139

قومی زبان …. (حاجی محمد آصف رفیق آرائیں، ایڈوکیٹ)

تحریر✍: حاجی محمد آصف رفیق آرائیں، ایڈووکیٹ.

انگلش میں کمزور ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ذہین نہیں ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ انگلش یا کوئی بھی زبان اس وقت آئے گی۔ جب آپ انگلش بولنے والوں کے درمیان ہمیشہ رہیں اور چند مہینوں اور پھر چند سالوں بعد آپ انگلش پر عبور حاصل کر سکتے ہیں۔ کتابیں پڑھنے سے بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں جو انگلش سیکھ پاتے ہیں۔ ہمارے ملک کا طبقہ اشرفیہ اپنے بچوں کو شروع سے مہنگے انگلش سکولوں میں بھیجتا ہے۔ یا فارن ممالک میں بھیج دیتا ہے اور قابلیت نہیں بلکہ زبان کے بل بوتے پر اعلی عہدوں پر نسل در نسل ان کا خاندان قابض ہوتا رہتا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ طبقہ اشرافیہ سمجھتا ہے کہ اعلی ترین لوگوں اور بادشاہوں کی زبان انگلش ہونی چاہئیے اورغریب عوام کی اردو ہو. اردو زبان یا مادری زبان میں بات کرنا ایک طبقہ اپنی توہین بھی سمجھتا ہے۔ ایک طبقہ ایسا بھی ہے کہ جب تک وہ اپنی گفتگو میں کچھ الفاظ یا جملے انگلش کے شامل نہ کرلے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس کی دھاک دوسروں پر نہیں بیٹھی ہے۔ ایک طبقہ اس کو قابلیت کی نشانی گردانتا ہے۔ ایک طبقہ اس کو دوسروں پر دباؤ ڈالنے، ڈرانے اور دوسروں پر اثرانداز ہونے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

طبقہ اشرفیہ اور بیوروکریسی کا طبقہ نہیں چاہتا کہ قومی زبان والے لوگ اقتدار میں آ جائیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس ملک کی قومی زبان اردو ہے اور اس ملک کے طالب علموں کو اعلی کلاسز میں اپنی قومی زبان میں تعلیم حاصل کرنے اور امتحان دینے کی اجازت تک نہیں ہے۔ برطانیہ، امریکہ کے ہر پڑھے لکھے۔ ہر ان پڑھ کو ہر پاگل کو انگریزی پر عبور حاصل ہے۔ اس کی وجہ قابلیت نہیں، بلکہ انگلش کا ان کی مادری اور قومی زبان ہونا ہے۔ ایک بچے کو پیدائش کے فورا “بعد آپ برطانیہ بھیج دیں تو تین سال کی عمر کو پہنچنے تک وہ بچہ فر فر انگریزی میں باتیں کرے گا۔ اسی طرح امریکہ کے ایک بچے کو پیدائش کے فورا “بعد پاکستان کے پنجاب یا سندھ میں پرورش کے لیے پنجابی یا سندھی بولنے والے کسی خاندان کے سپرد کر دیا جائے تو وہ بچہ کچھ عرصہ بعد انگریزی کی بجائے پنجابی یا سندھی فر فر بولے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ زبان اپنے خیالات کا اظہار، اپنے جزیات کا اظہار۔ اپنا پیغام اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے نہ کہ علم ہے۔ بلکہ زبان علم سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے اور بچہ یا کوئی بھی فرد کسی بھی چیز کا علم اس زبان میں آسانی سے سیکھ جاتا ہے جس زبان پر اس کو بولنے میں اور سمجھنے میں مہارت ہو۔

بچہ ماحول سے سیکھتا ہے کتاب سے نہیں۔ کسی زبان کو کتاب سے سیکھنے کی صلاحیت لوگوں کے اندر آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔۔۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ زبان کا تعلق قابلیت سے نہیں بلکہ ماحول سے ہے۔ سو کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی تعلیمی زبان، کتابی زبان، دفتری زبان اور عدالتی زبان وہ زبان ہونی چاہیئے۔ جو اس ملک کی قومی زبان ہو، مادری اور قومی زبان میں حاصل کی گئی تعلیم آسان اور تعلم پختہ ہوتا ہے۔ سو قومی زبان کو ہر شعبۂ زندگی میں لاگو کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اب 2020 سے مقابلے کے امتحانات سی ایس ایس جیسے امتحانات کا آغاز اردو میں ہو رہا ہے۔ قانون کی کتابوں کا ترجمہ بھی وسیع پیمانے پر اردو میں شروع کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔ سپریم کورٹ کے اندر ہی فیصلوں کے اردو ترجمہ کے لیے اردو ترجمہ سنٹر کے نام سے ایک شعبہ قائم کر دیا گیا ہے۔۔۔۔ اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لیے بہت کام ہو رہا ہے۔ مگر بہت سے اندرونی اور بیرونی عناصر اس کی ترقی و ترویج کے لیے سازشیں بھی کر رہے ہیں۔ ان کو خطرات ہیں کہ غریب طبقہ یا متوسط طبقہ کے لوگ علم وہنر حاصل کرکے کہیں اقتدار کے ایوانوں میں نہ آ جائیں۔

چین، جاپان، فرانس اور بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں انگلش کی بجائے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ان کی قومی زبان رائج ہے۔ میری رائے اور ماہرین لسانیات کے مطابق انگریزی کو بطور اختیاری زبان پڑھایا جائے، زبردستی بطور لازمی مضمون مسلط کرنے سے لاکھوں پاکستانی بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔ جو محض انگلش پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو خیرآباد کہہ چکے ہیں۔ پاکستان کی تعلیم، پاکستان کی عدالتی زبان اور پاکستان کی دفتری زبان اردو ہونی چاہئیے۔اور ہمیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے اردو بولنے میں اور اردو پڑھنے میں فخر محسوس کرنا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں