276

سراٸیکی وسیب کے شاعر ….(تحسین بخاری)

سراٸیکی وسیب کے شاعر

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

چند روز قبل سوشل میڈیا پر میری نظروں سے ایک پوسٹ گزری اس دن سے میں زہنی کرب میں مبتلا ہوں، میں جب رات کو سوتا ہوں تو یہ پوسٹ مجھے سونے نہیں دیتی، کروٹیں لینے پر مجبور کرتی ہے، میں نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش بھی کی مگر نہیں کر پایا، کیونکہ اس کا تعلق میرے قلم قبیلے سے ہے، قلم قبیلے سے وابستہ لوگ، فقیر انہ مزاج اور درویشانہ صفت کے حامل لوگ ہو ا کرتے ہیں، ان کے اندر اپنی دھرتی کیلیے اپنی آئندہ نسلوں کیلیے کچھ کرگزرنے کا جذبہ ہی نہیں عشق ہو تا ہے. انھیں اپنی اور اپنے بچوں سے زیادہ اپنی دھرتی کی فکر ہوتی ہے، یہ اپنی تمام زندگی سادہ سے گھر اور اس میں پڑی ایک پرانی چارپائی پر گزار دیتے ہیں، اپنے صحن میں موجود ٹالھی پر کوا بیٹھے تو یہ اسے محبوب کے نام پیار کا سندیسہ بھجوانے کی بجائے یہی پیغام دیکر رخصت کرتے ہیں کہ:

آکھ تحسین ویلھے دے حاکم اے ڈیکھ ساڈی کیویں جھٹ گزردی پئی اے
پھینگ پانڑی دی ٹوبھییں دیوچ نی رہی میڈی روہی سبھو تسی مردی پی اے

یہ پوسٹ سرائکی وسیب کے نامور شاعر اقبال سوکڑی کے حوالے سے ہے او ر یہ پوسٹ جاری کرنے والے سرائیکی ایکشن کمیٹی کے چیرمین راشد عزیز بھٹہ صاحب ہیں۔ پوسٹ میں سرائیکی زبان کے انتہائی قد آور مہان شاعر سائیں اقبال سوکڑی کو چا پلو س، غدار درباری اور خوشامدی جیسے بے ہودہ القابات سے نوازا، اقبال سوکڑی ایک مفلوک الحال شاعر ہے اور کئی دہائیوں سے دھرتی ماں کے حقوق کی جنگ لڑ نے میں فرنٹ مین کا کردا ر نبھاتا چلا آرہا ہے، اس کا جرم یہ ہے کہ 26نومبر کو ہونے والے ایک سرکاری مشاعرے میں اس نے شرکت کر ڈالی جس پر راشد عزیز بھٹہ کو شدید اختلاف تھا او ر اس نے پوسٹ میں اقبال سوکڑی کو خوب برا بھلا کہا، اقبال سوکڑی نے ہمیشہ وسیب کی محرومیوں پہ شاعری کی، ظالم جاگیر دار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، آج ایک ایسا شخص جس کو سرائیکی تحریک میں آئے آٹھ دن نہیں ہوئے وہ اٹھ کر دہائیوں سے محاظ سنبھال کر حقوق کی جنگ لڑنے والے ایک ادبی کمانڈر کو ایسے القابات سے نوازے تو دل تودکھے گا اور تکلیف تو ہو گی، سرائیکی تحریک اگر آج اپنے پورے جوبن پر ہے تو اس میں اہم کردار اس دھرتی کے شعرا کا ہے، بھٹہ صاحب ایک دور تھا جب سرائیکی کا لفظ استعمال کرنا گناہ تصور کیا جاتا تھا خود اپنے وسیب کے لوگ سرائیکی کاز کی بات سننے کو تیار نہ ہوتے تھے، تب یہ ہوتا تھا کہ مشاعرے کے نام پر لوگوں اکٹھا کیا جاتا تھا شعرا اپنی انقلابی شاعری کے زریعے لوگوں کے دل و دماغ میں شعور کی شمع روشن کرنے کی کوشش کرتے، اپنا پیغا م پہنچاتے تو لوگ سنتے ورنہ مشاعرے میں اگر کسی سرائیکی لیڈر کو تقریر کیلیے بلایا جاتا تو لوگ شور مچانا شروع کر دیتے تھے پھر آہستہ آہستہ شعور جا گا اورآج تحریک اپنے پورے عروج پر ھے۔

آج جو پلیٹ فارم آپ کو بآسانی میسر ہے اس کے پیچھے قلم کار طبقے کا خون پسینہ شامل ہے۔ میں خود ایک قلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ادنیٰ سا شاعر ہوں، میں جانتا ہوں کہ ایک شاعر کن حالات سے گزر کر ادب تخلیق کرتا ہے، وہ شعرا جو اپنے محبوب کے رنگ و رخسار سے نظریں چرا کر اپنی انگلیوں کو محبوب کی زلفوں سے ہٹا کر قلم کو بطور ہتھیا ر سنبھال لیں محبوب کی محبت کو گروی رکھ کر مٹی کا قرض چکانے میں مصروف ہو جائیں اور اپنے قلم میں سیاہی کا بارود ڈال کر حقوق کی جنگ لڑنے کیلیے محاذ پر سینہ تان کر کھڑے ہوجائیں، جنھیں نہ اپنی نہ اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر، جن کی آنکھوں میں نہ محلات اور نہ سونے کیلیے ریشمی بچھونوں کی خواہش، نہ بینک بیلنس نہ لگژری گاڑیوں کی چنتا، جن کے اثاثے چیک کیے جائیں تو شاید کفن کے پیسے بھی نہ نکلیں، پھر ان کو سلیوٹ کرنے کی بجائے ایسے القابات سے نوازا جائے گا تو جگر چھلنی تو ہو گا، حضور اس دھرتی کا شاعر اس سلوک کا حقدار ہر گز نہیں ہے، وسیب کے کسی بھی کونے میں کوئی مشاعرہ ہو تو شاعر بیچارہ آج کے اس جدید دور میں بھی ویگنوں، بسوں کے پیچھے لٹک کرکسی فرض شناس سپاہی کی طرح اس پروگرام کو جنگی ایمر جنسی سمجھ کر وہاں ہر حال میں پنہچتا ہے، سردی ہو یا گرمی اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا، کبھی اس کو آنے جانے کا کرایہ مل جاتا ہے توبسم اللہ، کبھی نہ ملے تو اپنی جیب سے سہی، نہ ان کے پاس کوئی پراڈو ہے نہ یہ دو دو تین تین بنگلوں کے مالک ہیں، ان بیچاروں کو تو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر ہوتی ہے۔

ٹھیک ہے اقبال سوکڑی کو اس مشاعرے میں نہیں جانا چاہیے تھا مگر وہ ہمارا پابند بھی نہیں، سرائیکی دھرتی کے حقوق کی جنگ لڑنے کا ڈھونگ رچا کر کتنے مداریوں کے چہرے سے وقت نے نقاب اتارے یہ وسیب کا ہر زی شعور جانتا ہے تاہم میرا آج کا موضوع یہ ہرگز نہیں، ساری زندگی جرات مندی سے حقوق کی جنگ لڑنے والا ایک شاعر وہاں چلا بھی گیا تو کون سی قیا مت آ گئی، سرائیکی لیڈر پہ تو آج تک کسی شاعر نے اعتراض نہیں کیا کہ سرکاری پرگراموں میں کیوں شامل ہوتے ہیں، آپ انڈیا میں ہونیوالی سرائیکی کانفرنس میں کرسی پر کیوں لڑ پڑتے ہیں، آپ اچانک پینترا بدل کر کسی دوسری جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیوں کر دیتے ہیں، آپ خود ہی کسی شخصیت کو وسیب دشمن قرار دیکر اسے اپنے ڈیرے پر کیوں بلاتے ہیں، آپ دن کو اس کے خلاف تقریر کر کے رات کو اس کی زاتی تقریب میں کیوں جا پنہچتے ہیں، ہم نے آج تک اعتراض کیا نہ کریں گے اور بھٹہ صاحب نے اعلان کیا ہے کہ جو شاعراس مشاعرے میں نہیں گئے میں انھیں ایوارڈ دوں گا، تو حضور ایک تو عرض ہے کہ آپ شعرا کو تقسیم ہر گز نہ کریں کیونکہ اس وقت سرائیکی کاز کی تحریک تاریخ کے اہم ترین موڑ میں داخل ہو چکی ہے اور دوسرا یہ کہ شاکر شجاع آبادی، عزیز شاہد، عاشق بزدار، جہانگیر مخلص، امان اللہ ارشد، محبوب تابش ان نامورشعرا میں سے ہیں جو اس وسیب کیلیے بذات خود ایوارڈ ہیں ان کی شاعری کا ہر لفظ ایوارڈ ہے انھیں پورا وسیب جانتا ہے، انھیں ایوارڈ نہ بھی دیں تو یہ پورے قد کاٹھ سے اپنے وسیب میں نمایاں پہچان سے کھڑے ہیں.

ایوارڈ دینا ہے تو نواں کو ٹ کے عبد الستار زائر کو دیں جو بازار کے مین چوک میں بیٹھ کر سارا دن لوگوں کی جوتیاں مرمت کر کے ادب تخلیق کر رہا ہے، ایوارڈ دینا ہے تو روجھان کے اسلم ساغر کو دیں جو آٹھ ہزار روپے ماہانہ پر خودکو گروی رکھ کر وسیب کا درد لکھ رہا ہے، ایوارڈ دینا ہے تو سہجے کے سعید ثروت کو دیں، ”مزاور“ کے خالق کے طاہر حمائتی کو دیں، محمد پور کے پرواز جھلن اور ظفر چانڈیہ کو دیں، بستر مرگ پر پڑے سردار گڑھ کے قاصر جمالی کو دیں جو ماں دھرتی کے حقوق کی جنگ لڑتے لڑتے آج زندگی موت کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے، ایوارڈ دینا ہے تو مظفر گڑھ کے بلا ل بزمی کو دیں، رحیم یار خان کے یونس ناصر کو دیں، ریاض بیدار، بلال جوہر، آفاق بلوچ کو دیں، ججہ عباسیاں کے رستم بلوچ اورغلام مرتضی انڑ کھٹ کو دیں جو بھوکے پیاسے رہ کر بے سرو سامانی کے عالم میں پورے جنون سے ادبی محاز پر استحصالی نظام کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ اس جنگ کے گمنام سپاہی ہیں اور اگر ایوارڈ نہیں دے سکتے تو خدارا ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہر گز نہ کریں حضور سرائیکی حقوق کیلیے لڑی جانیوالی جنگ کا اصل کمانڈر اس دھرتی کا شاعر ہی تو ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں