207

کرونا وائرس کیا ہے؟ علامات، احتیاط اور علاج… (شاہد مرتضی چشتی)

تحریر: شاہد مرتضیٰ چشتی (ہومیوپیتھک ڈاکٹر)

کرونا وائرس جس نے پوری دنیا کو خوف میں مبتلا کررکھا ہے. آج ہم اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں. یہ ایک نیم گول شکل کا وائرس ہے جس کے کناروں پر ایسے ابھار نظر آتے ہیں جس کے باعث اس کی شباہت ایک تاج یعنی کراون کی سی نظر آتی ہے. لاطینی زبان میں تاج کو کرونا کہا جاتا ہے اس نسبت سے اسے کرونا وائرس کا نام دیا گیا ہے.

اس خبر کی ویڈیو رپورٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

سب سے پہلے 1960ء کے عشرے میں کروناوائرس کا نام دنیا نے سنا اور اب تک اس کی 13 تبدیل شدہ اقسام سامنے آچکی ہیں. یہ وائرس زیادہ تر جانور خاص طور پر خنزیر اور مرغیاں ہی ان سے متاثر ہوتی ہیں تاہم ان وائرسز کی 13 میں سے 7 اقسام ایسی ہیں جو انسانوں میں منتقل ہوکر انہیں متاثر کرسکتی ہیں. حال ہی میں چین کے شہر ووہان سامنے آنے والے ہلاکت خیز وائرس کو nCoV 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کرونا وائرس کی ایک بالکل نئی قسم ہے۔ یہ وائرس اس وقت تک دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکا ہے۔ چین میں کرونا وائرس کے انسانی حملے کے بعد دنیا بھر میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ یہ وائرس انسانی سانس کے نظام پر حملہ آور ہوکر ہلاکت کی وجہ بن سکتا ہے اور اب تک ہزاروں افراد اس متاثر جب کہ کئی درجن سے زائد افراد اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

کرونا وائرس کی پہلے ذیلی قسم سارس بھی چین سے ہی پھیلا تھا، دوسری قسم مرس مشرق وسطی سے اور اب یہ تیسری قسم 2019 nCoV بھی چین کے شہر ووہان سے پھیلا ہے۔ اس سے قبل چین ہی سے پھیلنے والے سارس سے 8000 افراد متاثر ہوئے جن میں 774 افراد ہلاک ہوئے جب کہ مرس اس سے بھی زیادہ ہولناک تھا.

نئے کرونا وائرس کی علامت؟
چین میں لوگوں نے سردی لگنے، بخاراور کھانسی کی شکایت کی ہے۔ جن پر حملہ شدید ہوا انہوں نے سانس لینے میں دقت بیان کی ہے۔ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق اس وائرس سے متاثر ہونے کے دو روز سے دو ہفتے کے دوران اس کی ظاہری علامات سامنے آتی ہیں۔ اس کے بعد ضروری ہے کہ مریض کو الگ تھلگ ایک خاص حصہ میں رکھا جائے۔ اس وقت ووہان کے لوگوں نے کئی دنوں کا راشن جمع کرلیا ہے اور اکثریت باہر نکلنے سے گریزاں ہے۔

نئے کرونا وائرس کی تشخیص اور علاج کیسے ممکن ہے؟

چینی محکمہ صحت نے ووہان سے نمودار ہونے والے وائرس کا جینیاتی ڈرافٹ تیار کرکے اسے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ ابھی تک اس کی کوئی اینٹی وائرل دوا یا ویکسین موجود نہیں ہے، کیونکہ یہ بالکل ایک نیا وائرس ہے اور فی الحال اس کی ظاہری علامات سے ہی اس کا علاج کیا جارہا ہے۔ اور چین کا دعویٰ ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ 4 فیصد افراد ہی ہلاک ہوئے ہیں تاہم WHO کے مطابق اس سے متاثرہ 25 فیصد مریض شدید بیمار ہیں۔

کیا کرونا وائرس سانپ اور چمگاڈر سے پھیلا؟
چینی سائنس دانوں نے جینیاتی تحقیق کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ کرونا وائرس کی کوئی نئی قسم سانپ سے پھیلی ہے جنہیں ووہان کے بازار میں زندہ چمگادڑوں کے ساتھ رکھا گیا تھا تاہم دیگر ماہرین نے اس امکان کو رد کردیا ہے۔ تاہم عالمی ماہرین کا اصرار ہے کہ پہلے کی طرح یہ وائرس چینی بازاروں میں پھل اور سبزیوں کے پاس ہی زندہ فروخت کیے جانے والے جانوروں سے ہی پھیلا ہے۔ لوگ اس سے متاثر ہوسکتے ہیں واضع رہے کہ سارس بھی ایسے ہی پھیلا تھا۔ چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ اور چمگادڑوں کا فضلہ ہوا میں پھیل کر سائنس کے ذریعے انسانوں میں اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ بن سکتا ہے لیکن دیگر ماہرین اس سے متفق نہیں۔

کیا یہ وائرس عالمگیر وبا بن سکتا ہے؟
کسی بھی وائرس کو عالمی وبا بننے کے لیے چار چیزیں درکار ہوتی ہیں:
نمبر1: وائرس کی کوئی نئی قسم ہو
نمبر 2: حیوان سے انسان تک منتقل ہونے کی صلاحیت
نمبر 3: انسان میں مرض پیدا کرنے کی صلاحیت
نمبر 4: انسان سے انسانوں تک بیماری پیدا کرنے کی استعداد
اور نئے کرونا وائرس میں یہ چاروں باتیں سامنے آچکی ہیں۔ اور یہ وائرس بہت کم وقفے میں دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے قبل سوائن فلو کی وبا بھی صرف ایک ماہ میں کئی ممالک تک پھیل گئی تھی۔

کرونا وائرس پاکستان آسکتا ہے؟
چینی شہر ووہان سے شروع ہونے والا یہ وائرس پہلے چین کے دیگر شہروں میں پھیلا اور اس کے بعد جاپان، تھائی لینڈ، سنگاپور اور امریکا میں بھی اس کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اسی لیے پوری دنیا کے ہوائی اڈوں پر چینی مسافروں کی اسکیننگ کی جارہی ہے۔ اس کا ایک مریض برطانیہ میں بھی سامنے آچکا ہے تاہم عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی۔ پاکستان میں بھی اس کے پھیلنے کا خطرہ موجود ہے کیونکہ بڑی تعداد میں چینی ماہرین سی پیک اور دیگر منصوبوں کے لیے پاکستان آتے رہتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان کی کڑی نگرانی اور اسکیننگ کی جائے، اسی لیے فی الفور پاکستانی ہوائی اڈوں پر بھی اسکیننگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل صرف چین میں ہی ایک شخص سے کئی افراد کے متاثر ہونے کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔ تاہم وزیرِ مملکت برائے صحت ظفرمرزا اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستان کے پاس کرونا وائرس کی شناخت اور اسکریننگ کے مناسب انتظامات موجود نہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کو مزید چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔

یہ وائرس کتنا مہلک ہے؟
اب تک چین میں درجنوں افراد اس وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں اور متاثرین کی تعداد ہزاروں میں ہے. ووہان اور دیگر دس شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ بند ہے اور لوگ گھروں تک محصور ہوچکے ہیں۔ تاہم نئے قمری سال کی تقریبات پر لاکھوں کروڑوں لوگ باہر نکلتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے کہ چینی حکام کے مطابق اس وائرس سے شکار ہونے والے 4 فیصد افراد لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے کرونا وائرس کی ہلاکت خیز شدت کم ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں انفیکشن امراض کے ماہر ڈاکٹر مارک وول نے اس سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید یہ اوسط درجے کے انفیکشن اور سارس کے درمیان کی شدت رکھتا ہے جس سے زیا دہ اموات ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وائرس خود کو مزید تبدیل کرلے تو شاید زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔

عوام کو چاہیئے کہ اس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ اس سے بچا جاسکے.
صفائی کاخاص خیال رکھیں.
بار بار اچھے صابن سے ہاتھ دھوئیں۔
سردی اور زکام کے مریضوں سے دور رہیں۔
کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں۔
پالتو جانوروں سے دور رہیں۔
کھانا پکانے سے قبل اور بعد میں ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں۔
کھانا اچھی طرح پکائیں اور اسے کچا نہ رہنے دیا جائے۔
کسی کی بھی آنکھ ، چہرے اور منہ کو چھونے سے گریز کیجیے۔
اگر دو ہفتے سے زیادہ کھانسی، نزلہ، بخار، دمہ، سانس لینے میں درد رہے تو فوراً خون کا ٹیسٹ کروائیں۔

پاکستان سے چین جانے والوں کے لیے کیا ہدایات ہیں؟
ورلڈ ھیلتھ آرگنائزیشن اور حکومت پاکستان نے فی الحال چین کے لیے کسی ہنگامی صورتحال کا اعلان نہیں کیا تاہم عمومی احتیاط اختیار کرنا ضروری ہیں اور اپنی سفری تاریخ سے حکام کو آگاہ کرنا چاہیئے اور جہاں ضروری ہو اسکیننگ کے عمل سے گزار جائے۔

یہ ویڈیو مفاد عامہ کے لیے تیار کی گئی ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ شیئر اورلائک کریں تاکہ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں