481

“ہم دسمبر میں مسکرا نہیں سکتے” …(رضا اختر) نشر مکرر

تحریر: رضا اختر۔

اس سال 16 دسمبر کو چھٹی آرہی ہے لیکن مجھے یاد ہے پچھلے سال ایسا نہیں تھا اور میرے ایک دوست بڑے ڈھیلے منہ سے آفس جا رہے تھے۔
میں نے سلام احوال کے بعد چہرہ شناسی کا علم آزماتے ہوئے پوچھا کہ سورج تو سر پر آن پہنچا ہے آپ کہیں آفس جانے کے ارادے میں کمزور تو نہیں پڑ رہے؟
جوابًا انہوں نے کہا کہ ‘یار بس پتا نہیں کیوں لیکن آج واقعتًا آفس جانے کو دل نہیں کر رہا، یہ بالکل ایسا ہی ایک دن ہے جب طبیعت خود سوال کرے کہ آج آفس ہی کیوں جایا جائے؟
میں نے کہا ‘آج ویسے بھی دسمبر کی سولہ تاریخ ہے شاید اس 16 کے ہندسے کا بوجھ آج کے دسمبر میں بھی شامل ہو اور یہ بوجھ ہی طبیعت میں بے زاری کا باعث بن رہا ہو۔’
انہوں نے سر ہلاتے ہوئے یقینًا کا لفظ استعمال کیا اور کہا کہ ‘ کچھ تاریخیں واقعتًا دنوں پر اثرانداز ہوتی ہیں اور 16 دسمبر بھی شاید ایک ایسی ہی تاریخ ہے۔’ وہ چل دیے اور میں سوچنے لگا۔
71ء کا بوجھ شاید مجھے زیادہ محسوس نہیں ہوتا، ہاں ایک غم ضرور ہے کہ پاکستان دولخت ہو گیا تھا لیکن 14ء کے زخم ہر سال آرمی سکول کے سانحے سے جڑی یادوں کو کریدتے ہیں اور یوں کریدتے ہیں کہ دن سوگ میں بدل جاتا ہے۔
ان ننھی جانیوں کی قبریں ہر دسمبر میں تازہ پھولوں سے ڈھک دی جاتی ہیں اور مائیں ان قبروں پر بالکل ایسے ہی غمناک اور نوحہ کناں ہوتی ہیں جیسے یہ زخم بالکل تازہ ہوں۔
بطور پاکستانی میں سوچتا ہوں۔ ہم ان دکھوں کا مداوا نہیں کر سکے۔ نہ پاکستان کو دولخت کرنے والوں کے گریبانوں کو پکڑ سکے اور نہ ہی سروں میں گولیاں مارنے والوں کی ٹوٹی کمر کا ایکسرے دکھا سکے۔ ہم ان ماؤں کو بھی سوائے جھوٹے دلاسوں کے اور کچھ نہیں دے سکے۔ ہمارے بچے آج بھی غیر محفوظ ہیں۔
مجھے یاد ہے سال 2017ء میں ٹھیک اسی 16 دسمبر سے اگلے دن کوئٹہ کے ایک چرچ میں بھی دہشت گردوں کے حملے میں اخباری اطلاعات کے مطابق 10 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریبًا 30 افراد زخمی ہو گئے تھے اور ان زخمی و جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب چرچ میں مسیحی سکول کے بچوں کی کرسمس کے حوالے سے ایک تقریب جاری تھی۔
حملہ آوروں نے بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنانا چاہا لیکن سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مہربانی کہ ان کے بروقت تعاون سے زیادہ جانوں کا ضیاع نہیں ہوا اور تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
یہ 17 دسمبر کا دن تھا۔
کلیوں کو مسئلنے کا مطلب جانتے ہیں آپ؟ یہ پورے باغیچے کو اجاڑ بنا دینے سے زیادہ ظالم عمل ہوتا ہے۔
دنیا کے دیگر حصوں میں لوگ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے حوالے سے تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں اور ہم یہ دن خوں رستے زخموں کی مرہم پٹی میں گزارتے ہیں۔
آپ دن دنوں میں انٹرنیٹ کو ذرا کنگھالیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ چین میں سال کا سب سے بڑا کرسمس بازار سجایا جا رہا ہے جس میں ثقافتی، تہذیبی اور لسانی بنیادوں سے آزاد نئے سال کو خوش آمدید کہنے اور منانے کے حوالے سے تمام تر لوازمات بازار کی رونقوں میں شامل ہیں۔
نیویارک ٹائمز اسکوائر کے عین بیچ میں نصب گھڑیال کی ٹک ٹک راہ چلتے لوگوں کو خاصی محظوظ کر رہی ہے کیونکہ ٹک ٹک کی یہ آواز کسی گزرتے وقت کی اداسی کم اور آنے والے نئے سال کی خوشی زیادہ بانٹ رہی ہے۔
پیرس میں آئفل ٹاور کے گرد ’19’ کا رنگ برنگا اور خوش نما ہندسہ پیرس کے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے سیاحوں میں بھی نئی مسرتیں بانٹ رہا ہے یہاں ہر سال نئے سال کی خوشی میں فرینچ کے روایتی ‘لافٹر سٹریٹ تھیٹر’ کا فری میں اہتمام کیا جاتا ہے۔
لیکن۔۔۔!
اس لاسلکی دنیا سے باہر آنے پر ہمارے یہاں کا کڑوا سچ یہ ہے کہ ‘ہم دسمبر میں مسکرا نہیں سکتے’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں