20

رشی کپور اور عرفان خان … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

اردو/ہندی فلم بینوں کے لئے رواں ہفتہ انتہائی تکلیف دہ رہا؛ دو خوبصورت اداکار ایک دن کے وقفے سے کینسر کا شکار ہوکر دنیا سے چلے گئے۔ عرفان خان ایک غضب کا اداکار تھا تاہم اس سے ہم چالیس کے اوائل کے لوگوں کی کوئی خاص بانڈنگ نہیں۔ سلم ڈاگ ملینیر سے پہلے اسکی کوئی خاص پہچان نہیں تھی۔ ہالی ووڈ کی فلموں نے اسے خاصی پہچان دی۔ تصنع سے پاک بے باک انسان تھا؛ حق اسکی مغفرت کرے

رشی کپور کو ہوش سنبھالتے ہی دیکھا جب کرائے کا وی سی آر لاتے تھے اور پوری رات دیکھتے تھے۔رشی کپور ایک بہت بڑے باپ کا بیٹا تھا لیکن آفرین ہے راج کپور پر کہ پہلے اسے تیار کیا اور پھر لانچ کیا؛ یہی عالم اسکے بیٹے رنبیر کپور کا ہے؛ کتنا باکمال اور تیار اداکار ہے؛ یہی وجہ ہے کہ راج کمار، راجیش کھنّہ، امیتابھ بچن، دھرمیندر، جیتیندر، ونود کھنّہ کے بچے بری طرح ناکام ہوگئے کیونکہ وہ تیاری کے بغیر “اسٹار کڈز” کے طور پر آئے اور کپور فیملی کی چوتھی نسل، کرشمہ، کرینہ اور رنبیر بھی بےپناہ کامیاب ہوئی کیونکہ وہ تیار ہوکر آئی تھی۔ جوانی میں محض چاکلیٹی فلمیں کرنے والے رشی کی “دوسری اننگ” میں “باکمال بیٹنگ” دیکھنے لائق ہے؛ “اگنی پتھ” کا ولن جس نے سنجے دت جیسے ولن کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکال دی سے لیکر “بے شرم” کا انسپکٹر اور “کپور اینڈ سننز” کا بوڑھا؛ کمال کردیا!

ہمارے بچپن میں اردو سینیما وحید مراد کے ساتھ ہی مرچکا تھا؛ ندیم اور محمد علی رائیٹرز کی یکسانیت کا شکار تھے۔ سینیما لفنگوں کی آماجگاہ سمجھا جاتا تھا اور پاکستانی فلمیں ویڈیو پر نہیں آتی تھیں تو لے دیکر انڈین فلمیں رہ جاتی تھیں۔ بلوغت کے دور میں انڈین فلموں بالخصوص امیتابھ بچن، رشی کپور، دھرمیندر جیسے اداکاروں نے ہماری کردار سازی (کیریکٹر بلڈنگ) میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ہمارا ہیرو شادی سے پہلے ہیروئن تک کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھتا تھا کسی اور لڑکی کے ساتھ تو کیا ہی کرنا تھا اور اگر ٹرائی اینگل میں سے کوئی ہیرو رنگین مزاج نکلتا تھا تو ہمیں پتا ہوتا تھا کہ اسکے مقدر میں ہیروئین کوئی نہیں؛ اس نے اینڈ پر “باکردار” ہیرو پر چلی ولن کی گولی خود پر لے کر اپنے “گناہوں” کا ازالہ کرنا ہے۔ رشی کپور بھی ایسا ہی ہیرو تھا۔ خوبصورت، نرم مزاج لیکن محبت میں توحید کا قائل اورعملی زندگی میں بھی ایسا ہی؛ ایک ہی محبت اور وہی بیوی مرتے دم تک؛ ناں کے آج کل کے عمران ہاشمی یا رنبیر کپور جو حسین دیپیکا کو چھوڑ کر میکسیکن جڑواں بہنوں کے ساتھ رنگ رلیاں منانے نکل گیا!

آجکل سوشل میڈیا پر میم آرہے ہیں کہ پاکستانی بڑا سوگ منا رہے ہیں ان دونوں کا؛ جی بالکل؛ جن سے کردار، سچائی اور حق پر ڈٹ جانا سیکھا ہو کیا انکا سوگ ناں منائیں؟ آج کل کتنے لوگ ہیں جن کے پاس واضح موقف ہے اور اس پر کھڑے ہوسکتے ہیں؟ ہمارے بچپن میں پاکستان میں مولا جٹ اور نوری نت بھی اتنے ہی کامیاب تھے اور بہت سے لوگوں کے آئیڈیل سلطان راہی اور مصطفی قریشی بھی تھے لیکن وہ فین آجکل کہاں ہیں؟ جی یا تو جیلوں میں عمر قید کاٹ رہے ہیں یا اپنے ہیرو کی پیروی میں بکری اور کھوتے کے “شریکے” کے کھیت چرنے کے چکر میں جٹوں نے نتوں کے پندرہ اور نتوں نے جٹوں کے بیس بندے بشمول عورتیں اور بچے مار دئیے ہیں۔ جو فلمیں خون سے لتھڑا گنڈاسہ ہیرو کی شان دکھاتی ہوں ان سے جو متاثر ہوتے ہیں انکے خاندان “متاثرہ” ہوتے ہیں۔

میرے نزدیک ہر وہ انسان عزت کے قابل ہے، یاد رکھنے کے قابل ہے جس سے کچھ سیکھا ہو؛ چاہے اسکا بنیادی مقصد سکھانا نہ ہو؛ جیسے کسی ٹیچر کا بنیادی مقصد ٹیوشن سے پیسے کمانا ہو لیکن اسے پیسے دیکر بھی جو کچھ سیکھا وہ اسے قابل عزت بناتا ہے۔ یہی عالم فلم کا ہے یہی عالم ناول کا ہے اور یہی عالم سوشل میڈیا پر کی گئی کسی پوسٹ کا ہے۔مرنے کے بعد ہر ایک کے ساتھ کیسا حساب ہوگا؟ کیا معاملہ ہوگا؛ ہر مذہب اور عقیدے کی اپنی اپنی رائے ہے؛ لیکن مرنے والے کو اسکے شکر، عزت اور محبت کے ساتھ رخصت کرنا فرض ہے اور اگر دل اور عقیدہ اجازت دے تو اسکے لئے دعا کرنا بھی ضروری ہے! الّلہ نگہبان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں