24

کرونا سے لڑتے ڈاکٹر… (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

بشیر احمد(نام تبدیل کردیا گیا ہے) مشی گن کے مشہور و معروف بزنس مین اور بے پناہ سیاسی اثرورسوخ کے مالک ہیں۔ انکے بہت سے نرسنگ ہومز، ہیلتھ کئیر کمپنیاں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ آج ان سے کرونا کے حوالے سے بات چیت ہورہی تھی تو انھوں نے بتایا کہ انکے اپنے سیکڑوں کی تعداد میں میڈیکل اسٹاف کو این 95 ماسک اور پی پی ای (personal protective equipment) کی بے حد ضرورت تھی۔ انھوں نے اپنے یہودی پارٹز سے لاکھوں کی تعداد میں ماسک اور پی پی ای آرڈر کئے تاہم ہوائی جہازوں اور کسٹم کی بگڑی ہوئی صورتحال کے تحت وہ پہنچ نہیں پائے۔ اب یہ بشیر صاحب کی کاروباری ساکھ اور کریڈیبلیٹی کا مسئلہ تھا۔ انھوں نے یہودی پارٹنر سے اس کا گلہ کیا، اس پارٹنر نے اسرائیلی ائرلائن، ایل آل (El Al)سے ایک پسنجر جہاز 737, سات لاکھ ڈالر میں چارٹر کیا، وہ جہاز تل ابیب سے چین پہنچا اور وہاں سے سارا سامان لیکر ڈیٹرائیٹ، مشی گن پہنچا۔ اس وقت جب یہ کالم لکھا جارہا ہے، اس جہاز سے سامان آف لوڈ کیا جارہا ہے۔ ایسے ہوتا ہے کام اور ایسے نکالتے ہیں راستے ;جب پرواہ ہوتی ہے۔

پورا پاکستان ہماری دل ہے لیکن مادر علمی ہونے کے باعث، نشتر ہسپتال اس دل کی دھڑکن ہے اور آج پتا چلا کہ نشتر کے محض وارڈ نمبر گیارہ کےپندرہ ڈاکٹر ، آٹھ نرسیں اور میڈیکل اسٹاف کرونا وائرس کا شکار ہوچکا ہیں جبکہ ٹوٹل سترہ ڈاکٹر اور نو نرسیں پازیٹو آئی ہیں۔ پولیس مفت کے سلیوٹ مارنے کو تیار ہے لیکن جب یہ ڈاکٹر حکومت سے پی پی ای اور ماسک مانگتے ہیں تو وہی پولیس سلیوٹ کی بجائے ڈنڈے مارتی ہے جیسا کہ کوئٹہ میں ہوا۔ یاد رہے یہی پولیس جسکا خود کا کام ڈاکوؤں سے لڑنا ہے، ایک چھوٹے سے چھوٹو گینگ سے لڑنے سے انکار کرچکی ہے کہ انکے پاس اس لیول کی تربیت اور ہتھیار نہیں ہیں لیکن جب تربیت یافتہ ڈاکٹر اپنے “ہتھیار” مانگتے ہیں تو انھیں کیا ملتا ہے؟ دھتکار اور مار! آپ براہ مہربانی اپنے سلیوٹ اپنے پاس رکھیں؛ ان ڈاکٹروں کو مطلوبہ سامان مہیا کریں۔ کتنے ہی جواں سال پہلے ہی موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

جب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ نشتر ہسپتال میں پی پی ای اور ماسک کیوں نہیں ہیں؟ تو جواب آتا ہے
۱- پیسے نہیں ہیں
۲- سپلائی نہیں آرہی

۱-جناب پیسے کیوں نہیں ہیں؟ حکومت پنجاب نے بجٹ ایک ارب سے دو ارب کردیا، بیرون ملک سے ڈاکٹرز بھی امداد بھیج رہے ہیں لیکن کیا تین کروڑ سے زائد آبادی کا علاج کرنے والا نشتر ہسپتال، بیرون ملک کے ڈالر یا پاؤنڈ کے انتظار میں اپنے ڈاکٹروں کو موت کے منہ میں جانے سے نہیں روکے گا؟ نشتر میں زیادہ سے زیادہ پانچ سو ڈاکٹر کام کرتے ہیں جن میں سے ہاؤس آفیسر اور پی جی آرز کو نکال کر باقی سب خوشحال ہیں اور اپنے لئے ماسک اور پی پی ای خرید سکتے ہیں۔ اور جہاں تک ہاؤس آفیسر کا تعلق ہے، کیاتین تین کروڑ کیش پر لینڈ کروزر اور مرسڈیز خرید لینے والے ڈاکٹر، دس دس ہاؤس آفیسرز کو پی پی ای اور ماسک روزانہ کی بنیاد پر نہیں دے سکتے؟ کیا نرسوں اور دیگر اسٹاف کے لئے مقامی مخیر حضرات مدد نہیں کرسکتے؟

۲- سپلائی کیوں نہیں آرہی؟ بشیر احمد کا کہنا ہے کہ پوری دنیا کو پی پی ای اور ماسک کی سپلائی چین سے آرہی ہے جو کہ ہمارا ہمسایہ اور بہترین دوست ہے۔ پوری پی آئی اے زمین پر بیکار کھڑی ہے، کیوں ناں کارگو کے طور پر استعمال کرکے ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان مہیا کیا جائے؟ سرحد کے اس پار جانے میں کتنا کہ پٹرول خرچ ہوجائے گا؟ آخر کیا امر مانع ہے؟

ان سب سے بڑھ کر ہے احتیاط۔ اسی بلاگ پر گزشتہ دو کالم اور ویڈیوز اسی سلسلے میں پوسٹ کی گئیں۔ دوبارہ پڑھیں اور سوچیں کہ نشتر کی ہی مثال دی گئی تھی اور آج کیا ہورہا ہے؟ پوری دنیا چیخ رہی تھی کہ احتیاط کریں اور ہم نے مذاق بنا رکھا تھا۔ بڑے بڑے ڈاکٹرز کے کرونا کے متعلق بیان سن کر دماغ دنگ رہ جاتا ہے۔ آج یہ عالم ہے کہ صفائی کا عملہ اور خاکروب تک بھاگ گئے ہیں۔ ہماری عظیم نرسیں اور دلیر ڈاکٹرز خود یہ کام بھی کررہے ہیں۔ کرونا پازیٹو ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کے لئے پہلے مناسب حفاظتی آلات نہیں تھے، اب مناسب قرنطینہ نہیں۔ مزید برآں ان ڈاکٹروں کے متبادل ڈاکٹر کیسے علاج کریں گے؟

یہ بیماری جلدی جانے والی نہیں؛ نہ کوئی علاج ہے اور نہ ویکسین۔ امریکہ تک میں برا حال ہے لیکن کم از کم اب ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان کی شکایت نہیں۔ پاکستان کے ہسپتالوں میں مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ کل ٹی وی پر نشتر ہسپتال کے کاؤنٹر پر لوگ ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے تھے؛ سوشل فاصلے کا خیال رکھوانا کس کی ذمہ داری ہے؟ ڈاکٹروں کو ایک دوسرے سے فاصلے پر رہنا ضروری ہے، اگر کوئی “الّلہ مالک ہے” یا “جو لکھی ہے آنی ہے” “یا پاکستانی وائرس امریکہ سے کم خطرناک ہے” جیسے ڈائیلاگ بولتے ہوئے بداحتیاطی کرے تو اسے گھر بھیج دیں، “شاباش جاؤ اور یہ سوغات اپنے گھر جاکر بانٹو دوسرے ڈاکٹروں اور عملے کو محفوظ رکھو”۔ جہاں تک پیسے کی کمی کا تعلق ہے، ہسپتال کے وارڈ کو جزوی طور پر گود لیا (adopt) جاسکتا ہے؛مثلاً اگر وارڈ نمبر گیارہ کا ایک مہینے کا ماسک اور پی پی ای کا خرچہ دو لاکھ روپے ہے اور اگر ایک لاکھ روپے اس وارڈ کے پروفیسر،ایسوسی ایٹ اور اسسٹنٹ پروفیسر کرلیں تو باقی ایک لاکھ روپیہ ماہانہ کے لئے ڈونرز ڈھونڈے جاسکتے ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ کے ڈاکٹر مدد کرسکتے ہیں۔ یاد رہے یہ زندگی موت کا کھیل ہے کوئی منورنجن نہیں؛ شوگر اور کولیسٹرول کا خیال نہ رکھنے والے اپنی موت مرتے ہیں جبکہ کرونا کا مریض پچاس اور کو مریض بنا سکتا ہے، مار سکتا ہے۔ دعا ہے کہ یہ سب صحت یاب ہوجائیں!

کالم لکھنے کے بعد آج کی کم از کم خوشگوار خبر یہ ہے کہ حکومت نے نشتر ہسپتال کو اڑھائی کروڑ روپے دئیے ہیں تاکہ وہ ٹیسٹ کٹس اور حفاظتی سامان خرید سکے۔شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں