173

آٹے کی کہانی …. (پروفیسر ماجد غفور)

تحریر: پروفیسر ماجد غفور

بی بی رانی بڑا ہنیر
آٹا دس روپئیے سیر

پنجابی شاعر بابا نجمی کا یہ شعر محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں لکھا گیا تھا۔ تب لگتا تھا۔ دس روپے کلو آٹا بہت مہنگا ہے۔ غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا دکھائی دے رہاتھا۔ اگر آ ج یہ 70 روپے کلو ملنے لگا ہے۔ اس کا صاف مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ آج بھی ساری مشکلات عام آدمی کیلئے ہی ہیں۔ حکومتوں کے ٹھیکیدار وں کو نہ تو کل فرق پڑا تھا۔ نہ ہی آج کوئی فرق پڑنے والا ہے۔

جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔ تب سے لے کے اب تک نہ صرف ٹی وی، اخبار اور ریڈیو پہ اسے زرعی ملک کہا جاتا رہا ہے۔ بلکہ درسی کتابوں میں بھی وضاحت سے لکھا گیا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ آج بھی معاشیات پاکستان کی بات کریں، تو پاکستان زرعی ملک کے طور پہ ہی مانا جاتاہے۔

لیکن ایک سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ایک زرعی ملک میں زرعی اشیاء کا مہنگا ہونا اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونا،عام آدمی کی سمجھ سے تو بالا تر ہو سکتا ہے، لیکن پالیسی سازوں کی سمجھ میں بھی نہ آئے تو بہت عجیب و غریب دکھائی دیتا ہے۔

جب کہ کسان سے گندم تو 1300 روپے من خریدی جائے اور آٹا کی باری آئے جس پہ اجارہ داری چھوٹے بڑے سرمایہ داروں کی ہے. تو ایک من آٹا 2800 روپے میں بکنا شروع ہو جائے۔ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ پاکستان میں فلور ملز کا بھی ایک مافیا ہے جس پہ موجودہ حکومت کا ذرا بھی اختیار نہیں ہے۔

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا پاکستان اب زرعی ملک بھی نہیں رہا ہے؟ جب کہ صنعتی ملک تو ہم نہ کبھی تھے اور دکھائی یہی دے رہا ہے کہ شاید کبھی صنعتی ملک بن بھی نہ سکیں، امید کا دامن اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، مگر حقائق کوئی اور ہی فلم دکھا رہے ہیں۔

ایسی صورت حال جس میں زراعت اور زراعت سے منسلک لوگوں کا کیا ہوگا۔ اس پہ بھی بہت کچھ سوچنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی کل جی ڈی پی میں 21 فیصد حصہ زراعت سے حاصل ہوتا ہے۔ کل کام کرنے کے قابل آبادی میں تقریبا45 فیصد براہ راست اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ کل آبادی کا تقریبا 60 فیصد حصہ ابھی بھی دیہاتی علاقوں میں رہ رہا ہے۔

جانوروں سے حاصل ہونے والا دودھ، گوشت، دیگر پروٹین کے ذرائع اور چمڑا بھی اسی شعبہ کا محتاج ہے۔ مگر پلاننگ کمیشن کو آج تک یہ سمجھ ہی نہیں آسکی کہ کون سی اشیاء پیدا کی جائیں؟ کس مقدار میں پیدا کی جائیں؟ اور کہاں پیدا کی جائیں؟ یہ سارے محض سوالات نہیں ہیں۔ بلکہ معاشیات کی الف، ب یہیں سے شروع ہوتی ہے۔

پورا پاکستان اب مافیا گروپوں کے قبضہ میں آچکا ہے اور ہر مافیا گروپ اپنے لوگوں کو بچانے اور ان کا پیٹ بھرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ اسی لئے گندم 32 روپے کلو جب کہ آٹا 70 روپے کلوہی بکے گا۔ اگر کسان اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے تو انہیں بھی مافیا کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ باقی رہا ملک تو اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں