201

جال ۔۔۔۔(افسانہ)۔۔۔ شگفتہ یاسمین

تحریر: شگفتہ یاسمین (چیچہ وطنی)

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

آسمان پر بادلوں نے جھرمٹ بنا رکھا تھا.جسے دیکھتے ہوئے, نسرین اپنے دل میں لگی, پریشانیوں کی جھڑی سے زہن کو اُلجھائے اُن کو تک رہی تھی.وہ صحن میں بیٹھی, اُنگلی سے موبائل کو بار بار ٹچ کرتی , فرینڈ ریکوسٹز کو تیزی سے نظروں کے سامنے سے گزارتے ہوئے, اگلی سے اگلی دیکھتی جا رہی تھی.وہ ہمیشہ محتاط طبیعت کی مالک, کم ہی دل کی بات بتانے والی دوست بناپاتی تھی.ایک نظر گھر کی درودیوار پہ جمائے وہ لمحہ بھر میں نہ جانے کتنی باتیں ,جو مسائل کی مانند سر اُٹھائے اُسے کھانے کو دوڑتی تھیں,سوچ رہی تھی.ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے باوجود اُسے بمشکل پرائیویٹ سکول میں پڑھانے کی نوکری ملی تھی. چند روپوں سے اُس کے کپڑے لتےکا ہی گزارہ ہوپاتا تھا.باپ کی ہڈیاں اب کمانے کے قابل نہ رہی تھیں. وہ سارا دن اُس کی ماں سے صرف اُس کے رشتے کی بات کرتا ہوا ہی دکھائی دیتا تھا.بہنیں بھی عمر کے اس حصّے کو پہنچنے والی تھیں کہ اُن کے لیے بھی کوئی مناسب رشتہ ڈھونڈنے کا وقت سر پرآن کھڑا تھا, جبکہ بھائی ملک سے باہرکمانے کی غرض سے گیا ہوا تھا,جس وجہ سے گھر میں وائی فائی کا کنکشن لگوا رکھا تھا. بوڑھے ماں باپ اُسے وڈیو کال میں دیکھ کے جینے کے دن بڑھا رہےتھے.

سوچیں تھیں کہ بن بلائے مہمان کی طرح اُس کے دماغ میں آن دھمکی تھیں.ایک سے ایک بڑھ کر تکلیف کا مرکز بنی پڑی تھی.موبائل پر نظر ڈالتے ہی اُس کی انگلی رُک سی گئی اور وہ بڑبڑانے لگی.
“اُف!……میرے خدایا ایک تو یہ گروپس……..جب دیکھو جوائن گروپ کا نوٹیفیکیشن آیا ہوتاہے.” غصّے کا اظہار کرتے ہوئے, اُس نے موبائل سکرین پرانگوٹھے سے اُسے آگے کی طرف دھکیل دیا.
“ہمممم…..وٹس ایپ…..” اُس نےبڑبڑاتے ہوئےفیس بک بند کی اوروٹس ایپ آن کرکے دیکھنے لگی.
یہاں اُس نے ایک دو اسلامی گروپس ایڈ کررکھے تھے.وہ وٹس ایپ سٹیٹس کو چیک کرنے میں مصروف تھی کہ ایک گروپ کا میسج جگمگایا ,وہ فوراً اُسے پڑھنے لگی.
“کیسی ہو ؟ڈئیر……..” وہ ایک گروپ کی ایڈمن سے کبھی کبھار بات چیت کرتے ہوئے, اپنے مسّلے مسائل شئیر کرلیا کرتی تھی , میسج پڑھ کر وہ گفتگوکرنے لگی.
“سُنو!…….میری ایک جاننے والی ہے ,اُس نے ایک گروپ بنارکھا ہے, وہ رشتہ تلاش کرنے میں بہت مدد کرتی ہے,تم ایسا کرو کہ اُس سے بات کر لو…..” صبا نے کہا.

“مگر!……….” نسرین ماتھے پرڈھیروں بل ڈالے بولی.
“مگر کیا؟ ڈئیر…….اس گروپ میں لوگ اپنی پروفائل سینڈ کرتے ہیں اور اپنا کونٹیکٹ نمبر بھی دیتے ہیں.اس طرح آپ بات چیت کرکے ایک دوسرے کو سمجھ بھی سکتے ہیں.تمہیں اچھا نہ لگے تو لییو کردینا, ایسا تو کوئی مسّلہ ہی نہیں.سب تمہاری مرضی پرمنحصر ہے.”صبا نے اُسے تسّلی دیتے ہوئے کہا.
“اچھا!…….چلو پھر مجھے ایڈ کردو.”نسرین بے دلی سے بولی.
اگلے ہی لمحے وہ اس گروپ میں ایڈ ہوچکی تھی اور اُس میں لگی پروفائلز چیک کرتے ہوئے, جلدی سے اُنھیں پڑھتی جارہی تھی.وہ روزانہ رات سونے سے پہلے ایک مرتبہ لازمی نئی آنے والی پروفائلز کو چیک کرتے ہوئے,اُن کے حساب سے اپنا موازنہ بھی کرلیتی.اُس نے اپنی پروفائل بھی موبائل نمبر کے ساتھ وہاں شئیر کردی.پورے دو دن کے بعد اُسے ایک میسج آیا ,جسے پڑھتے ہی, وہ میسج کرنے والے کا اپنی پروفائل کے ساتھ موازنہ کرنے لگی.
پھر اُس کے میسج کا جواب دیتے ہوئے ,وہ بات چیت کرنے میں مصروف ہوگئی.اُس کی مصروفیت دن بدن اتنی بڑھتی چلی گئی کہ وہ اپنے ہی گھر والوں سے کٹ کرسافٹ کاپی جیسے بنے, اَن چھوئے رشتوں کے جال میں دھنستی چلی گئی.

“موبائل ایک آنکھ والا ایسا دجال ہے جو آج کے دور کے انسان سے کہتا ہے .میرا ہوجا نہیں تو میں تجھے کسی کا نہیں ہونے دوں گا…یہی وہ آلہ ہے جو قریبی رشتوں ناتوں کو بھول کر سافٹ کاپی کی مانند بننے والے رشتوں کو اہمیت دیتے ہوئے, ہمیں اپنے ہی گھر میں اجنبی بننے پر مجبور کردیتا ہے.” وہ خیالات کے جال سے نکلی اور ماں کوکھانستے ہوئے دیکھ کر اُس کی طرف لپکی.
“تم ابھی تک آن لائن ہو ڈئیر……….”صبا کا میسج پورے آب وتاب کے ساتھ جگمگایا.
“ہاں وہ ….بس!……..”نسرین ایسے ظاہر کررہی تھی جیسے اُس کی کوئی چوری پکڑی جاچکی ہو.
چند دن گزرنے کے بعد, وہ اُسے کافی حد تک سمجھ چکی تھی.میسج کرنے والے نے اُسے بتایا کہ اُن کا میرج بیوروبھی ہے اور وہ بہت اچھے رشتے کرواتے ہیں.چنانچہ بات چیت کے دوران اُس نے یہ بھی بتایا کہ وہ دبئی میں نوکری کرتا ہے.شادی کے بعد ,وہ اُسے بھی اپنے ساتھ دبئی لے جائے گا.نسرین یہ سُنتے ہی خوابوں کا جال بُننے لگی.ایک دن سچ مچ, وہ نیٹ پر پھیلے گروپس کے جال سے نکل کر, اپنے والدین کورشتے کے لیے اُس کے گھر لے آیا. رشتہ بخوبی طے پاگیا.شادی کے دو مہینے بعد نسرین کو اُس کے ساتھ دبئی جانا تھا.اُس کے کاغذات بنوائے گئے اور وہ پیا کے ساتھ دُور دراز جا بیٹھی.
“آپ کون ہو؟اور اس طرح یہاں کیوں گھُسے چلے آرہے ہو؟” وہ کسی اجنبی کو اپنے فلیٹ میں دیکھ کر پریشان ہوگئی.
“میں وہ ہوں جسے تمہارا شوہر بھاری بھرکم رقم کی وصولی میں مجھے بیچ چکا ہے.”اجنبی کے الفاظ تیغِ رواں کی مانند سیدھے اُس کے سینے میں جاچُبھے اور وہ آنکھیں پھاڑے اُس اجنبی کے چہرے پر پڑی جھریاں گننے لگ لگئی.
وہ سب کچھ جو اُسے شیشے کی مانند شفاف دیکھایا گیا, یہاں پہنچتے ہی آئینے کی پچھلی سائیڈ ثابت ہوا…………

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں