291

پاکپتن میں یونیورسٹی کی ضرورت و اہمیت …. (پیر فیضان علی چشتی)

📝 بابا فرید یونیورسٹی بناو موومنٹ 📝
✒ از قلم پیر فیضان چشتی
اس خبر کی ویڈیو رپورٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
بچہ جب ابتدائی تعلیم مکمل کرتا ہے تو اسے آگے بڑھنے کا شعور اور جزبہ ملتا ہے ، پھر ثانوی تعلیم مکمل کرتا ہے تو اسے اپنی صلاحیتوں کی پہچان ہونا شروع ہوتی ہے اور جب اعلیٰ تعلیم کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اسے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے ۔کسی چیز کو پرکھنے ،کھوج لگانے اور حقیقت تک پہچنے کا ذریعہ اعلی تعلیم ہے ۔ اور دور حاضر میں عمومی طور پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے university کا رخ کرنا پڑھتا ہے ۔ جہان پر دینی و دنیاوی دونوں شعبوں میں مختلفtopic پر research کروائی جاتی ہے تاکہ ادمی میں موجودہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے .

اس خبر کی ویڈیو رپورٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مگر ملک پاکستان میں اوسطاً یونیورسٹیوں کی تعداد بہت کم ہے بالخصوص پاکپتن جو تقریباً 20 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے
اور پاکپتن کے مشرق میں تقریباً 70 کلو میٹر اوکاڑہ تک ، مغرب میں تقریباً 250 کلو میٹر ملتان تک ، شمال میں تقریباً 50 کلومیٹر ساہیوال تک ، اور شمال مشرق میں تقریباً 200 کلومیٹر لاہور تک ، اور تقریباً 180 کلومیٹر فیصل آباد تک ، اور جنوب میں تقریباً 70 کلومیٹر بہاولنگر تک ، university کا وجود نہیں ملتا ۔
جس کی بدولت تعلیمی میدان میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس باونڈری لائن کے درمیان والے علاقوں میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو لاہور، فیصل آباد، اوکاڑہ، اور دیگر علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے کوشاں ہیں ۔ مگر اکثریت ان نوجوانوں کی ہے جو مسائل کی بنا پر اور وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان شہروں کا رخ نہیں کر سکتے ۔ جس کی وجہ سے وہ اعلیٰ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں حالانکہ تعلیم یافتہ افراد ملک و ملت کی ترقی کا سبب بنتے ہیں ۔
جس طرح ستارے آسمان کی زینت ہیں علم والے، تعلیم یافتہ،تہذیب یافتہ افراد دنیا کی زینت ہیں ۔
آگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو دور حاضر میں university کی اہمیت hospital سے کم نہیں ہے ۔ بلکہ بیماری کا تعلق انسان کی ذات سے ہوتا ہے جبکہ جاہل اور تعلیم یافتہ افراد کے positive اؤر negative اثرات آگے نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں ۔
اس واسطے شہر فرید کی آبادی کے پیش نظر اور سب سے بڑھ کر ایک ولی کامل کی طرف نسبت کرتے ہوئے بابا فرید university کا قیام نہایت ضروری ہے اور میری شہر فرید (پاکپتن) کے ہر باسی سے اپیل ہے کہ اس آواز کو اٹھائیں اور اس سوچ اور نظریہ کو آگے لوگوں میں develop کریں .
تاکہ حکومت پاکستان کو پاکپتن میں بابا فرید university کے قیام کی اہمیت کو باور کروایا جا سکے اور اس اہم کام کی طرف توجہ دلائی جا سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں