192

ساہیوال: “باولا پن” ایک مہلک بیماری ہے جو کہ ریبیز سے متاثرہ کتے کے کاٹنے سے انسان میں منتقل ہوتی ہے، ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر زاہد کمال

ساہیوال (خصوصی رپورٹ) پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر زاہد کمال نے کہا ہے کہ “باولا پن” ایک مہلک بیماری ہے جو کہ ریبیز سے متاثرہ کتے کے کاٹنے سے انسان میں منتقل ہوتی ہے، ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 55 ہزار لوگ اس موذی بیماری کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن جاتے ہیں.

انہوں نے یہ بات Rabies کے موضوع پر منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا.انہون نے کہا کہ عوامی آگاہی اور شعور کی بیداری ہی اس بیماری سے بچاؤ اور حفاظت کا واحد حل ہے سیمینار میں ساہیوال میڈیکل کالج کے فکیلٹی ممبران ڈاکٹر نثار احمد، ڈاکٹر زاہد ستار، ڈاکٹر آمنہ عروج، ڈاکٹر وقاص قریشی، ڈاکٹر اختر محبوب، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ انوش ڈینیئل، محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈاکٹر اسامہ علاوہ ساہیوال میڈیکل کالج کے طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی. ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ بچے اپنے پالتو جانوروں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں اوراگر آوارہ کتا کاٹ لے تو ٹوٹکے استعمال ہرگز نہ کریں. زخم کو کھلا چھوڑیں اور صابن کے ساتھ بہتے پانی سے 10-15 منٹ زخم کو اچھی طرح دھوئیں لیکن پٹی ہرگز نہ باندھیں. شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے ڈاکٹر حسام نے کہا کہ یاد رکھیں! حفاظتی ٹیکہ بروقت لگوانا ہی بچاؤ کا واحد حل رکھیں کہ اگر اس انفیکشن کے اثرات جسم میں نمایاں ہو جائیں تو یہ مرض لاعلاج ہو جاتا ہے اور موت یقینی ہے.اس لئے صرف ویکسین ہی بچاؤ کا واحد حل ہے. اسسٹنٹ پروفیسر پیتھالوجی ڈاکٹر آمنہ عروج نے ریبیز وائرس کی انسانی جسم میں منتقلی اور بچاؤ پر تفصیلی گفتگو کی. اس موقع پر ڈاکٹر وقاص قریشی کا کہنا تھا کہ کتے کے کاٹنے کے بعد اس کے لعاب میں موجود ریبیز وائرس انسان کے لئے جان لیوا ہے۔ پرنسپل ساہیوال میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر زاہد کمال نے کہا کہ ساہیوال میڈیکل کالج نے عوامی آگاہی کے پروگرام کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے اور جلد ہی ساہیوال کے مختلف سکول وکالجز میں ریبیز سے آگاہی کیلئے جامع آگاہی پروگرام ترتیب دیا جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں