197

وبائی مرض کرونااور ہومیوپیتھی … (ڈاکٹر فیاض احمد)

تحریر: ڈاکٹر فیاض احمد

دنیا میں بہت تجربات ہوتے ہیں جن کی بدولت بہت سے وائرس اور بیکٹیریاکی پیدائش و موت ہوتی ہے. آج کل ہماری دنیا خطر ناک وائرس کرونا کی لپیٹ میں ہے. دنیا میں تمام وائرس ڈی این اے یا آر این اے سے بنتے ہیں. ڈی این اے سے بننے والے وائرسس کی ویکسی نیشن موجود ہوتی ہے جبکہ آر این اے کی ویکسی نیشن موجود نہیں ہوتی کیونکہ یہ اینٹی باڈیز کو دیکھ کر اپنی شکل تبدیل کر لیتا ہے. جس کی بدولت یہ اینٹی باڈیز سے محفوظ رہتا ہے. ہمارا جسم ایک خود کار نظام جس کو مدافعتی نظام کہتے ہیں کے تحت چلتا ہے، جب ہمارے جسم میں کوئی بھی بیکٹیریا یا وائرس داخل ہوتا ہے تو جسم کا مدافعتی نظام اس کے خلاف اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دیتا ہے جو جسم انسانی کو اس وائرس یا بیکٹیریا کے اثرات سے محفوظ کرتے ہیں. ان میں سے کچھ وائرس یا بیکٹیریا میں جینیٹک میٹریل آر این اے ہوتا ہے جو اپنے دشمن کو دیکھ کر اپنی شکل و صورت تبدیل کر لیتا ہے، یعنی دھوکہ دیتا ہے. بعض اوقات یہ وائرس جسم کو جسم کے خلاف کر دیتا ہے جس کی بدولت جلدی موت واقع ہو جاتی ہے. میرے خیال کے مطابق کرونا وائرس بھی آر این اے جنیٹک میٹریل سے بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک اس کی ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے.

اس قسم کے وائرسس سے بچاﺅ کے لئے صرف اور صرف احتیاط اور مدافعتی نظام کا مضبوط ہونا زیادہ اہمیت کا حامل ہے. اس وائرس کا حملہ زیادہ تر بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں پر ہوتا ہے کیونکہ ان کا مدافعتی نظام نوجوانوں کی نسبت کمزور ہوتا ہے. اس وائرس کا شکار وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو مزمن امراض مثلاً ذیابیطس، امراض قلب، تنفس کی بیماریاں اور کینسر وغیرہ کیونکہ ان لوگوں کا مدافعتی نظام بہت کمزور ہوتا ہے. جس کی بدولت کرونا وائرس کے حملے کی صورت میں وہ اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اس وائرس کا پھیلاﺅ زیادہ تر کھانسی اور چھینک سے ہوتا ہے. جو ایک انسان سے دوسرے انسان پر اثر انداز ہوتا ہے. اس سے بچاﺅ کے لئے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئں سائنٹسٹس کے مطابق اپنے ہاتھوں اور منہ کو پانی اور صابن سے اچھی طرح دھوئیں، چھینک یا کھانسی کے دوران اپنے منہ کہ ڈھانپ لیں، چھینک یا کھانسی والے افراد دوسروں سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں، اپنے چہرے کو بلاضرورت چھونے سے پرہیز کریں، اگر اپنے آپ کو بہتر محسوس نہیں کرتے تو زیادہ وقت گھر پر گزاریں. کرونا وائرس کی علامات کی صورت میں قریبی ہسپتال سے رجوع کریں، اس کی علامات نارمل سے خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہیں جو درج ذیل ہیں.
بخار، تھکن، خشک کھانسی، تنگی تنفس، ناک سے مواد کا اخراج وغیرہ ان میں سے کوئی بھی علامت کے ظاہر ہونے کی صورت میں فوری قریبی سنٹر سے رابطہ کریں، ان احتیاط کے ساتھ ساتھ اپنے مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بنانے کے لئے وٹامن سی والی غذاﺅں کا زیادہ استعمال کریں، جن میں اورنج، آلو، ٹماٹر، سٹرابیری لیکن سب سے اورنج جوس میں پایا جاتا ہے. اس لئے اپنی غذا میں زیادہ سے زیادہ وٹامن سی کا استعما ل کیا جائے. کلونجی کا استعمال بھی بہت مفید ہوتا ہے روزانہ صبح نہار منہ ایک کپ کلونجی کا قہوہ پینے سے بھی اس قسم کے وائرسس سے بچاﺅ ممکن ہے.

دنیا میں بہت سے طریقہء علاج ہیں اور ہر علاج کا طریقہ کار مختلف ہے مگر ہومیوپیتھی ایک ایسا طریقہ علاج ہے جو مرض کا نہیں مریض کا علاج کرتی ہے اس کا اثر مدافعتی نظام ہوتا ہے یعنی انسان کی بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بڑھاتی ہے. یہ ایک قدرتی طریقہ علاج ہے جو ایک خاص ترتیب سے کام کرتا ہے، کرونا وائرس انسان کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے، جبکہ ہومیوپیتھک ادویات انسان کے مدافعتی نظام کو تقویت دیتی ہے، جس کی بناء پر ہمارا جسم بیرونی حملہ آوروں سے لڑنے کے قابل ہوتا ہے اور بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے.

ہومیوپیتھک میں درج ذیل ادویات انسان کو وائرس یا بیکٹیریا کے حملے کی صورت میں محفوظ کرتی ہیں اور مدافعتی نظام کو بھی تقویت دیتی ہیں. نجیلا سٹاوا، آرسنکم البم، جلسی میم، برائی اونیا، نکس وامیکا، کلکیریا فاس، فیرم فاس ان دنوں کرونا وائرس کا پھیلاﺅ عام ہے. اگر ہم ان ہومیوپیتھک ادویات کا استعمال اپنی روزمرہ زندگی میں کریں تو اس وائرس کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے. کیونکہ یہ انسان کے مدافعتی نظام کو تقویت دے کر جسم انسانی میں اینٹی باڈیز بناتی ہیں. جو اینٹی جن کا مقابلہ کرتی ہے اور جسم کو بیرونی اثرات کے حملے کی صورت میں محفوظ کرتی ہے۔ اگر ہم بغور مشاہدہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے جسم میں بہت سارے سوراخ ہیں اور اگر ہم دن میں پانچ وقت نماز پڑھیں تو کرونا سے بچاﺅ کے تمام مراحل طے ہو جاتے ہیں. ذرا غور کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے ہر بات میں نشانی رکھی ہے، جس طرح نماز میں واضع ہو رہا ہے، جب ہم دن میں پانچ وقت وضو کریں گے تو ہم ان تمام سوراخوں کو صاف کریں گے جو کسی بھی قسم کے وائرس کو جسم میں داخل ہونے میں مدد دیتے ہیں. جب ہم دن میں پانچ دفعہ ان سوراخوں کو پانی سے اچھی طرح دھوئیں تو وائرس سے بچا جا سکتا ہے، اس لئے اے انسان علاج تیرے رب نے تیرے سامنے رکھ دیا ہے، اب یہ تم پر منحصر ہے کہ تو کیا چاہتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں