49

یہودی لابی … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

فکشن پڑھنے کا شوق پانچویں جماعت سے ہی ہوگیا تھا۔ ان دنوں ابن صفی کے بعد مظہر کلیم ابھر رہے تھے اور انکا سلور جوبلی عمران سیریز، “ناقابل تسخیر مجرم” اور “موت کا رقص” پڑھا جس میں اسرائیل کے صابرہ اور شتیلہ کے کیمپوں پر کئے گئے حملوں کے جواب میں عمران اور پاکیشیا سیکرٹ سروس نے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ پڑھ کر مزہ آگیا اور فلسطینی بہن بھائیوں سے محبت کا جذبہ جاگا۔ وہاں سے پتا چلا کہ “یہودی لابی” کوئی چیز ہے اور یہ دنیا پر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ اسکے بعد سے آج تک یہودیوں کے مہلک ہتھیار جن کا ایک بٹن دباتے ہی پوری دنیا کے مسلمان آبی بخارات بن کر ہوا میں اڑ جائیں گے؛ عمران اور سیکرٹ سروس کے ہاتھوں تباہ ہوتے پڑھے؛ کبھی دلدلوں میں کبھی پہاڑوں میں؛ کبھی صحرا میں کبھی گلیشیر میں؛ کبھی خلا میں تو کبھی زمین دوز اور پڑھ کر مزہ آتا رہا۔ گزشتہ تیس سال سے زائد عرصے میں سوائے مظہر کلیم (مرحوم)کے، پوری دنیا میں کوئی بھی یہودی لابی کا کچھ نہیں بگاڑ سکا اور تیس سال کے بعد “ناقابل تسخیر مجرم” آج کوئی عمران یا مسلمان نہیں بلکہ خود یہودی ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں سے امریکہ کی طاقت کی غلام گردشوں میں آنے جانے اور یہودیوں کے ساتھ قریب سے کام کرنے سے دو غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگیا۔
۱- یہودی لابی کسی ہتھیار سے مسلمانوں یا دنیا پر قبضہ نہیں کرنا چاہتی بلکہ طاقت کے مراکز میاں پالیسیاں تبدیل کرکے کرنا چاہتی ہے۔

۲-یہودیوں کی طاقت دولت نہیں بلکہ وقت سے آگے سوچنا؛ قوم کی ذہنی اور فکری نشونما ہے جو ایک ٹین ایجر (مارک ذکر برگ)، درمیانی عمر (بل گیٹس) اور بڑھاپے (وارن بفٹ) کو بھی عمر کی قید سے بے نیاز کرکے کچھ نیا، کچھ بڑا کرنا سکھاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلے تیس سالوں میں یہودیوں نے کتنے سائنسدان، ارب پتی، موجد، محقق پیدا کئے ہیں اور امت مسلمہ نے کتنے!

آپ یہودیوں کی ہمت اور قوت برداشت دیکھیں، 1941-1945 کے درمیان ساٹھ لاکھ یہودی قتل ہوئے؛ اسکے ٹھیک تین سال بعد 1948 میں اسرائیل بن گیا اور اسکے ٹھیک تین سال بعد AIPAC (American Israel Public Affairs Committee) کی داغ بیل، امریکہ میں ڈال دی گئی اور جو فقرہ ہم بچپن سے “یہودی لابی” وہ اصل میں AIPAC (اے پیک، اس میں I سائیلنٹ ہے) نام ہے- یہ ہوتا ہے آنے والے وقت کو بھانپنا، وقت کی ضرورت کو سمجھنا اور وقت سے آگے سوچنا اور پھر اس پر عمل کرنا۔

گزشتہ چند سالوں سے AIPAC سے بالواسطہ تعلق رکھنے والے ایک بہت ہی قابل یہودی سے کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہود و نصاری، مسلمان دوست ہوں یا نہ ہوں لیکن ہارورڈ سے لیکر کورنیل تک میں دنیا کو پڑھا رہے ہیں، سکھا رہے ہیں تو سیاسی سوجھ بوجھ بھی ان سے لی جاسکتی ہے۔AIPAC کی انٹرنیشل کانفرنس واشنگٹن ڈی سی میں یکم مارچ سے تین مارچ تک جاری ہے جس میں انیس ہزار یہودی اور عالمی لیڈر شرکت کررہے ہیں. امریکی نائب صدر، سیکرٹری آف دی، اسٹیٹ، مائیکل بلومبرگ، جو بائیڈن اور بہت سے اہم لوگ شرکت کررہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ بھی آجائے۔ ایک اور اہم شخصیت امریکہ کے اسرائیل میں سفیر ڈیوڈ فریڈمین ہیں جن پر راقم نے “یہودیوں کا کمال” کے نام سے گزشتہ سال ستائیس مارچ کو کالم اسی پیج پر لکھا تھا، ہوسکے تو ضرور پڑھئے گا۔

اگر ہم یہودیوں سے صرف ایک بات سیکھ سکتے ہیں تو وہ ہے میرٹ؛ وہ ہے کارکردگی کی بنیاد پر عزت؛ ایک یہودی کبھی نالائق اور نکمے بیٹے کو اپنا وارث یا لیڈر نہیں بننے دیتا۔ اگر کوئی آپکا لیڈر بننے کا خواہش مند ہو تو اس سے پوچھیں کہ عملی طور پر آج تک کسی بھی تحریک، تنظیم یا قوم کے لئے کیا کیا ہے؟ اگر کچھ کیا ہے تو اس کام کی عزت کریں اور اسے لیڈر سمجھیں اور اگر نہیں کیا ہے تو اس انسان کو بطور کارکن کام کرکے آہستہ آہستہ لیڈر بننے کی ترغیب دیں۔ نا تو حوصلہ شکنی کریں اور نہ ہی اسے وہ لیڈرانہ اہمیت دیں کہ باقی سب بھی سوچیں کہ کام کرکے آگے لیڈر بننے کی کیا ضرور ت ہے؛ جب اس بندے/بندی کی طرح “بول بچپن” سے ہی لیڈر بنا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ ہمارے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

راقم بھی”اے پیک” کی کانفرنس میں شرکت کے لئے آج س میکر تین دن (29 فروری سے دو مارچ تک) واشنگٹن ڈی سی میں ہوگا۔AIPAC سے سیکھیں گے کہ پاکستانی امریکن کی تنظیم PAKPAC کو کیسے یہودی لابی کی طرح بااثر اور طاقتور بنا سکتے ہیں اسکے ساتھ ساتھ واشنگٹن ڈی سی میں پاک پیک کے چیپٹر کے حوالے سے سیاسی دلچسپی رکھنے والے پاکستانیوں سے اتوار، 2nd مارچ کو شام سات بجے ایک غیر رسمی ڈنر پر ملاقات ہوگی۔ جو بھی پاک پیک کا ممبر بننا چاہے، شامل ہونا چاہے، فیس بک میسینجر پر میسیج کرسکتا ہے۔ اب بات عمران سیریز سے آگے بڑھنی چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں