113

تعلقات عامہ اور بنکنگ شعبہ کی خدمات نظر انداز کیوں؟ …. (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

1) کرونا کیخلاف جنگ میں جہاں ڈاکٹر ،پیرامیڈیکس ،پاک فوج ،پولیس،میڈیا ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں وہیں ہم دو اہم شعبوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں، جو فرنٹ لائن پر موجود رہنے کے باوجود حکومت اور عوام کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
1) پہلا شعبہ تعلقات عامہ(ڈی جی پی آر) کا ہے جو مستند اور حقائق پر مبنی معلومات اور خبروں سے قوم کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ کر رہا ہے ۔تعلقات عامہ کا عملہ شب و روز اور تمام خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حقیقت پر مبنی خبر اور انفارمیشن کی تلاش میں فرنٹ لائن پر موجود ہے ۔میڈیا پر چلنے والی بریکنگ اور خبروں کے پیچھے بھی اصل کردار تعلقات عامہ کے افسران کا ہوتا ہے جو میڈیا کو مستند خبریں اور معلومات فراہم کرتے ہیں ۔وزیر اعظم ،وزیر اعلی ،گورنر ،وزراء سے لیکر ڈی سی تک تعلقات عامہ کے افسران جانفشانی سے ہائی رسک پر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں مگر کہیں سے بھی تعریف کے دو بول ان کیلئے سننے کو نہیں مل رہے۔

2) دوسرا شعبہ جس کو ہم مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں وہ بنکنگ کا ہے ۔بنکرز بظاہر فرنٹ لائن پر نہیں مگر فرنٹ لائن سے زیادہ موثر اور اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔کسی بھی بحران میں ملکی معیشت کا پہیہ چلانا نہایت ضروری ہوتا ہے جس کیلئے بنکرز ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے فرض شناسی اور تندہی سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔بنکنگ خالص پبلک ڈیلنگ کا کام ہے جس میں روزانہ سینکڑوں صارفین بنکوں میں آتے ہیں اس لیے بنکرز کو کرونا سے متاثر ہونے کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں ۔کچھ بنکوں میں بنک ملازمین کرونا سے متاثر بھی ہوئے ہیں مگر ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی اور وہ آج بھی مشکل کی اس گھڑی میں ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے جان کی پرواہ کیے بغیر فرائض کی ادائیگی میں مصروف عمل ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور قوم ،تعلقات عامہ اور بنکنک شعبہ کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرے تاکہ ان شعبوں کا مورال بھی بلند ہو اور وہ مزید تندہی سے ملک و قوم کیلئے خدمات سر انجام دے سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں