219

پاکپتن: آبادی میں بے پناہ اضافہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے، آبادی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے حوالہ سے منعقدہ سمینار سے مقررین کا خطاب.

پاکپتن (ولی محمد سے) آبادی میں بے پناہ اضافہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے، پاکستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے آبادی کا اژدھا تمام وسائل کو نگل رہا ہے، عوام کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ان خیالات کا اظہارسیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن حکیم لطف اللہ نے آبادی کا بڑھتا ہوا سیلاب کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوکیا.

سیمینار سے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر محمد لطیف بھٹی صدر اتحاد بین المسلمین مفتی محمد زاہد اسدی، راؤ عظمت اللہ خان صدر پریس کلب پاکپتن وقار فرید جگنو، پرنسپل فریدیہ کالج ڈاکٹر پروفیسر مسعودالشریف، حکیم عبدالمجید شامی صدر پاکستان طبّی کانفرنس، محمد جہانگیر احمد وٹو Fm107، صدر انجمن فلاح مریضان ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی، صدر ہومیوپیتھک ایسوسی ایشن میاں غلام مرتضیٰ، صدر پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن غلام حیدر، اویس عابد ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا. پاپولیشن ویلفیئر آفیسر محمد لطیف بھٹی نے کہا آبادی کنٹرول ہوگی تو صحت تعلیم خوراک کے مسائل حل ہونگے ملکی آبادی 1976 ساڑھے چھ کروڑ تھی اب بڑھ کر 22 کروڑہے افغان مہاجرین اس سے الگ ہیں قیام پاکستان سے اب تک آبادی میں سات گنا اضافہ ہوچکا پاکستان دنیا کا آبادی کے تناسب سے چھٹا بڑا ملک بن چکا ہے، 2050 میں 45 کروڑ ہو جائیگی 60 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے 2 ڈالر یومیہ ہماری انکم ہے 53 فیصد آبادی خواتین کی جو بیکار ہے حکومت کو چاہئے کہ انکے لئے کام کے وسائل پیدا کرے دنیا کی آبادی کو ایک عرب تک پہنچنے کیلئے 18سو سال لگ گئے 120سال کے عرصہ میں 1920 میں آبادی 2عرب کی ہو گئی جبکہ صرف 50سال یعنی 1970میں آبادی 4ارب اور اب آبادی 8ارب ہوجائے گی اڑھائی لاکھ افراد کا دنیا میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے جرمنی کی کل آبادی 250لاکھ ہے ہمیں آبادی کے تناسب سے وسائل میں اضافہ کرنا تھا جو ہو نہیں رہا دنیا بھر کے تمام مسائل آبادی کے اضافہ سے جڑے ہیں خوراک صحت رہائش تعلیم دیگر بنیادی ضروریات جو انسان کیلئے ناپید ہوتی جارہی ہے بنگلہ دیش میں آبادی کا مسئلہ ہوا تو وہاں کی حکومت نے سماجی تنظیموں علماء کرام دیگر تمام سٹیک ہولڈرز سے ملکر اسکو قابو کیا اور اب آئندہ 20سال کیلئے بنگلہ دیش کو نئے ہسپتال نئے سکول کی ضرورت نہ ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں