344

پھر دکھ تو ہوتا ہے۔۔۔؟ ۔۔۔ (پیر توقیر رمضان)

تحریر: پیر توقیر رمضان

ملکی معاملات، حکومت کے نشیب و فراز، جہانداری، آئین و قوانین، تعمیر و ترقی کے دعوے اور دلفریب تقاریر کوحرف عام میں سیاست کہتے ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت نے حکومت میں آنے سے قبل کیے دعوے آج تک پورے نہیں کیے، جلسے بھی ہوئے، تقاریریں بھی سنیں، وعدے بھی ہوئے، ووٹ بھی ملے مگر نقصان ہوا تو ہمیشہ ایک غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکن کا، گزشتہ کچھ عرصہ میں ہونیوالے سیاسی جلسوں کی تیاریوں کا احوال کچھ یوں دیکھنے کو ملا، جلسہ کامیاب ہوتو پارٹی کی طرف سے ہمیشہ ہی مقامی راہنماؤں کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں مگر مقامی راہنما یا مرکزی قائدین اپنے ماتحت کام کرنیوالے پارٹی کے مخلص کارکنان کو شاباش تک دینا ناگوار سمجھتے ہیں، مگر ہاں اگر جلسہ ناکام ہوتو یہی بڑے لیڈر ایک پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکن پر یوں گرجتے ہیں جیسے کوئی مالک ملازم کی کلاس لگاتاہے۔

جلسے کی تیاری میں رات اوردن کا فرق نہ دیکھ کر کارکنان نے پنڈال کو سجایا، بینرز لگائے اور لائٹیں لگا کر مقامی لوگوں کو جلسے میں شرکت کی دعوتیں رات گئے تک دیں اور صبح ہوتے ہوئے اسی پنڈال میں بڑی گاڑی پر سوار ہو کر مقامی رہنما پہنچے اور پنڈال گاہ میں تیاریوں کا جائزہ لیا جائزہ توکیا فوٹو سیشن کہنا غلط نہ ہو گا اور پھر وہاں سے چل پڑے، پارٹی سے مخلص کارکنان نے مقامی راہنماؤں کی جلسے سے عدم دلچسپی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تمام تر قوتیں بغیر کسی پرواہ کے جلسے کی تیاری میں صرف کردیں۔ کوئی بجلی کی ہائی وولٹیج تاروں کے ساتھ لٹک کر بینرز آویزاں کررہا ہے تو کوئی پنڈال میں کرسیاں لگانے میں محو ہے، اسی طرح جلسے کی تیاریوں کا سلسلہ دو دن تک جاری رہا اس دوران یہ کارکنان اپنے گھر اور فیملی کو بھول کر پارٹی سے وفاداری کا اظہا رکررہے تھے، دو دن کے مختصر سے وقت میں شہر کے بڑے بڑے تشہیری بورڈز پر اس پارٹی کے بینرز آویزاں ہوتے نظر آئے، کیبل کے تشہیری چینلز پر بھی پارٹی قائدین کی آمد پر خوش آمدید کے اشتہارات نشر ہوتے دیکھے گئے۔ ان تیاریوں کے سلسلے میں یہ دو دن کا وقت یوں گزرا کہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوااور وہ دن آن پہنچا جس دن پارٹی کے قائدین کارکنان کے خلوص سے سجائی جانیوالی پنڈال یعنی جلسہ گاہ میں جلسہ سے خطاب کرنیوالے تھے، گزشتہ کچھ دنوں سے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر اسی پنڈال کی سڑک پر سونے، جاگنے، اٹھے، بیٹھنے اور سڑک پر ہی کھانے پینے والے کارکنان کی جگہ پر اب مقامی پولیس نے سیکورٹی انتظامات کی آڑ میں لے لی، صبح ہوتے ہوئے اہلکاروں کی بڑی تعداد ہاتھوں میں اسلحہ تھام کر جلسہ گاہ میں آن پہنچی اور مخلص کارکنان سے وہی روایتی ہٹ دھرمی اور دھکم پیل کے مرحلے کا باقاعدہ طور پر آغاز کردیا گیا۔

کسی نے انتہائی خلوص سے کیے جانیوالے کارکنان کے انتظامات کو تنقید کا نشانہ بنایا تو کسی نے کارکنان کو پنڈال سے نکالنے کی کوشش شروع کردی، اسی دوران دو دن قبل بڑی گاڑی پر آنیوالے صاحب بھی آج پھر تین چار سیکورٹی گارڈزکو ساتھ لے کر اسی جلسہ گاہ میں آن پہنچے آج تو ان صاحب نے گاڑی سے نکل کر کارکنان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے گاڑی میں بیٹھ کر ہی شیشہ ڈاؤن کیا اور انگلی کے اشارے سے پولیس اہلکار کو بلوا کر انہیں ہی شاباش دینی شروع کردی، فوٹو سیشن کے لیے آنیوالے ان صاحب نے اس سے بڑا ظلم یہ کیا کہ وہ کارکنان جو ان سے کئی حد تک زیادہ پارٹی کے ساتھ مخلص تھے ان کا حال دریافت کرنے کی بجائے انہیں بھی برا بھلا کہہ کر پولیس کی ماننے کو کہا اور پھر وہ وہی روایتی راستہ اختیار کیا اور چل پڑے اور اس کے بعد اپنے ہاتھوں سے جلسہ گاہ میں ایک ایک کرسی لگانے والے اب دل میں بوجھ لیے جلسہ گاہ سے باہر نکالے جانے لگے.

موسمی صورتحال کے باعث ابھی تک جلسہ گاہ میں ساؤنڈ سسٹم نہیں لگایا گیا تھا اور کارکنان بھی وہاں سے جا چکے تھے تو مقامی راہناؤں نے اپنے دو چمچوں کو یہ ذمہ داری سونپ کر پنڈال میں بھیج دیا جنہوں نے آکر سیلفیاں بنائیں اور قائدین کے معمول پر پورا اترے اور وہاں سے چل دیئے، شام ہوئی تو پارٹی کے کارکنان نے جلسہ گاہ کے قریبی علاقے سے دکانداروں اور لوگوں کو اپنے موٹرسائیکلوں اور سائیکلوں پر لاد کر پنڈال میں چھوڑنا شروع کردیا، مرکزی قائدین کے اپنے علاقے سے نکلنے کی اطلاع موصول ہونے پر تیاریوں کا عمل مزید تیز کر دیا گیا، قائدین کی آمد کے وقت سے بے خبر کارکنان اپنے سواریوں کو گدھا گاڑی بنا کر لوگوں کو جلسہ گاہ میں چھوڑ نے میں مصروف رہے اور بعد میں پھولوں کے بڑے بڑے شاپر ہاتھوں میں تھام کرپنڈال سے دو سے اڑھائی کلو میٹر دور سڑک پر قائد کے استقبال کے لیے بے چین جا کھڑے ہوئے، وقت کم ہونے اور پنڈال میں تاحال ساؤنڈ سسٹم چالو نہ ہونے کی اطلاع ملنے پر مقامی راہنماؤں پر سکتا طاری ہونے لگا اور سب رہنما باری باری کارکنان کو فون کر کے برا بھلا کہنے لگے اور انہیں پنڈال میں واپس بلوا لیا گیا، مقامی راہنماؤں کے ساتھ ساتھ پنڈال میں سیلفیاں بنا کر بھاگنے والے ان کے چمچے بھی پر خلوص کارکنان پر بہت گرجے، لوگوں کے جم غفیر کے سامنے گھر سے تیار ہونیوالے آنیوالے کارکنان ایک بار پھر ساؤنڈسسٹم کو چالوکرنے کے لیے شروع ہوگیا، کوئی اسٹیج پر چڑھا تو کسی نے دیوارکا سہارا لے کر بجلی کا کنکشن چالو کیا آخر کار ساؤنڈ سسٹم چل پڑا اور مقامی رہنما باری باری اسٹیج پر براجمان ہونے لگے اور مائک کے سامنے کھڑے ہوکر فوٹو سیشن میں محو دیکھائی دیئے۔

پھولوں کے شاپر لے کر کارکنان پھر شہرسے چند کلو میٹر کی مسافت طے کر کے باہر گئے اور کئی گھنٹے سڑک پر استقبال کے لیے بے چین نظر آئے، کئی گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد تقریبا پچاس گاڑیوں کے پروٹوکول کو ساتھ لے کرلیڈر بھی آن پہنچا تو کارکنان نے پتیاں نچھاور کرنا شروع کردیں، اسی دوران ایک کارکن جیب سے موبائل نکال کر اپنے قائد کے ساتھ سیلفی بنانے کی غرض سے گاڑی کے سائیڈ پر لگے شیشے کی جانب بڑھا تو گارڈ نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اسے زور سے دھکا دے مارا، یہ امر دیکھ کر کارکنان کے دل میں بسنے والا سیلفی کا ارمان ٹوٹ گیا، اس کے موٹرسائیکلوں پر سوار یہی جیالے اپنے قائد کے گاڑی کے آگے اور پیچھے ریلی کی شکل میں پنڈال میں پہنچے تو پولیس اور سیاسی رہنماؤں کے چمچوں نے کارکنان کو دھکے مارنے شروع کردیئے، پارٹی کا قائد اسٹیج پر پہنچا تو قریبی بیٹھے سیاسی راہنماؤں نے اپنی تعریفوں کے پل خود ہی باندھنے شروع کردیئے، ایک صاحب بولے میں نے دو دن سے اس پنڈال سے نکلا ہی نہیں۔ اس کے بعد قائد کو مائک کے سامنے کھڑا کیا گیا تو دھکے کھانے والے کارکنان نے ہی اسے تالیاں بجا کر پنڈال کے لوگوں کے لہو گرما دیئے، بس پھر کیا تھا مائک پر کھڑے وہ صاجب بیس منٹ اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہے اور بعد میں اعلی انتظامات پر کبھی پنڈال میں قدم نہ رکھنے والے مقامی راہنماؤں کو داد بھی دے ڈالی اور پھر وہاں سے بھاگ نکلے۔ کچھ کارکنان نے سیلفی بنوانے کی بات کی تو مقامی راہنماؤں نے ان کی بات کو تمسخر میں بدل دیا اور پھر وہ بھی نکل پڑے اور بے بس کارکنان ہاتھ پر ہاتھ دھرے جوں کے توں بیٹھے رہے۔ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اگر یہی سلوک ہو تو پھر دکھ تو ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں