774

فکرِ اقبالؒ ، عشق رسول ﷺ اورامّتِ مسلمہ!!

تحریر: شاہد مرتضیٰ چشتی

علامہ اقبال کی شخصیت کے کئی پہلو ہمارے سامنے ہیں ۔ شاعر، فاضل،مفکر، مدبر،عظیم قومی راہنما، فلسفی،رازدان مشرق،مزاج شناس مغرب،رمز شناس فطرت،اور سب سے بڑ ھ کر سچے عاشق رسول۔ اور یہی آخر الذکر پہلو تھاجس نے اقبال کی شخصیت کی تعمیر نو کی اور پھر اقبال “بلند اقبال بن گئے اور پکار اٹھے۔
؂ سیاہ کار تھے باصفا ہوگئے ہم ترے عشق میں کیا سے کیا ہوگئے ہم
فکرِاقبالؒ کی جولانیاں مختلف ادوار میں مختلف عقائد ونظریات کے گرد بھٹکتی رہیں۔ کبھی یونانی فلاسفروں کے نظریہ عقلیات کے گرد پرواز کی ، کبھی فرانسیسی فلسفی برگساں کے نظریہ عقل وعمل کو پسند کیا۔ کبھی غزالی، رازی وبوعلی سینا کے گرویدہ ہوئے تو کبھی لینن کا مطالعہ کیا لیکن روح اقبال تھی کہ چین حاصل نہ کرپائی۔ وہ ہمہ وقت کسی صاحب خودی،کسی فقیر، کسی مرد مومن ،انسان کامل کی تلاش میں دربدر کی خاک چھانتے رہے لیکن جب نیٹشے کے نظریہ فوق البشر سے بھی مایوس ونامراد ہوئے تو مدہوش اقبال رومیؒ کے در پر آن پہنچے جنہوں نے اقبال کو بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں پیش کردیا جب فکر اقبال نے مقام مصطفی ﷺ ، سیرت اور نور محمدی ﷺ کا نظارہ کیاتو ورطہ حیرت میں غرقاب ہوگئی اور جب زراہوش میں آیا تو پکار اٹھی۔
لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب گنبد آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حجاب
علامہ اقبال کو بالآخر محمد عربی ﷺ کی صورت میں اپنا صاحب خودی، مرد مومن، انسان کامل ملا تو وہ ہزار جان سے فداہوگئے اور ان کے رگ وپے میں عشق ہی عشق سرایت کرگیا۔کون ومکاں کی حقیقت وماہیت کے راز کھلے تو وہ غلام مصطفی، مفسر قرآن اور ملت اسلامیہ کے ترجمان بن گئے۔ پھر ان کو خاک و عشق،تعمیر وتخلیق، قوت و حیات نیز زندگی کا جو بھی شرارہ پھوٹتا نظر آیا سب میں جلال وجمال مصطفی ﷺ ہی کا کرشمہ نظر آیا۔اقبال کو ذات رسالت مآب ﷺ سے والہانہ عشق تھا، ان کی نگاہ میں جلوہ مصطفی ﷺ بس چکا تھا، اور دل نورِ مصطی ﷺ سے مزین ہوچکا تھا۔ ان کی زبان ثناء خوان مصطفی ﷺ بن چکی تھی۔ سیرت رسول کا کوئی گوشہ بھی اب ان سے پنہاں نہیں رہا تھا۔ جب بھی اور جہاں کہیں ذکر مصطفی ہوتا تو اقبال کی آنکھیں گوہر ہائے اشک بہانے لگتیں اور بے خودی کے عالم میں پکارنے لگتے۔
چوں بنام مصطفی خانم درود درخجالت آب می گردد وجود
ذکر رسول ﷺ کا ترانہ بھی زبان اقبال پر جاری ہوتا تو ان کی بے خودی ، سرخودی ،وارفتگی اور والہانہ جذب وکیف کا عالم دیدنی ہوتا۔ ذکرِ جمیل ﷺ ان کے ذوق میں ولولہ پیدا کردیتا اور اس عالم میں ان کی ذبان سے اشعار کی بارش ہونے لگتی۔ اشعار کے کیف و سرور کی کیفیت عجیب ہوجاتی ، جو نگاہوں میں ذوق ومستی، دلوں میں سوزوگداز، خیالات میں بے خودی، ہوشیاری اور لہجے میں تب وتاب عارفانہ پیدا کردیتی۔ ذراغور سے سنئے اقبال کہ رہے ہیں۔
نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں وہی طہ
اقبال نے ساری زندگی عشق رسول کو اپنا حرز جاں بنائے رکھا۔آخر جب نزع عالم طاری ہوا، ہونٹوں میں لرزش پیدا ہوئی، دھیمی دھیمی آواز آئی۔ اقبال کا ذاتی ملازم علی بخش کان لگا کرعاشق رسول کے آخری الفاظ سننے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ آخری الفاظ علامہ اقبال کے عشق رسول ﷺ کی گواہی دے گئے۔ جو یہ تھے۔
نسیما جانب بطحا گزر کن محمد را بہ احوالم خبر کن
یہ تھے اقبالؒ اور ان کے نظریات وخیالات جو ان کی زندگی کی معراج اور حاصل زندگی تھے۔جن خیالات ونظریات کی چھان پھٹک کرکے اقبال جیسی ہستی جسے تاریخ حکیم الامت کے نام سے یاد کرتی ہے کو مسترد کرکے عشق رسول اور ذات رسول اور تعلیمات رسول پر جا کر قرار حاصل کرپائی۔ آج پھر نام نہاد ترقی پسند تحریکات ہمیں انہی مسترد شدہ نظریات کی طرف لے کرجانے کی تگ ودو میں مصروف عمل ہیں لیکن شاید ان کو ادراک نہیں اقبال کے شاہینوں کے دلوں سے عشق رسول کی شمع بجھانے کی ہر کوشش کا انجام سوائے ناکامی کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ ایسے وہ لوگ جو اپنی ذات، تصورات، خیالات اور اپنے خاندان کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ وہ بڑھ چڑھ کے ارب ہا مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن اور ان کے ہر رشتہ اور تصور سے زیادہ اہم اور عظیم ہستی کے خلاف لایعنی بکواس کرنے والے سن لیں کہ دنیا اور آخرت کی رسوائی ان کامقدر ہوگی۔ سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا یاالیکٹرانک میڈیا ہو یا کوئی بھی پلیٹ فارم کسی بھی سطح پرایک ادنیٰ سے ادنیٰ ذات کے خلاف بے بنیادتضحیک اور ملامت پرمبنی مواد کی اشاعت خواہ وہ کسی مذہب ومسلک یا گروہ کے خلاف ہوکم از کم ایک مسلمان کیلئے ناقابل قبول ہے چہ جائیکہ اتنی بڑی ہستی کے خلاف ہرزہ سرائی ۔ لہٰذا ایسے تمام لوگوں کو ایسی تمام حرکتوں سے باز آجانا چاہیئے اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کو قانون کے شکنجے میں کس کران کے جرم کے مطابق قرار واقعی سزا دے ۔ یہی ہمارے ریاست پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے اور خاص طور پر موجود وقت جب کہ امن وامان کامسئلہ اپنے پورے پر پھیلا کر دہشت وبربریت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں