228

ہوئے تم دوست جس کے … ایک تبصرہ… (سیف علی سیف)

تبصرہ: سیف علی سیف (گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد)

بیل آمی … فرانسیسی ادیب “موپاساں” کا مشہورِ زمانہ ناول ہے۔ شوکت نواز نیازی نے اس کو “ہوئے تم دوست جس کے” کے نام سے انتہائی خوبصورت انداز میں فرانسیسی سے براہ راست اردو میں ڈھالا ہے۔ ناول کا اصل زبان سے براہ راست اردو میں ترجمہ ہونا ہی اس کا اصل حسن ہے۔ ناول کے اندر قاری کو پہلے جملے سے ہی اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت موجود ہے۔

ناول کی کہانی “جارج دور وار” نامی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو آنکھوں میں سنہرے مستقبل کے خواب سجائے خوشبوؤں کے شہر یعنی پیرس کا رخ کرتا ہے۔ ابتدا میں اسے بھی دوسرے اجنبیوں کی طرح انتہائی نامساعد حالات سے گزرنا پڑتا ہے لیکن پھر حالات پلٹا کھاتے ہیں اور قسمت کی دیوی اس پر کچھ اس طرح مہربان ہوتی ہے کہ اس کا شمار پیرس کے امرا میں ہونے لگتا ہے۔ اس سب کے پیچھے اس کی محنت سے زیادہ اس کی سحر انگیز شخصیت کا ہاتھ زیادہ نظر آتا ہے۔

فرانس کی سیاست میں صحافت کے کردار کو بڑی خوش اسلوبی سے ناول کا حصہ بنایا گیا ہے۔ فرانس کے قبرص پر قبضے کے نتیجے میں کس طرح اشرافیہ اور وزرا نے اپنے ہاں دولت کے انبار لگائے۔

ناول کی کہانی شروع سے لے کر آخر تک ایلیٹ کلاس کی خواتین کے معاشقوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہیرو ان خواتین کو محبت سے زیادہ وقتی لذت اور اپنے عروج کے لیے سیڑھیوں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ناول اپنے آخری پیراگراف کی آخری سطر تک تجسس لیے ہے۔ آخر میں سچی محبت کا سورج نکل آتا ہے اور آسمان صاف ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ناول عمدہ کہانی لیے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں