133

پاکپتن: کرونا مریضوں میں پیدا شدہ خوف ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے. حکیم لطف اللہ

پاکپتن (حیدر علی شہزاد سے) حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کرونامریضوں میں بتدریج اضافہ اور علاج معالجہ کا پہلا مرحلہ گزرنے کے بعد اب کرونا مریضوں میں پیدا شدہ خوف ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے.

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

یہ خوف دوطرح کا ہے ایک کروناکے مرض کا خوف دوسرا کرونا علاج کی غرض سے ہسپتال جانے کا خوف پاکستانی عوام میں پیدا شدہ دونوں اقسام کا خوف انسانی زندگیوں میں انتہائی سنگین نوعیت کے مضر اثرات پیدا کر رہاہے. کروناکے خوف سے حساس طبع لوگ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں یہ ذہنی دباؤ مستقل ذہنی مریض بنا سکتاہے ذہنی دباؤ کے شکار لوگوں کو ہارٹ اٹیک برین ہیمرج اورفالج کااٹیک بھی ہوسکتاہے. اس دباؤ سے لوگوں کی ذہنی صلاحیتیں بھی ماند پڑ سکتی ہیں دوسری قسم کا خوف کرونا کے علاج کی غرض سے ہسپتال جانے سے متعلق ہے ایسے مریض جن میں کروناکی علامات ہوں مگر وہ اپنے علاج معالجے کی غرض سے ہسپتال جانے سے خوفزدہ ہیں.

یہ مریض خدشات کا شکارہیں جسکی اہم وجہ ہسپتالوں میں مریضوں کیساتھ مبینہ ناروا سلوک ہے معاشرے میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ کرونا مریضوں کی ہسپتالوں میں اچھی نگہداشت نہیں کی جاتی اوراگر کسی کو کرونا نہ ہو تب بھی اس کو زبردستی کرونامریضوں کیساتھ ہسپتال داخل کر لیا جاتاہے وغیرہ وغیرہ. جس کی وجہ لوگ ہسپتال جانے سے اجتناب کرتے ہیں نتیجے کے طور پر ایک مریض گھر رہ کر اپنے خاندان کے افراد میں وائرس اور باہر گھوم پھر کر وہ متعدد مریضوں میں اضافہ کا باعث بنتاہے. یہ دونوں طرح کا خوف انسانی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر رہا ہے حکومت کو چاہیے کہ کروناسے پیدا شدہ خوف کوختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں. عوام الناس کا ہسپتالوں پر عدم اعتمادختم کر کے کھویا ہوا اعتماد بحال کیا جائے تاکہ صحت مند معاشرہ کی جانب گامزن ہو سکیں ورنہ حکومت کی عدم توجہ کے باعث عوام الناس میں پائے جانیوالے خوف کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑے گا. صحت مند معاشرہ سے ہی صحت مند ریاست قائم ہوتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں