41

پاکپتن: بابا فرید یونیورسٹی کاقیام ناگزیر ہے. سینئرصحافی طارق جمال، راہنما پنجاب یونین آف جرنلسٹس (دستور)

پاکپتن (میاں فیصل سے) بابا فرید یونیورسٹی کا قیام ناگزیر ہے، ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز بریلینٹ فورم میں سینئر صحافی طارق جمال راہنما یونین آف جرنلسٹس(دستور) گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس خبر کی ویڈیو رپورٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

انہوں نے کہا کہ پاکپتن کی تاریخ پچیس سوسال پر محیط ہے اور آٹھ سوسال قبل یہاں حضرت بابا فرید تشریف لائے جو ممتاز بزرگ، عالم دین اور پنجابی زبان کے پہلے صوفی شاعر تھے اور ان کو آج بھی مستند حیثیت حاصل ہے. انہوں نے یہاں تبلیغ و اصلاح اور تعلیم کا سلسلہ شروع کیا. اس تناظر میں یہ خطہ، پاکپتن کی آبادی ایک تاریخی آبادی ہے. یہاں سے اسلام کا پرچار ہوا اور لوگوں کی اصلاح کے لیے تبلیغ کی گئی. تو اس لیے بابا فرید کا مشن جاری رکھتے ہوئے یہاں ایک اعلی معیار کی یونیورسٹی کا قیام انتہائی ناگزیر ہے، جس طرح بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی اور بزرگان دین کے نام سے منسوب مہر علی شاہ یونیوروسٹی اسی طرح بابا فرید کا نام اتنا تاریخی ہے اس لیے اس تاریخی مقام پر ایک اعلی معیار کی یونیورسٹی کا قائم کرنا انتہائی ناگزیر ہے.
اس خبر کی ویڈیو رپورٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
ہمارا حکومت سے بھی مطالبہ ہے کہ جس طرح پاکپتن کے شہریوں نے ایک تحریک چلائی ہوئی ہے تو حکومت کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیئے اور یہاں ایک بابا فرید کے نام پر ایک اچھی، معیاری یونیورسٹی کا قیام فوری عمل میں لایا جائے. تاکہ بابا فرید کا مشن جاری وساری رہ سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں