201

حقائق تو یہ ہیں۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اپوزیشن کی طرف سے ملکی معیشت، مہنگائی اور گیس، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا ذمہ دار پی ٹی آئی کی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ مگر یہ الزامات حیران کن اس لیے لگتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی معیشت محض ڈیڑھ سال میں نہ تو ترقی کے منازل طے کر سکتی ہے اور نہ ہی معیشت اتنی جلدی خراب ہو سکتی ہے۔ معیشت، مہنگائی اور گیس، بجلی کے بلوں میں اضافہ کی اصل وجوہات ہیں کیا اور اس میں عمران خان کی حکومت کا کتنا ہاتھ ہے، اس پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ن لیگ کے دور حکومت کے آخری 17 ماہ میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر آدھے رہ گئے تھے۔ یہ ن لیگ کی ہی حکومت تھی جس میں اوسطاً 500 ملین ڈالر کے حساب سے ان ذخائر میں کمی آرہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کے وزیر خزانہ کو بھی یہ کہنا پڑا کہ اب پاکستان کو آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج کی ضرورت ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ملک کی معیشت اس قدر اچھی اور مضبوط جا رہی تھی تو پھر ن لیگ کے ارسطو لیڈر اور وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی باتیں کیوں کر رہے تھے؟ اگرملکی معیشت کو پر لگ چکے تھے تو پھر ن لیگ کی حکومت بیل آوٹ پیکج کی باتیں کیوں کر رہی تھی؟

کسی بھی ملک کی معیشت کی صحت کا اندازہ اس کے کرنٹ اکاونٹ خسارے سے لگایا جا سکتا ہے۔ ن لیگ کی حکومت ڈھائی ارب ڈالر سے شروع ہوئی اور یہ خسارہ 20 ارب ڈالر تک چلا گیا۔ جب ن لیگ کی حکومت آئی تو پاکستان کی ڈیبٹ سروسنگ اوسطاً سالانہ 5 ارب ڈالر تھی۔ اس کے علاوہ تجارتی قرض اور قلیل مدتی قرضے، چھوٹی مدت کے مہنگے تجارتی قرضے کی تعداد صفرفیصد تھی۔ مگر یہ ن لیگ کی ارسطو حکومت ہی تھی جس میں یہ تعداد 11 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
ن لیگ کی ارسطو حکومت کے اور کارنامے سنیں۔ چار سو ارب روپے آئے تو ن لیگ نے چارسو ارب روپے کاسرکلر قرض کلیئر کر دیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کو معیشت کی خرابی کا طعنہ دینے والی ن لیگ کی حکومت نے ملکی معیشت پر کاری ضرب لگاتے ہوئے قرضہ لیا اور آف بجٹ ایک جگہ پر رکھ دیا۔ قرضہ آج بھی وہیں پڑا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان اس کا سود مسلسل ادا کر رہا ہے۔ ن لیگ کی حکومت نے ملکی معیشت میں ایک اور خنجر گھونپا اور 1200 ارب کا سرکلر چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ وہ صحت مند معیشت تھی جو ن لیگ چھوڑ کر گئی۔ مگر کس ڈھٹائی سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے جغادری ڈھول گلے میں لٹکائے معیشت معیشت کا رونا رو رہے ہیں۔ الٹا شرمسار اورقوم سے معافی مانگنے کی بجائے وہ پی ٹی آئی کی حکومت اور عوام کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ منافقت پہ منافقت اور پراپیگنڈا پہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف کی ڈ یمانڈ ہے کہ یہ تمام خسارے جو پیپلزپارٹی اورن لیگ چھوڑ گئی تھی ختم کیے جائیں۔ دسمبر 2020 تک پی ٹی آئی کی حکومت کو سرکلر قرض جو ن لیگ کی حکومت 38 ارب ڈالر پہ چھوڑ کر گئی تھی صفر پر لیکر آنا ہے۔
بجلی، گیس کی قیمتوں، مہنگائی اور شر ح سو د میں اضافہ پر رویاتو بہت جاتا ہے مگر اس کی وجوہات بھی جاننا ضروری ہیں۔ جب پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ اگر تحریک انصاف یہ مشکل فیصلے نہ لیتی تو ملک ڈیفالٹ کی طرف جا رہا تھا۔ ملک اور قوم کے سب سے زیادہ ہمدرد اورخیر خواہ وزیر اعظم عمران خان نے اگر مشکل فیصلے کیے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ملک کس نازک دور سے گزر رہا تھا۔

ملکی خزانے میں صرف 9 ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے جن میں سے بھی آدھے سے زیادہ قلیل مدتی واجبات تھے وہ سٹیٹ بنک کے اپنے ذخائر ہی نہیں تھے۔ پی ٹی آئی کے دورحکومت میں جولائی 2019ء سے لیکر اب تک زرمبادلہ کے ذخائر میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی حکومت نے قلیل مدتی واجبات کیلئے 4 ارب ڈالر کلیئر کیے۔ عمران خان کی حکومت نے گزشتہ سال 10 ارب ڈالر کی ڈیبٹری پے منٹ اور انٹرسٹ سروسنگ ادا کی اور چھ ماہ میں 3.6 ارب ڈالر بھی واپس کیے زر مبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

مہنگائی میں اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ تباہ حال ملکی معیشت کی وجہ سے تحریک انصاف کو کچھ مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ ملکی روپیہ شدید پریشر میں تھا۔ اس کے ساتھ اپوزیشن کی طرف سے یہ پراپیگنڈا بھی جا ری رہا کہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم نہیں ہو رہا۔ امپورٹ کم نہیں ہو رہی۔ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا، کیا کیا منفی پراپیگنڈا تھا جو اپوزیشن نے نہیں کیا۔ کرنسی پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی ملک دشمن پالیسیوں کی وجہ سے بہت زیادہ پریشر میں تھی۔ جب زرمبادلہ کے ذخائر ہی نہیں کرنسی کو سپورٹ کرنے کیلئے تو کرنسی اپنے مارکیٹ ریٹ پرہی آئے گی۔ اس سے مہنگائی بھی ہوگی اور اس میں اضافہ بھی۔ مہنگائی کی بڑی وجہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے وہ معاہدے بھی ہیں جو انہوں نے پاور سیکٹر، ایل این جی میں کیے۔ سرکلر خسارہ کا تحفہ بھی ن لیگ کی حکومت نے ملک اور قوم کو دیا۔ اس وجہ سے اشیاء کی قیمتیں بڑھیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ ن لیگ کی حکومت نے ایک اور کھلواڑ یہ کھیلا کہ پاور سیکٹر، انرجی اورگیس کے محکمہ میں بڑاخسارہ چھوڑ کر گئی جس کا پریشر حکومت کو برداشت کرنا پڑا اور گیس کی قیمتوں میں بھی کچھ اضافہ ہوا۔

اپوزیشن ہی واویلا کر رہی تھی کہ ملک نازک دور میں گزر رہا ہے اور حکومت آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کر رہی اور جب معاہدہ ہوگیا تو پھر یہی اپوزیشن ڈھٹائی سے اس پر باتیں بنانے لگی۔ کہا گیا ڈالر دوسو کی حد عبور کر جائے گا مگر تحریک انصاف کی حکومت نے نہ صرف ڈالر کی بڑھتی قیمت پر قابو پایا بلکہ اب آہستہ آہستہ ڈالر نیچے کی طرف آرہا ہے۔ ن لیگ نے ملکی خزانے اور معیشت کو آئی سی یو میں ڈالا اس کی سب سے بڑی وجہ وہ 20 ارب ڈالر تھے جو اس نے مصنوعی طور پر کرنسی کو اوپر رکھنے کیلئے جھونکے۔ اگر ن لیگ ایسا ظلم نہ کرتی تو آج ملکی ایکسپورٹ بھی زیادہ ہوتی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی 25 ارب ڈالر سے زائد پڑے ہوتے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے مشکل فیصلے کرکے جہاں ملکی معیشت کو سہارا دیا وہیں اب ملکی ترقی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت پہلے ہی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 32 فیصد نیچے آیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ 84 فیصد تک نیچے آچکا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔ معاشی اثرات سے واضح ہو رہا ہے کہ خساروں کو کم کرکے اگلے سال شرح نمو میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کرنسی کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی مصنوعی طریقہ بھی استعمال نہیں کر رہی۔ ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کو مستحکم قرار دے رہے ہیں۔ اشیاء کی قیمتوں میں واضح کمی آچکی ہے، مہنگائی پر قابو پایا جا رہا ہے۔ گندم جیسے بحران پر ایک دن میں قابو پالیا گیا۔ جو سابقہ حکومتوں کے ادوار میں کئی کئی ہفتے، مہینے جارہی رہتا تھا۔ گندم، آٹا، ٹماٹر، پیاز اور دوسری بنیادی اشیاء کی قیمتیں واپس آچکی ہیں۔ کھاد کی فی بوری کی قیمت 300 سے چار سو کم ہوچکی ہے۔ سابقہ حکومتوں کے خسارے موجودہ حکومت پورے کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے تیسرے سال شرح نمو میں واضح بہتری ہوگی۔ مصنوعی طریقے سے 20 ارب ڈالر جھونک کر ملکی معیشت کو مصنوعی سہارا دینے کی بجائے اب سب کچھ نیچرل کیا جا رہا ہے جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انشاء اللہ آنے والے دن ملک اور قوم کی تقدیر بدل دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں