186

پاکپتن: سموگ کی وجہ سے پاکستان میں ہرسال 1لاکھ 35 ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں، حکیم لطف اللہ.

پاکپتن (رانا صفدر سے) ”فضائی آلودگی عالمی سطح پر اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے، سموگ کی آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں ہرسال 1لاکھ 35 ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں، سموگ کی روک تھام کے لئے محکمہ زراعت کی کارکردگی خاطر خواہ نظر نہیں آرہی، کیونکہ کسان ابھی تک فصلوں کی باقیات کو جلایا جا رہا ہے۔ بلدیہ ملازمین بھی روزانہ کی بنیاد پر سٹرکوں اور بازاروں سے اکھٹا ہونے والے پلاسٹک اور شاپنگ بیگ کے کچرے کو سٹرک پر ہی آگ لگا دیتے ہیں، اس کے علاوہ شاپنگ بیگ و دیگر کوڑا کرکٹ گھروں سے اکھٹا کر کے شہر سے باہرلاکر آگ لگا دی جاتی ہے جس سے فضا آلودہ ہوجاتی ہے جس کی طرف انتظامیہ کی کوئی توجہ نہیں۔ ان سب وجوہات کے علاوہ چمڑا جلانے، دھواں چھوڑتی فیکٹریاں اور کارخانوں کو بند کرکے ہم سموگ پرقابو پاسکتے ہیں ان خیالات کااظہار ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی صدر انجمن فلاح مریضان نے گورنمنٹ فاضلکا اسلامیہ ہائی سکول میں منعقد سموگ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سموگ ایک فضائی آلودگی ہے جو دیکھنے کی حد نگاہ کو کم کردیتی ہے۔ دھواں ملی آلودہ دھند ٹریفک حادثات کا باعث بنتی ہے۔ سموگ سانس کی نالیوں میں سوزش کا باعث اور جلد کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ دل کی بیماریوں کا بھی باعث ہے پاکستان کی %80 لوگ آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گندے مٹیریل سے چلنے والے بھٹہ خشت کو نئی ماحول دوست ٹیکنالوجی جس میں اینٹوں کے بھٹوں میں تبدیلی کرکے انہیں زگ زیگ کی شکل میں تبدیل کیا جارہا ہے، جس سے اس کا دھواں آلودگی سے پاک ہوگا۔ سموگ سے بچاؤ کے لئے زیادہ سے زیادہ رقبے پر درخت لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ سماجی تیظیمیں اور متعلقہ ادارے بھٹہ مالکان، بلدیہ ملازمین اور عوام الناس کے لئے سیمینارز اور ریلیاں منعقد کریں تاکہ کمیونٹی کو آویرنس دی جاسکے۔ بچوں اور بزرگوں پر سموگ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بلاوجہ سفر سے گریز کریں گاڑی کی رفتار مناسب رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔ آنکھوں کی تکلیف میں ٹھنڈ ے پانی سے چھینٹے ماریں۔ چشمہ کے ساتھ ماسک کا استعمال سانس کی بیماریوں سے محفوظ رکھے گا۔ سیمینار میں پرنسپل سکول ہذا عبدالمجید خان بلوچ، حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن اور وقار فرید جگنو صدر پریس کلب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سیمینار میں سکول ہذا اساتذہ کرام اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی، سیمینار کے اختتام پر ریلی کا اہتمام بھی کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں