238

عیدمیلادالنبی ﷺ اور قرآنِ عظیم ۔۔۔ (پیر حافظ محمد فیضان چشتی)

تحریر: پیر حافظ محمد فیضان چشتی
نظرثانی: مفتی محمد آصف یوسفی صاحب

آپ ﷺ کا ذکر ولادت باسعادت کرنا اور ولادت باسعادت کے وقت جو عظیم واقعات رونما ہوئے ان کا ذکر کرنا اور د یگر معجزات وکمالات بیان کرنا آپ ﷺ کی صحبت واطاعت کی تعلیم کو عام کرنا یہ میلاد شریف ہے۔

کیا میلاد منانا فرض ہے؟
اہلِ سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ عید میلادالنبیﷺ پر خوشی منانا اور محبت کا اظہارر کرنا جائز اور مستجب ہے اس کے کرنے والا اجر پاتا ہے اور ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ اس پر خوشی منانا واجب یا فرض ہے۔ یہ تو کریم آقا ﷺ سے جس کو جتنی محبت ہو گی وہ اتنا ہی خوش ہو گا اور آپ ﷺ کی آمد کی خوشی میں گھروں، بازاروں اور گلیوں کو سجائے گا اور جس کے دل میں حضور ﷺ کا عشق نہیں، آپ ﷺ سے محبت نہیں، دل میں آپ ﷺ کے لیے پیار نہیں تو وہ بھی یہی کہے گا کہ معاذاللہ یہ شرک یا بدعت ہے اب آئیں قرآن مجید سے دیکھتے ہیں کہ میلاد منانا جائز ہے یا معاذ اللہ شرک وبدعت ہے۔

نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عید یں ربیع اوّل
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

دلیل نمبر:-1
پارہ نمبر گیارہ سورۃ یونس: آیت نمبر: 58 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن ودولت سے بہتر ہے۔“
وضاحت:اس آیت مبارکہ میں خوشی منانے کی وجہ فضل ورحمت ہے کہ جب فضل ورحمت ملے تو خوشی کیا کرو۔
تفسیر درمنشورمیں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فضل سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں اور رحمت سے بھی مرادکریم آقاﷺ کی ذاتِ بابرکات ہے۔ ہم میلاد اس لیے مناتے ہیں کہ قرآنِ مجید ہمیں حکم دے رہا ہے کہ جب اللہ کا فضل ورحمت ملے تو خوشی منایا کرو اور آگے آنے والی دونوں آیات بینات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات ہمارے لیے رحمت بھی ہے اور فضل بھی ہے لہٰذا فضل اوررحمت ملنے پر افسوس نہیں بلکہ خوشی کرنی چاہیے:
فضل رب العلی اور کیا چاہیے
مل گئے مصطفیؐ اور کیا چاہیے

دلیل نمبر:-2
پارہ نمبر 17 سورۃ الانبیاء آیت نمبر 107 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
ترجمہ: اور ہم نے آپؐ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کرر
وضاحت: اس آیت مبارکہ میں حضور نبی کریمﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت فرمایا گیا تو مذکورہ آیت ملے تو خوشی کر واس آیت مبارکہ میں ہے کہ رحمت مبارکہ میں واضح طور پر ارشاد ہوا کہ حضور نبی کریم ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ تو جن کے صدقے، جن کی آمد کا صدقہ سارے جہانوں پر رحمت ہوئی اس محبوب ﷺ کا جتنا ذکر کیا جائے اُن کی آمد پر گھروں کو سجا یا جائے، مسجدوں کو سجایا جائے، بازاروں کو سجایا جائے اتنا ہی کم ہے۔
ہر بے اصول کے لیے فطری اصول زندہ
منا کے جشن میلادِ مصطفیؐ
ارے بتا دے زمانے کو
ہم وہی ہیں جن کا رسولؐ زندہ

دلیل نمبر:-3
پارہ نمبر ۲۲ سورۃ الاحزاب،آیت نمبر ۷۲ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: ”اور ایمان والوں کو خوش خبری دو کہ اُن کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے۔“
وضاحت:اس آیت مبارکہ سے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا کہ ”اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبیؐ) بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر وناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈرسناتا“ اور اللہ کی طرف سے اس کے حکم سے بلاتا اورچمکادینے والاآفتاب (بناکر بھیجا)
پھر فرمایا کہ مومنوں کو خوشخبری سنادو کہ اللہ عزوجل کا اپنے پیارے حبیب ﷺ کا بھیجنا یہ فضل ہے اور ساتھ ہی کبیراً بیان فرمائی کہ یہ چھوٹا فضل نہیں ہے بل کہ فضلاً کبیرا سب فضلوں سے بڑا فضل ہے تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ آپ ﷺ کی ذات بابرکات ہمارے لیے فضل بھی ہے اور رحمت بھی۔

دلیل نمبر:-4
پارہ نمبر -4 سورۃ آلِ عمران،آیت نمبر ۴۶۱ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
ترجمہ: تحقیق اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب انہی میں سے ان میں ایک رسول ﷺ بھیجا۔
وضاحت: تفسیر خزائن العرقان میں ہے۔ کہ رسول سے مراد حضور ﷺ کی ذات بابرکات ہے۔(صفحہ ۸۲۱)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنکھیں، سر، پاؤں، ٹانگیں، ہاتھ، اولاد، ماں، باپ، بہن، بھائی، دولت، جائیداد زمین سب کچھ دیا مگر یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تمہیں ہاتھ دیئے تم پر احسان کیا ہے، تمہیں آنکھیں دی تم پر احسان کیا ہے، مگر جب باری آئی والضحیٰ کے نورانی چہرے والے کی جب باری آئی، آمنہ کے لالؐ کی جب باری آئی، اُمت کے غم خوار آقاؐ کی، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے مومنو! میں نے تم پر احسان کیا ہے تو جب کوئی احسان کرتا ہے تو ا س کا شکر یہ ادا کرتے ہیں تو ہم میلاد مناکر حضور ﷺ کی آمد پر خوشی منا کر اپنے گھر وں کو سجا کر، اپنے محلوں کو سجا کر حضور ﷺ کی آمدکے تذکرے کرکے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتے ہیں کہ اے مولا تیرا شکر ہے کہ تو نے اپنا پیارا محبوب ﷺ ہمیں عطافرمایا۔

دلیل نمبر:-5
پارہ نمبر۰۳ سورۃ الضحیٰ،آیت نمبر ۱۱، میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: ”اور اپنے رب کی نعمت کا چرچا کرو۔“
وضاحت:اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا جب تمہیں میری نعمت ملے تو چرچا کیا کرو اور حضورﷺ ہمارے لیے سب نعمتوں سے بڑی نعمت ہیں کہ ساری نعمتیں ان ہی کے صدقے سے ملی ہیں اگر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو نا بناتا تو کائنات کی کوئی بھی چیز معرض وجود میں نہ آتی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ پیدا نہ فرماتا یہ دنیا کی سب نعمتیں آپ ﷺ ہی کے صدقے ملی ہیں اگر آج ہمیں دنیا میں کوئی نعمت مل جائے تو خدا کا شکر ادا کرتے ہیں تو خدا کا شکر ادا کرتے ہیں تو ہم بھی آقا ﷺ کی محفل ذکر سجا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اے خالق کائنات! تیرا شکر ہے کہ تونے اپنا پیارا محبوب ﷺ ہمیں عطا فرماورنہ نہ تو پیارے انبیاء کرام علیھم السلام دعائیں کرتے رہے کہ مولا تو ہمیں اس آخری عظیم نبی ﷺ کا اُمتی بنادے اور ہمارے مانگے بغیر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنیے پیارے محبوب، عظیم رسول عظیم ﷺ کا اُمتی بنایا۔ قرآن مجید میں متعدد آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی نعمتوں کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔
اے دھرتی نہ ہندی نہ آسماں ہندا
جے پیدا نہ عرشاں دا مہمان بندا
نہ شمس وقمر، کہکشاں نہ ستارے
نہ جنت نہ جنت دا سامان بندا

دلیل نمبر:-6
پارہ نمبر ۲۲ سورۃ فاطر۔آیت نمبر:۳ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔
ترجمہ:”اے لوگو! اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اُس نے تم پر کی ہے۔“
وضاحت: اس آیت مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نعمت ملے تو یاد کرو اس کا تذکرہ کرو تو ہم قرآن مجید پر عمل کرتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی مناتے ہیں۔ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کا تذکرہ کرتے ہیں اور اللہ عزوجل کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں۔

دلیل نمبر:-7
پارہ نمبر ۸۲ سورۃ الصّف۔ آیت نمبر۶ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: ”اور یادکرو جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ (سبحانہ تعالیٰ) کا رسول ہوں اور پہلی کتاب ’تورات‘ کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس (عظیم) رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام احمد ہے۔“
وضاحت: اس آیت مبارکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور ﷺ کی ولادت باسعادت سے تقریباً چھ سو سال پہلے اپنی قوم کو اکٹھا کرکے آپ ﷺ کی آمد کا ذکر سنایا اور آپ ﷺ کی شان وعظمت کا چرچا کیا اور یہی میلاد ہے۔ میلاد منانا اور حضور نبی کریم ﷺ کی آمد کے تذکرے کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سنت ہے اور آج بھی عاشقانِ رسول ﷺ بڑے جذبے کے ساتھ حضور نبی کریم ﷺ کی آمد پر محفلیں سجاتے ہیں اور آپ کی آمد کے تذکرے کرتے ہیں اور یاد رکھیں جس محفل میں حضور نبی کریم ﷺ کی آمد کا ذکر ہو وہ میلاد کی محفل ہوتی ہے جیسے آپ ﷺ کی آمد کی خبر سنا کر اور قوم کو اکٹھا کرکے سیدناعیسیٰ علیہ السلام نے آپ ﷺ کا میلاد منایا ہے۔

دلیل نمبر:-8
پارہ نمبر۳، سورۃ آلِ عمران،آیت نمبر ۱۸ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے۔
ترجمہ:”اے رسول!ﷺ) یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے پختہ عہد لیا کہ میں تم کو کتاب اور حکمت دوں گا پھر تمہارے پاس وہ عظیم رسول ﷺ آجائیں جواس چیز کی تصدیق کرنے والے ہوں جو تمہارے پاس ہے تو تم ان پر ضرور بہ ضرور ایمان لانا اور ضرور بہ ضرور ن کی مددکرنا فرمایا کیا آپ نے اقرار کر لیا ہے اور میرے اس بھاری عہد کو قبول کرلیا ہے۔ انھوں نے کہا ہم نے اقرار کر لیا ہے۔ فرمایا ا س پر گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔“
وضاحت:ا س آیت مبارکہ میں کیسا شان والا میلاد بیان کیا گیا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ذکر فرمانے والا خدا ہے اور سننے والے ارواح الانبیاء علیھم السلام ہیں اور اسے میلاد کہتے ہیں کہ جس میں حضور نبی کریم ﷺ کی تعریف کی جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے پہلے تمام انبیاء علیھم السلام کی روحوں سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ میرا شان والا نبی ﷺ آئے گا تم نے اس کی مدد کرنی ہے اور اس پر ایمان بھی لانا ہے تو سب نبیوں کی روحوں نے اقرار کیا۔ یہ سب سے پہلا میلاد تھا اور آج عاشقا ن مصطفی ﷺ بھی اللہ تعالیٰ کی اس عظیم سنت کو ادا کرتے ہیں اور کریم آقا ﷺ کا میلاد بڑے خلوص اور جذبے سے مناتے ہیں۔ لہٰذا اس میں شرک وبدعت والی تو کوئی بات بچی ہی نہیں کہ اگر کوئی کہے کہ معاذاللہ ثم معاذاللہ یہ بدعت ہے۔ اسے سوچنا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے طریقے کو بدعت کہے اس کا ٹھکانہ جہنم کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
ذکر نور محمد کا کرتے رہو
اپنا دامن مُرادوں سے بھرتے رہو
مشعلیں لے کر سرکارؐ کے عشق کی
پل صراطِ جہاں سے گزرتے رہو
محفلیں میلاد کی سجاتے رہو
ذکر میلاد سنتے سناتے چلو
منکروں سے ہے ہمارا کیا واسطہ
اپنے محبوبؐ کی آمد کا تذکرہ کرتے چلو

دلیل نمبر: 9۔
پارہ نمبر:۰۳،سورۃ الضحیٰ۔آیت نمبر: ۱۔۲، میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ:”چاشت کی قسم اور رات کی قسم جب وہ چھا جائے“
وضاحت: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمۃ اپنی تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں میلاد النبی ﷺ کے دن کی قسم بیان کی گئی ہے۔ (تفسیر عزیزی،پارہ:۰۳)
امام محدث علامہ حلبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس جملے میں بھی آپ ﷺ کے میلاد کی رات کی قسم فرمائی ہے۔ (سیرت حلبیہ،جلد:۱،ص:۸۵)
سبحان اللہ حضور نبی کریم ْ پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس دن کی قسم اُٹھائے، آپ کی رات کی بھی قسم اُٹھائے یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے محبوب ﷺ سے اتنا پیار ہے کہ آپ ﷺ جس دن پیدا ہوئے اللہ تعالیٰ اس دن کی قسم اُٹھا رہا ہے تو اگر ایک صحیح العقیدہ مسلمان اپنے آقا ﷺ کی آمد پر خوشی منائے، آقاﷺ کی آمد کے تذکرے کرے تو اس میں حرج ہی کیا ہے:
ہر اک ذرا چمک اُٹھا ہے، مہتاب ضیاء بن کر
فضا کو جگمگایا آپ ﷺ نے شمس الضحیٰ بن کر
میرے سرکارؐ آئے درد عصیاں کی دوا بن کر
سکون قلب مضطر غم زوں کا آسرا بن کر
خلیل اللہ ہے کوئی، کلیم اللہ ہے کوئی
مگر آقاؐ میرے آپ محبوبِ خدا بن کر

دلیل نمبر:10
پارہ نمبر:۱۱، سورۃ التوبہ: آیت نمبر: ۸۲۱، میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: ”بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول ﷺ آگئے، تمہارا مشقت میں پڑنا ان پر بہت شاق (گراں) گزرتا ہے۔ وہ بہت حریص ہیں مومنوں پر بہت شفیق اور نہایت مہربان ہیں۔“
وضاحت: اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے مومنو! تمہارے پاس میرے ایسے محبوب عظیم رسولﷺ تشریف لائے کہ تمہارا مشقت میں پڑناان پر گراں گزرتا ہے ارے ہم پر مشقت پڑنا آقا ﷺ پر گراں گزرتا ہے اور ہم کیسے اُمتی ہیں کہ آقا ﷺ کی آمد کی خوشی بھی سوچ سمجھ کے کرتے ہیں۔ کہیں روپے خرچ نہ ہو جائیں، روپے تو دور کی بات معاذاللہ اسے شرک وبدعت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کئی مقامات پر ارشاد فرما رہا ہے میرارسول ﷺ تم میں آیا میرا پیارا محبوب ﷺ تم میں آیا۔

دلیل نمبر:11۔
پارہ نمبر:۶، سورۃ المائدۃ، آیت نمبر: ۵۱ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: ”تحقیق تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آئی۔“
وضاحت: قد صرف تحقیق ہے اور اس میں اب کوئی شک وشبہ نہ رہا بلکہ یقین ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسولﷺ آیا ہے۔ دیکھیں گزشتہ آیت میں بھی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرا محبوب تم میں آیا اس آیت میں بھی ارشاد فرمایا کہ میرا رسول ﷺ تم میں آیا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب ﷺ سے اتنا پیار ہے کہ باربار آپ ﷺ کا ذکر فرما رہا ہے۔ اے مومنو! تمہارے پاس میرا پیارا رسول آیا اور بندہ اس کا سب کوبتاتا ہے جس کے آنے کی خوشی ہو کہ ارے میرے گھر فلاں مہمان آیا، ارے میرے گھر فلاں عالم دین آیا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ بھی خوشی کے باعث بار بار قرآنِ مجید میں فرمارہا ہے کہ تمہارے پاس میرا رسول ﷺ آیا یعنی اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو بھیج کر خوشی کا اظہار فرمارہا ہے اور عشقانِ مصطفی، اُن ﷺ کے آنے پر خوشی کا اظہار کر رہیں۔
زمین ساری نوں فرش بنا چھڈیا، سائبان تمام آسمان بن گئے
تارے مرچاں سورج چن ٹیوباں، غوث، قطب سارے نعت خواں بن گئے
ایک لاکھ تے کئی ہزار مرسل خطبہ دین، کئی شریں لسان بن گئے
منتظم ملائکہ عرش والے سامین کرام انسان بن گئے
نبیاں خود جبریل نقیب آ گئے، ناصر ہر پاسے جلوہ طور دا اے
جد میں پوچھیا رہا ایہہ گل کیہ اے، اوہنے فرمایا میلاد حضورؐ دا اے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں