258

یہ احسان نہیں ذمہ داری ہے (سیاسی افراتفری میں ایک راہنما تحریر) …. (پیرفیضان چشتی)

از قلم ۔پیرفیضان چشتی

ہمارے معاشر ے میں ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ جو بندہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہو ہم اسے احسان سمجتے ہیں. کوئی بڑے سے بڑا یا چھوٹے سے چھوٹا عہدہ دار عوام کی فلاح کے لیے کام کر دے، ڈاکٹر اچھے طریقے سے چیک کر لے، جج عدل سے کیس کا فیصلہ کر دے، سکول کا ٹیچر احسن طریقے سے پڑھا دے، وزیر اعظم کرپشن ختم کردے، ملک کو خوشحال تو کیا ایک سڑک یا پل بنا دے تو اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں. اورایک دوسرے سے اس کے کام پر ایسے جھگڑتے ہیں کہ جیسے اس نے ملک و قوم پر احسان کیا ہو. ارے میرے لیڈر نے فلاں کام کیا، کیا تمہارے لیڈر نے کچھ کیا ہے؟

یہ ان کی ذمہ داری ہے اور ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ملک کی خوشحالی کے لیے کام کریں. ڈاکٹر کی ڈیوٹی میں یہ شامل ہے کہ وہ مریض سے اچھے طریقے سے پیش آئے. جج کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہر فیصلہ عدل وانصاف سے کرے. ایک ٹیچر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اچھی تعلیم دیں. ایک ملک کا وزیر اعظم ہونے کی حثیت اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے کام کرے. آگر یہ لوگ ایسا نہیں کریں گے تو وہ جواب دہ ہوں گے. یہ ان کا کوئی احسان نہیں ہو گا ملک و قوم پر بلکہ اپنی ڈیوٹی کو اچھے طریقے سے سر انجام دینا کہلائے گا. آپ اس کام میں کیوں جھگڑا کر رہے ہیں ہاں آگر کوئی اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کرے تو وہ قابل تحسین ہوتا ہے، قابل احسان نہیں کہ اس کی ذمہ داری کو احسان سمجھ کر آپس میں تعصب برتا جائے اور نفرت کا بیج بویا جائے ۔۔

ایک مقولہ ہے کہ العاقل تکفیل الاشارہ

عقلمنداں را اشارہ کافی است

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں