008 میں جاری ہوا تب بھی میرا شوہر جج نہیں تھا۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ تیسرا پانچ سالہ ویزا انہیں 2013 میں جاری ہوا جب میرے شوہر سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے انکشاف کیا کہ جب وہ ایک عام قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ تھیں تو حکومت پاکستان ان کو پانچ سال کا ویزا جاری کرتی تھی لیکن جب سے میرے شوہر سپریم کورٹ آئے تو انہیں تنگ کرنے اور ہراس کرنے کے لئے حکومت اب انہیں ایک سال کا ویزا جاری کرتی ہے تو آپ خود فیصلہ کیجئے کون بدنیت ہے اور کون اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے فل کورٹ اب سکرین کے سامنے پانچ سے چھ موٹی موٹی فائلز اٹھا لیں اور سب سے پہلے دکھایا کہ وہ کراچی کے امریکن سکول میں پڑھاتی تھیں اور وہاں سے ایک بہتر آمدن کے ساتھ انہیں ہاؤس رینٹ اور یوٹیلٹی بلز جیسی مراعات بھی حاصل تھیں۔ جسٹس صاحب کی اہلیہ نے ایک صفحہ پلٹ کر دکھایا کہ وہ شروع سے ٹیکس جمع کروا رہی ہیں اور ان کے ٹیکس ریٹرن ریحان نقوی نامی فائلر فائل کر رہے ہیں۔ اس دوران جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنے والد کی طرف سے ورثے میں ملنے والی بلوچستان اور سندھ میں زرعی رقبے کے طویل خسرہ نمبر پڑھ کر سنائے جو ان کے ایک بہت خوشخال گھرانے سے تعلق کی نشانی تھے۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی تنخواہ سے کلفٹن میں ایک جائیداد بھی خریدی جو بعد میں فروخت کر دی۔ بیگم جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ٹیکس فائلر ریحان سے مشورہ کیا کہ اگر انہوں نے بیرون ملک پیسے بھجوانے ہوں تو اس کا قانونی طریقہ کار کیا ہے؟ تو ریحان نقوی نے ان کو کہا کہ وہ فارن کرنسی اکاؤنٹ کھلوا لیں اور پیسے بھجوا سکیں گی۔ اس کے بعد جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے فارن کرنسی اکاؤنٹ کی بینک سٹیٹمنٹ سکرین پر دکھاتے ہوئے بتایا کہ یہ آپ اس میں سات لاکھ پاؤنڈ دیکھ سکتے ہیں اور یہ ریکارڈ ہے جو میں نے اپنے ہی نام پر لندن میں موجود اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے 2003 میں اور پہلی جائیداد خریدیں۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے رقت آمیز لہجے میں کہا کہ یہاں الزام لگایا گیا کہ ملینز آف پاؤنڈز کی جائیدادیں ہیں جب کہ ایک جائیداد 245,000 پاؤنڈ اور دوسری 275,000 پاؤنڈ کی لی گئی۔ بیگم جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ اتنی ہی مالیت ہے جس میں اسلام آباد اور کراچی میں گھر خریدا جا سکتا ہے۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اس موقع پر فل کورٹ کو آگاہ کیا کہ وہ کراچی کے امریکن سکول میں پڑھاتی تھیں، کراچی میں تنخواہ وصول کرتی تھیں اور کراچی میں ہی ٹیکس بھی ادا کرتی تھیں لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کے علم میں لائے بغیر ان کا آر ٹی او کراچی سے بغیر اجازت کے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ وہ دو بار پوچھنے ایف بی آر کے دفتر گئیں لیکن کسی نے ان کو جواب نہیں دیا بلکہ گھنٹوں انتظار کروایا گیا اور ایک بندے کے پاس سے دوسرے بندے کے پاس بھیجتے رہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ 2014 میں ان کے ٹیکس فائلر نے انہیں کہا کہ اگر وہ پاکستان میں رہائش پذیر نہیں تو اب ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کے فائلر نے ایف بی آر کو خط لکھ کر آگاہ کر دیا اور ایف بی آر نے بھی تسلیم کر لیا اور مجھے پھر کبھی کوئی نوٹس نہیں بھیجا۔ بیگم جسٹس عیسیٰ نے اس موقع پر اگلا دھماکہ کیا جس نے بظاہر حکومتی ریفرنس کی عمارت زمین بوس کر دی انہوں نے سکرین پر ایف بی آر میں 2018 میں اپنے فائل کردہ ٹیکس ریٹرن کے کاغذات دکھائے اور عدالت کو بتایا کہ 2018 میں پاکستان واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنا ٹیکس ریٹرن دوبارہ فائل کیا اور اس میں اپنی برطانوی جائیدادیں ظاہر کی تھیں۔

اس موقع پر دس رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہم مطمئن ہو گئے ہیں کہ آپ سب ریکارڈ رکھتی ہیں اور کاش ایف بی آر آپ سے بہتر طریقے سے تبادلہ کر لیتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کے شوہر کو دو آپشن دیے ہیں کہ آپ ایف بی آر چلی جائیں اور ہم یقینی بنائیں گے کہ وہ آپ کو پوری طرح سنیں۔ دوسرا آپشن سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔ وہ بھی آپ کو سن سکتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس معاملے کے میرٹ کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ یہ تو متعلقہ محکمے کے حکام نے ہی کرنا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے چہرے سے ماسک نیچے کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کی بہادری اور حوصلہ مندی سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ بیگم جسٹس عیسیٰ نے جسٹس عمر عطا بندیال کو مخاطب کیا کہ سر میں ایک سوال پوچھ سکتی ہوں؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ جی پوچھیے۔ اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سر مجھ سے یہ سوال آج تک ایف بی آر نے کیوں نہیں پوچھے؟ بیگم جسٹس عیسیٰ نے ایک اور دھماکہ کیا کہ ادارے دو سال سے انہیں اور ان کے بچوں کو ہراس کر رہے ہیں لیکن ہم چپ ہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو فالو کیا گیا، اس کی تصویریں بناتے رہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ اب وہ یقینی بنائیں گے کہ ایف بی آر والے تعاون کریں اور کیونکہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بار کے دنوں سے جانتے ہیں تو انہیں معلوم ہے کہ وہ کتنے صاف شفاف کردار کے مالک ہیں اور امید ہے اس امتحان سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ بیگم جسٹس عیسیٰ نے بینچ کا شکریہ ادا کیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک ایڈووکیٹ نے روسٹرم پر آ کر بیگم جسٹس عیسیٰ کو کہا کہ آپ نے مجھ سے بہتر وکالت کی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال فوراً بولے کہ بیگم صاحبہ پاکستان کا سب سے قابل وکیل آپ کی تعریف کر رہا ہے۔ کل کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جذباتی گفتگو کے مقابلے میں آج ٹو دی پوائنٹ اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بات کرنے پر کمرہ عدالت میں ہر کوئی جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ سے متاثر نظر آ رہا تھا۔

اس کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے منیر اے ملک سے استفسار کیا کہ آخری ٹیکس ریٹرن بیگم جسٹس عیسیٰ نے کب جمع کروایا تو انہوں نے جواب دیا کہ جنوری 2020 میں کیونکہ تب تک ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی اجازت دی تھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے روسٹرم سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم سے سوال کیا کہ کیا اس ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا ریفرنس پر کوئی اثر ہوگا؟ بیرسٹر فروغ نسیم نے نفی میں جواب دیا اور فل کورٹ کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے جواب کی تحریری کاپی چار سے پانچ روز میں جمع کروا دیں گے جس کے بعد بظاہر کیس کا فیصلہ اگلے ہفتے تک مؤخر رہنا نظر آرہا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے اس کے بعد سماعت کل صبح 9 بج کر 30 منٹ تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں