22

بدمعاشی کا “ریاض” … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

یہ ایک پوش علاقے کا گھر ہے اور ویڈیو میں دو جوان خواتین کو دیکھا جا سکتا ہے جو ڈری اور سہمی ہوئی ہیں۔ پورے گھر میں برتن اور سامان آرائش ٹوٹے پڑے ہیں، کانچ ہر طرف پھیلا ہوا ہے اور ایک لڑکی کے پاؤں سے خون بہہ رہا ہے۔ ایک عورت چیخ دھاڑ کر پوچھ رہی ہے “کیا تو عثمان کے ساتھ سوئی تھی”؟ جواں سال لڑکی لرز کر ناں میں سر ہلا رہی ہے۔ پھر ان دونوں پر مٹی کا تیل چھڑکا جاتا ہے اور آگ لگانے کی دھمکی دیکر پھر پوچھا جاتا ہے کہ “صحیح بتا کچھ کیا ہے ناں” اور لڑکی کی خاموشی اثبات کا اظہار کرتی ہے۔ چیختی چلاتی دھاڑتی عورت ایک گارڈ کو کہتی ہے کہ اس لڑکی کو پکڑ (معلوم نہیں وہ کرتا ہے کہ نہیں) تاکہ پتا چلے کہ اسکی مرضی کے بغیر عثمان اسے چھو سکتا ہے کہ نہیں۔

سوشل میڈیا کے ذرائع کے مطابق جواں سال لڑکی ماڈل اور اداکارہ عظمی خان ہے جبکہ دوسری اسکی بہن ہما خان ہے۔ ظلم کے پہاڑ توڑتی عورت ملک ریاض کی بیٹی(بیٹیاں) ہے (ہیں) اور جس عثمان کو ان “عقلمند” اور “عظیم” خواتین نے بیٹھے بٹھائے ذلیل کروا دیا ہے اسکا نام عثمان ملک ہے۔پولیس کو دی گئی درخواست کے مطابق آمنہ ملک زوجہ عثمان ملک، ملک ریاض کی بیٹیوں، پشمینہ اور امبر ملک کے ہمراہ اسکے گھر45 ڈیفنس ایف بلاک فیز سکس میں داخل ہوئی اور اس پر تشدد کیا۔ اگر آمنہ حق پر بھی ہو تو یہ جاننا ضروری ہے کہ اچھے گھروں کی عورتیں عزت اور وقار کو سمجھتی ہیں اور ایسے مسئلے سر بازار یا بدمعاشوں کی طرح گھروں میں گھس کر حل نہیں کرتی ہیں تو انکی عزت پر پردہ پڑا رہتا ہے۔ ملک ریاض کے زمینوں کے قبضوں کی بدمعاشی سے لیکر، سرعام ارسلان افتخار کو رشوت دینے کے اعتراف کی بدمعاشی اور اب سپریم کورٹ نے جو چار سو ارب کا جرمانہ کیا ہے وہ بحریہ ٹاؤن کے پلاٹ ہولڈرز سے وصول کرنے کی بدمعاشی اگلی نسلوں تک سرائیت کرگئی ہے۔ لگتا ہے پورا خاندان بدمعاشی کا باقاعدہ “ریاض” کرتا ہے۔

اس کالم لکھنے کا ایک مقصد تو اس آواز کو اٹھانا ہے جو بڑے بڑے نامی کالم نگار ملک ریاض کے پے رول پر ہونے کے باعث اٹھا نہیں سکیں گے اور دوسرا پہلو سوشل میڈیا کے باہمت، ایماندار اور سچائی کی خاطر خطرہ مول لینے والے لکھاریوں کو یہ بتانا ہے کہ میں اور آپ مل کر فقط ایک کام کررہے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ عظمی خان اور ہما خان کے ساتھ ملک ریاض کی ہونے والی “سیٹلمنٹ “ کی رقم بڑھا رہے ہیں۔ اگر آپ اور میں چُپ رہیں تو مفت میں یا چند لاکھ میں جپھی دل جائے گی، اب “قومی رولا” ڈالنے کے بعد یہ بات کروڑوں تک جائے گی۔ شاہ زیب قتل میں بھی یہی ہوا؛ ہم نے سالہا سال رولا ڈال کر محض خون بہا کا ریٹ بڑھایا؛ کراچی اور لاہور کے قتل میں بھی یہی ہوا۔ ریمنڈ ڈیوس کیس میں بھی یہی ہوا۔ چند ورثا کروڑوں کی رقم خون بہا، دیت یا ہرجانے میں لیکر آنسو بہاتے ہوئے “الّلہ پر چھوڑ دیتے ہیں”۔ جب جان یا عزت کی قیمت مال کے طور پر لے لی تو الّلہ پر کیسا چھوڑنا؟ ہاں اگر کمزوری اور مجبوری میں صلح کی تو الّلہ پر چھوڑنا بنتا ہے اور وہ بھی قیمت لئے بغیر!

اصل امتحان فوج اور آئی ایس آئی کا ہے؛ کیسے خاتون کہہ رہی ہے کہ “آئی ایس آئی نوں بلا کے چکواؤ” ایسے تو کوئی گلی کے کن ٹٹے کو بلاتا ہے جو امیر کے ٹکڑوں پر پلتا ہے! کیا یہ افواج پاکستان اور اتنی اہم ایجنسی کی توہین نہیں یا پھر وہ واقعی صحیح کہہ رہی تھی؟ کیا بحریہ ٹاؤن کے ملازمت کے اشتہارات میں ریٹائرڈ جنرل، ایڈمرل یا ائر مارشل، ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج اسلئے لکھا ہوتا ہے کہ دن کو بحریہ ٹاؤن میں کام کے بعد قوم کے یہ اثاثے، رات کو ملک ریاض کے بچوں کا پھیلایا رائتہ صاف کرتے رہیں؟ کیا ویڈیو کے شواہد میں کسی کے گھر گھس کر زندہ جلانے کی کوشش دہشت گردی کی دفعہ کے زمرے میں نہیں آتی؟ اور اگر مدعی کی ملزم سے صلح ہو بھی جائے تو دہشت گردی کی دفعہ نہیں ہٹتی کیونکہ اس میں مدعی ریاست ہوتی ہے ؟ یہ کیس ٹیسٹ کیس ہے، عدلیہ کے لئے انتظامیہ کے لئے اور فوج کے لئے؛ دیکھتے ہیں ریاست مدینہ کا انصاف!!!

نوٹ: ایف آئی آر کی کاپی دیکھنے کے بعد عثمان ملک کے نام کی تصیح کردی گئی ہے! شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں