49

‎یار مار … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

‎نادیہ اور شمیم (نام بدل دئیے گئے ہیں) ہماری میڈیکل کالج کی کلاس فیلوز تھیں۔ خوش شکل، خوش اخلاق اور خوش اطوار۔ بیج فیلو ہونے کی وجہ سے نادیہ سے زیادہ جان پہچان تھی اور وہ ذہین، سمجھدار اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی۔ شمیم کے بارے میں بھی ہمیشہ اچھا ہی سُنا تھا۔ ایم بی بی ایس کے بعد میں امریکہ آگیا اور گزشتہ انیس سال سے کسی سے بھی ملاقات نہیں ہوئی لیکن فیس بک پر سال میں ایک آدھ بار نیک تمناؤں کا تبادلہ ہوتا رہا۔

‎لگ بھگ چار سال پہلے کینسر کی مریضہ ایک بچی کے علاج کے لئے “اپنا” کے ذریعے ہماری مدد مانگی گئی۔ بیس اپریل 2016 کو میں نے فیس بک پر فنڈ ریزنگ شروع کی؛ ان دنوں فیس بک پر فنڈ ریزنگ فیچر موجود نہ تھا۔ الّلہ کے کرم، اور عائشہ ظفر، نعیم رحیم، فہیم رحیم، سعد بھٹی اور فہیم عباسی اور دیگر بہت سے عزیز دوستوں کی مدد سے ہم نے چوبیس گھنٹوں میں چالیس ہزار ڈالر اکھٹے کرلئے اور ایمان کا علاج ممکن ہوا۔ اس کے کچھ ہفتوں بعدشمیم نے جو کہ مجھے فیس بک پر فالو کرتی رہی نے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ ایک کینسر کے مریض کے لئے دس ہزار ڈالر اکھٹے کردوں۔ میں نے کہا کہ مریض کی تفصیلات مہیا کرو۔ شمیم نے کہا کہ مریض خودار ہے یہ راز رہے گا۔ میں نے کہا کہ تفصیلات ضروری ہیں کیونکہ فنڈ ریزنگ کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھنا ضروری ہے۔ یہ لوگوں کا اعتماد ہوتا ہے اور اس پر پورا اترنا شرط ہے۔لیکن شمیم نے تفصیلات نہ دیں اور میں نے فنڈ ریزنگ نہیں کی۔

‎شمیم درمیان میں ہائے ہیلو کرتی رہی۔ ایک سال کے وقفے کے بعد اس نے رابطہ کیا اور کہا کہ نادیہ بے حد مشکل حالات میں ہے۔ اس کے کزن کو کینسر ہے اور اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ ہر کینسر کا مریض کسی کا کزن ہوتا ہے اور اسی لئے ہم شوکت خانم کے لئے فنڈ ریزنگ کرتے ہیں۔ وہ ایسا روکھا سا جواب سن کر گڑبڑا گئی؛ اور کہا، “ نہیں نادیہ نے اپنی پھوپھو کی وفات کے بعد اسے گود لیا ہے تو اسکا بیٹا ہی سمجھو”۔ ان دنوں میں بوریوالہ کے ایک بچے کے اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے لئے چلڈرن ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر نثار احمدکے ساتھ رابطے میں تھا۔ میں نے کہا کہ وہاں علاج کروا دیتے ہیں۔ اس نے کہا کہ نادیہ سنگا پور میں یہ کروانا چاہتی ہے۔ زیادہ تر کا انتظام ہوگیا ہے بس پانچ لاکھ کی کمی ہے۔ نادیہ خود مانگتے جھجھکتی ہے اور مجھے (شمیم کو) کہا ہے کہ کامران کو میرا بتانا، وہ ارینج کردے گا۔ میں نے کہا اب یہ پرسنل فیور مانگی ہے تو کنفلیکٹ آف انٹرسٹ ہے اسلئے فنڈ ریزنگ تو نہیں کرسکتے لیکن نادیہ کا بینک اکاؤنٹ دے دو، میں ذاتی طور پر پیسے بھیج دیتا ہوں۔ اس نے کہا کہ نادیہ کا بینک اکاؤنٹ نہیں دے سکتی، اسکا شوہر شکی ہے تو مجھے (شمیم کو) بھیج دو۔ میں نے کہا، سوری میں صرف اسے بھیج سکتا ہوں۔ کل کو میرا آڈٹ ہوسکتا ہے امریکہ میں، تو مجھے ایک ایک پیسے کا حساب رکھنا ہوتا ہے۔ وہ چُپ ہوگئی اور بولی بے شک پیسے نہ دو لیکن وعدہ کرو کہ نادیہ کا یہ راز، راز ہی رہے گا اور نادیہ سے کبھی ذکر نہ کرنا۔ میں نے اس سے وعدہ کرلیا!

‎رواں ہفتے اومان سے ہمارے کلاس فیلو شہزاد یونس کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ شمیم نے اسے چند مہینے پہلے اسے بتایا کہ اسکی دیرینہ دوست اور ہماری کلاس فیلو نادیہ کو بریسٹ کینسر ہے اور وہ پورے جسم میں پھیل چکا ہے؛ کیمو تھراپی اور سرجری کے لئے تین لاکھ روپے چاہئیے۔ شہزاد کی مرحومہ بیوی چند سال پہلے بریسٹ کینسر سے فوت ہوگئی تھی تو یہ بات اسکے دل کو تڑپا گئی اور فوراً پیسے ٹرانسفر کردئیے۔ پھر شمیم ایک ایک کرکے بیسیوں کلاس فیلوز سے پیسے لیتی رہی کہ نادیہ کا سب کچھ علاج پر خرچ ہوگیا اور اگر اسکے بچوں کی فیس نہ دی گئی تو انھیں اسکول سے نکال دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ سب کلاس فیلوز نے اپنی اپنی بساط کے مطابق مدد کی۔ اب شمیم کے مطابق نادیہ کے اگلے علاج کے لئے پندرہ لاکھ کی مزید ضرورت تھی۔

‎اب سب ڈاکٹر کلاس فیلوز کے کان کھڑے ہوئے کہ آخر کون علاج کررہا ہے، کہاں ہورہا ہے۔ شہزاد یونس نے نادیہ سے بات کرنے کا سوچا اور اس سے بات کرکے سب کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے کہ الحمد لّلہ نادیہ بالکل صحتمند ہے اور مالی طور پر آسودہ ہے اور اس نے آج تک شمیم سے کسی مدد کا نہیں کہا۔ جس جس کلاس فیلو نے شمیم کو پیسے دئیے تھے، اس نے شمیم سے پوچھا اور وہ ہر بار نیا جھوٹ بولتی رہی! آخر میں رونا دھونا شروع کردیا کہ اسکے شوہر کو بزنس میں نقصان ہوا؛ اسکا گھر بک گیا اور نادیہ کے بچوں کا نام لیکر اپنے بچوں کی فیس ہمارے کلاس فیلوز سے جمع کرواتی رہی۔ مزے کی بات ہے کہ تین مہینے پہلے اس نے مجھے ٹیکسٹ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کوسٹینفورڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا میں داخل کروانے آرہی ہے اور شاید ہماری طرف بھی چکر لگائے۔ شہزاد یونس نے جو واؤچر بھیجا اسکے مطابق اسکے ایک بچے کی لاہور کے اسکول میں فیس پچاس ہزار روپیہ ماہانہ ہے جو کہ اسکی مدد کرنے والے کسی ڈاکٹر کے بچے کی نہیں ہوگی اور جن لیڈی ڈاکٹرز کلاس فیلوز نے اسے کینسر کے نام پر ہیسے بھیجے ان میں سے شاید ہی کسی کے پاس پانچ ہزار ڈالر کا “لوئی وٹان” پرس ہوگا جو شمیم کاندھے پر لٹکا کر ایم ایم عالم روڈ کے کیفوں میں ہر دوسرے دن نظر آتی ہے؛ گویا ایک بھکاری سخت گرمی میں بس کی لائن میں لگے لوگوں سے ایک ایک روپیہ بھیک مانگ کر ٹیکسی کروا کر گھر چلا جائے۔

‎گزشتہ چند دنوں میں شمیم ہر ایک کو مگر مچھ کے آنسوؤں سے لبریز میسیجز بھیج رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شمیم ایک کروڑ روپے سے زائد لوٹ چکی ہے۔ نجانے شرم کی کمی ہے یا عقل کی یا دوسروں کا مال کھانے کا نشہ کہ “بچوں کے اسکول کی فیس کے لئے یہ کچھ کیا” تو الّلہ کی بندی پچاس ہزار ماہانہ اسکول سے ہٹا کر ذرا سستے میں ڈال دو؛ پچانوے فیصد کامیاب انسان دنیا میں سستے ترین اسکولوں سے پڑھے! شمیم خود مہنگے اسکولوں سے پڑھی اور آج فراڈ کر رہی ہے، ہاتھ پھیلا رہی ہے ان کے آگے جو سرکاری اسکولوں سے پڑھے۔ شمیم کے ماں باپ نے، اس ملک نے اسے ڈاکٹر بنایا؛ لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے بڑا مقصد (خدانخواستہ) بیوگی یا طلاق کی صورت میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا ہے۔ اسکا تو میاں بھی سلامت ہے۔ اگر لیڈی ڈاکٹر کو بھی بچوں کے اسکول کی فیس کے لئے فراڈ کرنا ہے تو نوکرانیوں اور بھکارنوں کو تو چوری پر تمغہ دینا چاہئیے۔ سب کلاس فیلوزکے پاس پیسے واپس آسکتے ہیں لیکن اعتبار نہیں اورشمیم نے جو سب سے بڑا ظلم کیا ہے وہ نادیہ پر ہے؛ جس لڑکی نے اسکی دوستی میں گھر سے چند میل دور فاطمہ جناح میڈیکل کالج چھوڑ کر پانچ سال نشتر کے ہاسٹل میں گزارے؛ اسکی لگ بھگ تیس سال کی بہنوں جیسی دوستی کو روند کر رکھ دیا اور اتنی شریف اور خود دار لڑکی کے نام پر پیسے مانگتی رہی، اسکے شوہر کے حوالے سے بےپرکی اڑاتی رہی؛ یہ سب دھوکہ اور ظلم ناقابل معافی ہے اور نادیہ کو اسے کبھی معاف نہیں کرنا چاہئیے۔ ایسی فراڈ کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہئیے تاکہ کسی میں اتنی جرات نہ ہو کہ اتنے لوگوں کے اعتماد کا خون کرے- اور اس سے سبق یہ بھی ملتا ہے کہ مکمل چھان بین کے بعد چیرٹی کی جائے اور ڈاکٹر، انجنئیر، آئی ٹی یا کسی بھی پروفیشنل کو ڈونیشن دینے کا تو تُک ہی نہیں بنتا، انھیں چیرٹی کی بجائے آسان اقساط پر گارنٹی لیکرقرضہ دیں! جذبات اچھی چیز ہیں اگر عقل کا ساتھ نہ چھوٹے تو!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں