27

خود اذیتی اور شرم … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

خود اذیتی جسمانی بھی ہوسکتی ہے اور نفسیاتی بھی؛ جسمانی کے زخم بھر جاتے ہیں، نفسیاتی کے نہیں۔ ہمارے ایک مشہور اینکر پرسن خود اذیتی کے ماسٹر ہیں؛ وہ اسٹارٹ ہی ایسے کرتے ہیں، “او تم منافق لوگ ہو”، “او تم بے ایمان ہو”، “او تم جھوٹے ہو اور نمازیں پڑھتے ہو”، “یہ ووٹ لیکر نہیں ووٹ چھین کر آئے ہیں”؛ یہ سن کر بڑا کیتھارسس ہوتا ہے اور تھوڑی دیر کے لئے “ایماندار” بن کر یہ سب مان کر سب اپنے اپنے دھندے پر لگ جاتے ہیں۔ یہی سرکار ہمارے “اپنا” کے سوشل فورم پر بھی آئے تھے اور اتنے پڑھے لکھے ڈاکٹر بھی اس “لعنت ملامت” پر سر دھن رہے تھے۔ خود اذیتی کی اتنی ہی لذت ہے جیسے کسی بھرتے ہوئے زخم سے چھیڑ چھاڑ کرکے ملتی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ کاؤنٹر پرڈیکٹو یعنی بے فائدہ ہے۔ کیا آپ نے اپنے کسی نالائق بھائی یا بیٹے کو ایسے لعنت ملامت سے کامیاب ہوتے دیکھا؟ ہرگز نہیں بلکہ اگر کسی میں اندر ہی اندر کوئی شرم یا گلٹ guilt ہوتی ہے وہ بھی اس لعنت ملامت کو خود اذیتی کے طور پر “ہاں میں ایسا ہی ہوں” کو انجوائے کرکے باہر نکل جاتی ہے۔

خود اذیتی کی ایڈوانسڈ شکل میں بھاشن دینے والا “تم لوگ” کی بجائے “ہم لوگ” استعمال کرتا ہے اور لوگ متاثر ہوتے ہیں کہ واہ کیا سچا انسان ہے خود کو بھی ذلالت میں شامل کررہا ہے۔ حالانکہ اسے خود تو پتا ہوتا ہے کہ وہ رنگ بازی کر رہا ہے لیکن سننے والا بلاوجہ شرم اور احساس کمتری محسوس کرتا ہے۔

آجکل ڈرامہ ارطغرل پاکستان میں اردو ڈبنگ کے ساتھ سامعین کے دل کی دھڑکن بنا ہوا ہے۔ کروڑوں لوگ اسے دیکھ رہے ہیں، سرہا رہے ہیں۔ ڈرامہ اچھا ہو تو کردار دل کے ساتھ دماغ میں اتر جاتے ہیں یہاں تک کہ فلم “بازیگر” دیکھنے کے بعد لوگ خودکشیاں کرلیتے ہیں، گانا “پیار کرنے والے کبھی ڈرتے نہیں” سننے کے بعد انڈیا میں ریکارڈ نمبر میں لڑکے لڑکیاں گھر سے بھاگ جاتے ہیں اور “میرے پاس تم ہو” دیکھنے کے بعد لوگ عائزہ خان اور عدنان صدیقی کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ ڈرامہ نگار اور اداکار اسے کامیابی کی نشانی سمجھتے ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ عدنان صدیقی اپنی چپیڑ کھانے کی ویڈیو ایک گونگے بہرے کے ساتھ خود اپ لوڈ کرتا ہے اور فخر محسوس کرتا ہے کہ لوگ کیسے اسے سچ سمجھ بیٹھے!

لیکن یہاں بھی خود اذیتی کے ماہر لوگوں کو قوم کو خود اذیتی کا شکار کرنے کا موقع مل گیا۔ پاکستان سے کوئی “بار کے ملک” خواہ افغانستان یا دبئی ہی کیوں نہ چلا جائے، ائرپورٹ پر اترتے ہی وہ اپنے آپ کو عقل کے ساتویں آسمان پر سمجھتا ہے۔ “کھلی ولی” گیان بانٹنا اسکا پسندیدہ مشغلہ بن جاتا ہے جو کہ بری بات نہیں ہے لیکن گیان بانٹا جاتا ہے لوگوں کی بھلائی کے لئے نہ کہ انھیں نیچا کرنے کے لئے ناں کہ یوٹیوب یا فیس بک کے ویوز سے پیسے کمانے کے لئے۔ دس کروڑ سے زائد ارطغرل کے دیکھنے والے پاکستانیوں میں سے اگر دس یا بیس لوگوں نے “حلیمہ” کے حقیقی زندگی میں کپڑوں یا ارطغرل کے کتے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو گھر بیٹھے دانشوروں نے پوری قوم کی واٹ لگانی شروع کردی؟ دیکھیں کون سے اخبار اور کون سے دانشور یہ کام کررہے ہیں ؟ وہ جن کا دھندہ ہے اس ملک کا اور اس کے لوگوں کا مذاق بنانا اور ٹھٹھہ کرنا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ “خود اذیتی” کا شکار ہمارے لوگ اس ٹھٹھے کو قبول بھی کرلیتے ہیں؛ بجائے اسکے کہ “کھلی ولی” اور “دانشور” سے پوچھیں کہ یہ چند لوگوں کی رائے ہے جو غلط ہوسکتی ہے لیکن آزادی رائے انکا حق ہے۔ ان لوگوں کے آزادی رائے کو نشانہ بنا کر تم اپنا آزادی رائے کا حق کیسے استعمال کررہے ہو؟ اسکی بنیاد پر پوری قوم کو ذلیل کیوں کررہے ہو؟ کوئی جواب نہیں ہوگا!مزے کی بات ہے کہ ارطغرل اس قوم کو اچھا محسوس کروا رہا تھا لیکن چند سڑیل کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور دس کروڑ میں سے دس کی بنیاد پر سب کو برا محسوس کروانے پر تل گئے۔ ایسا ہی کچھ بل گیٹس اور ویکسین کے حوالے سے چند لوگوں کو بنیاد بنا کر پوری قوم کی لتریشن جاری ہے۔

دنیا میں کامیابی کا پہلا زینہ ہے خود کو اچھا محسوس کرنا۔ letting go off shame رونالڈ اور پیٹریشا کی لکھی ہوئی بہترین کتاب ہے، اگر ہوسکے تو پڑھیں تاکہ آپکو اندازہ ہو کہ آپکے آس پاس اور دوردراز کے ویلے “کھلی ولی” کیسے آپکو شرم دیکر احساس کمتری کا شکار کرتے ہیں۔ یاد رکھیں ایک برا واقعہ محض ایک برا دن ہوتا ہے؛ اگلے دن اس واقعہ کی کوئی اہمیت نہیں، اس ٹویٹ کی کوئی اہمیت نہیں اور اس کمنٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔ کبھی مت سوچیں ہائے میں نے یہ کیا لکھ دیا؟ کیا کردیا؟ موو فارورڈ! ہمیشہ اپنے بارے میں اچھا سوچیں؛ آج کا دن گزرے کل سے کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؛ یہی مثبت سوچ ہے اور ہر اس انسان اور پروگرام کا بائیکاٹ کریں جو آپکی چھوٹی بات کو بڑا بنا کر آپکو شرم دیتا ہے یہ آپکے لئے، آپکی مثبت سوچ کے لئے اور آپکی خوشی کے لیے زہر قاتل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں